خلیفہ دوم حضرت عمر نے حکم تیمم کی صریحاً خلاف ورزی کی اور صحابہ کرام کو حکم دیا کہ اگر حالت جنابت میں پانی میسر نہیں تو تیمم کرنے کی بجائے نماز ترک کر دیں
قرآن مجید کی صریح آیت اور رسول اسلام کا واضح دستور اس بارے میں موجود ہے کہ جب انسان مجنب ہو جائے اور پانی کا حاصل کرنا ممکن نہ ہو، یا پانی کا استعمال ضرر رساں ہو، تو ان مقامات پر انسان کے اوپر واجب ہے کہ وہ تمیم کرکے اپنی عبادت بجالائے جب تک کہ عذر زائل نہ ہو جائے لیکن جب یہ قضیہ حضرت عمر کے سامنے پیش کیا گیا تو بجائے اس کے کہ آپ اس صورت میں حکم تیمم بیان کرتے جو قرآن وحدیث شریف میں صراحت کے ساتھ وارد ہوا ہے ، آپ نے فوراً" لا تصل" کا علی الاعلان حکم صادر فرمادیا یعنی نماز نہ پڑھے !! اتفاقا عمار یا سر اس وقت موجود تھے لہذا آپ نے خلیفہ وقت پر اعتراض کیا اور فرمایا : ایسی صورت میں تیمم کر کے انسان اپنی عبادت بجالائے گا اور یہ بات روایات نبوی سے ثابت ہے، لیکن خلیفہ صاحب کو عمار یاسر کی بات پر اطمینان نہ ہوا اور الٹے عمار یا سر کو تہدید کرنے لگے ! جس کی وجہ سے عمار یا سر کو یہ کہنا پڑا کہ اگر خلیفہ صاحب مصلحت نہیں سمجھتے تو میں اپنی بات واپس لیتا ہوں !! مذکورہ روایات ملاحضہ فرمائیں
عبد الرحمن بن ابری اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عمر کے پاس آیا اور کہنے لگا: مجھے جنابت ہوئی اور پانی نہ ملا آپ نے فرمایا: نماز نہ پڑھنا۔ عمار نے کہا: اے امیر المومنین! تم کو یاد نہیں، جب میں اور آپ لشکر کے ایک ٹکڑے میں تھے پھر ہم کو جنابت ہوئی اور پانی نہ ملا، آپ نے تو نماز نہیں پڑھی لیکن میں مٹی میں لوٹا اور نماز پڑھ لی۔ رسول اللہ ص نے فرمایا: تجھے کافی تھا اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارنا پھر ان کو پھونکنا پھر مسح کرنا منہ اور دونوں پہنچوں پر ۔" حضرت عمر نے کہا: اللہ سے ڈر اے عمار! (یعنی سوچ سمجھ کر حدیث بیان کر) عمار رض نے کہا: اگر آپ کہیں تو میں یہ حدیث بیان نہیں کروں گا ( اگر اس کے چھپانے میں کچھ مصلحت ہو اس لیے کہ خلیفہ کی اطاعت واجب ہے ) ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر نے کہا: تمہاری روایت کا بوجھ تمہارے ہی اوپر ہے۔
(صحیح مسلم / انٹرنیشنل نمبرنگ : 820)
مذکورہ روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں منقول ہے، لیکن امام بخاری نے اپنے شدید تعصب کی بنا پر اس روایت میں کاٹ چھانٹ فرمادی ہے اس روایت میں حضرت عمر کا جواب ( لا تصل ) کو حذف کر دیا ہے: ملاحضہ فرمائیں
حضرت شقیق بن سلمہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: میں حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابوموسیٰ اشعری کے پاس تھا جب حضرت ابو موسیٰ نے حضرت ابن مسعود سے کہا: اے ابو عبد الرحمن ! آپ کی کیا رائے ہے، اگر کسی کو جنابت لاحق ہو جائے اور اسے پانی نہ ملے تو وہ کیا کرے؟ حضرت عبداللہ بن مسعود نے جواب دیا: جب تک پانی نہ ملے وہ نماز نہ پڑھے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے کہا: آپ حضرت عمار کے اس قول کی کیا تاویل کریں گے جب نبی ص نے ان سے فرمایا تھا: ”تمھیں (چہرے اور ہاتھوں کا مسح) کافی تھا "حضرت عبداللہ بن مسعود صلی اللہ نے جواب دیا: کیا تم نہیں جانتے کہ حضرت عمر کو حضرت عمار رضی اللہ کی اس روایت سے اطمینان نہیں ہوا تھا ؟ حضرت ابوموسی اشعری نے فرمایا: حضرت عمار ہی کی روایت کو جانے دیجیے۔ قرآن مجید میں جو آیت تیم ہے اس کا کیا جواب ہے؟ اس پر حضرت ابن مسعود لا جواب ہو گئے، فرمانے لگے: اگر ہم نے لوگوں کو اس کے متعلق رعایت دے دی تو عجب نہیں کہ جب کسی کو پانی ٹھنڈا محسوس ہو گا تو وہ اسے استعمال کرنے کے بجائے تیمم کر لیا کرے گا۔
(راوی حدیث حضرت اعمش کہتے ہیں:) میں نے (اپنے شیخ ابو وائل ) شقیق بن سلمہ سے کہا: حضرت ابن مسعود اسی وجہ سے تیمیم کی اجازت نہیں دیتے تھے؟ ابو وائل نے
جواب دیا: ہاں ایسا ہی ہے۔
(صحیح بخاری / انٹرنیشنل نمبرنگ : 345 ، 346 ، 347)
متذکرہ روایت پر بعض علمائے اہل سنت نے اس واقعہ کو دوسرے انداز میں پیش کرنے کی بیجا کوشش کی ہے، تا کہ اپنے خلیفہ کی کچھ خدمت اور ان کے علمی مقام کا دفاع کر سکیں کہتے ہیں: حضرت عمر کا یہ اعتراض ان کے اجتہاد کی بنا پر تھا اور یہ ان کا اپنا ذاتی نظریہ اور اجتہاد تھا کبھی کہا جاتا ہے: خلیفہ صاحب کو اس بارے میں اس وجہ سے ہدف تنقید نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ آپ حدیث رسول فراموش کر گئے تھے ، ان کے اوپر نسیان غالب آگیا تھا ، جس کی وجہ سے وہ عمار کو اس طرح تہدید کر رہے تھے.
.jpeg)


.jpeg)
تبصرے