کیا امام مہدی [علیہ السلام] کے والد کا نام عبد اللہ ہے؟ | ایک الزام کا جواب


کیا امام مہدی [علیہ السلام] کے والد کا نام عبد اللہ ہے؟ | ایک الزام کا جواب

علماء اہل سنت کی ایک جماعت نےامام مہدی علیہ السلام کے بارے میں شیعہ نظریہ کو رد کرنے کی خاطر یہ ادعا کیا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کے والد ماجد کا نام روایات کے مطابق عبد اللہ ہے ۔

انھیں علما ء میں سے ایک وھابیت کے بانی ابن تیمیہ نے اپنی کتاب منہاج السنہ میں بیان کیا ہے کہ :


أن الاثنى عشرية الذين ادّعوا أن هذا هو مذهبهم، مهديهم اسمه محمد بن الحسن. والمهدي المنعوت الذي وصفه النبي صلي الله عليه وسلم اسمه محمد بن عبد اللّه‏. ولهذا حذفت طائفة ذكر الأب من لفظ الرسول حتى لا يناقض ما كذبت. وطائفة حرّفته، فقالت: جده الحسين، وكنيته أبو عبد اللّه‏، فمعناه محمد بن أبي عبد اللّه‏، وجعلت الكنية اسما.

شیعہ اثناعشری یہ ادّعا کرتے ہیں کہ انکا مذھب بارہ امامی ہے انکے مہدی کا نام م ح م د بن الحسن ہے جبکہ در حقیقت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ نے جس مہدی کا بیان فرمایا ہے وہ محمد بن عبد اللہ ہے اسی وجہ سے شیعہ کے ایک گروہ نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ کی روایات سے جملہ اسم ابيہ اسم ابي کو نکال دیا ہے تاکہ انکے جھوٹ سے نہ ٹکرائے اور اسکی نفی نہ کرے اور شیعہ کے ایک گروہ نے روایت میں بھی یہ تحریف کردی ہے کہ مہدی کے جد کا نام حسین [ع]اور انکے جد کی کنیت ابو عبد اللہ ہے پس اسکا معنی اس طرح ہوا نام مہدی "محمد بن ابی عبدا للہ " نام کی جگہ کنیت لگادی ۔

ابن تيميه الحراني الحنبلي، ابوالعباس أحمد عبد الحليم (متوفاى 728 هـ)، منهاج السنة النبوية، ج8،* ص254 ـ 260، تحقيق: د. محمد رشاد سالم، ناشر: مؤسسة قرطبة، الطبعة: الأولى، 1406هـ.

اسی کتاب میں دوسرے مقام پر لکھتے ہیں :

وأحاديث المهدي معروفة، رواها الإمام أحمد وأبو داود والترمذي وغيرهم، كحديث عبد الله بن مسعود عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: لو لم يبق من الدنيا إلا يوم لطول الله ذلك اليوم حتى يبعث فيه رجلا من أهل بيتي يواطئ اسمه اسمي واسم أبيه اسم أبي، يملأ الأرض قسطا وعدلا كما ملئت ظلما وجورا.

مہدی کی روایات مشہور و معروف ہیں کہ جسے امام احمد بن حنبل ، ابو داود ، ترمذی اور دیگران نے نقل کیاہے مثلا روایت عبد اللہ بن مسعود ہے کہ : حضرت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا: اگر دنیا کے فنا ہونے میں ایک دن بھی باقی رہ جائے تو اللہ اس دن کو اتنا طولانی کردے تاکہ میرے اہل بیت میں سے ایک مرد کو بھیجے جس کا نام میرے نام پر اور انکے والد کا نام میرے والد کے نام پرہوگا وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دینگے جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی ۔

ابن تيميه الحراني الحنبلي، ابوالعباس أحمد عبد الحليم (متوفاى 728 هـ)، منهاج السنة النبوية، ج4، ص95، تحقيق: د. محمد رشاد سالم، ناشر: مؤسسة قرطبة، الطبعة: الأولى، 1406هـ.


اہل سنت کے بعض علماء نے ابن تیمیہ کی بات کو دوہرایا ہے جسے اختصار کی خاطر ترک کردیتے ہیں


کلام ِابن تیمیہ سے دو اعتراض معلوم ہوتے ہیں :

1. امام مہدی کے نسب سے متعلق شیعہ عقیدہ روایات سے مطابقت نہیں رکھتا ہے ۔

2. شیعہ اپنے عقیدے کو روایات سے مطابقت دینے کے لئے آخری جملہ حذف کرتے ہیں یا تحریف ۔


اس اعتراض کا جواب دینے سے پہلے یہ نکتہ سامنے رکھنا چاہئے کہ ابن تیمیہ نےاپنے استدلال میں ایسی روایت کا سہارا لیا ہے جو شیعہ حضرات کے نزدیک حجت نہیں ہے اور شیعہ انھیں کوئی اہمیت نہیں دیتے ہیں اس بناء پر ابن تیمیہ اور انکے چیلے ایسی روایت سےجسے انھوں نے شیعہ دشمنوں سےنقل کیا ہے ،شیعہ پر حجت قائم نہیں کر سکتے ہیں اور انھیں قبول کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے ہیں۔ اور نیز ہم اگلی سطروں میں یہ بھی ثابت کردینگے کہ یہ روایات خود اہل سنت کے لئے بھی حجت نہیں ہے ۔


مختصر جواب

ہم ابتداء میں اعتراض ِدوم کا جواب اہل سنت کی صحیح السند روایات سے دینگے اور ثابت کرینگے کہ عبارتاسمہ اسمي بغیر کسی اضافہ [اسم ابیہ ۔۔۔]کے ساتھ اہل سنت کی کتب میں ذکر ہوئی ہیں جس میں کم از کم دو طریق اہل سنت کے ہاں صحیح السند مانے جاتے ہیں اور یہ روایات متعدد صحابہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ سے نقل ہوئی ہیں جن میں سے عبد بن مسعود ، ابو ہریرہ ، حذیفہ ، ابن عباس ، ابو سعید خدری ، اور عبداللہ بن عمر ہیں ۔

روایات کا یہ دستہ صحیح سند ہونے کے ساتھ ساتھ حدّ استفاضہ تک پہونچا ہوا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ روایات صحیح ہیں ۔

اس بناء پر یہ کہنا کہ شیعہ حضرات نے اپنے عقیدہ کو ثابت کرنے کے لئے تحریف کی ہے سراسر کذب اور باطل ہے کیونکہ شیعہ کا عقیدہ اہل سنت کی اس قسم کی روایات کے عین مطابق ہے۔

دوسرے مرحلے میں ہم یہ بیان کرینگے کہ وہ روایات جس میں اسم ابيہ اسم ابي کا اضافہ ہے اس کے تمام طرق سوائے ایک طریقہ {طریقہ مشہور } ضعیف ہیں اور وہ ایک طریق بھی ایک مضطرب الحدیث راوی سے ہے اس نے کبھی اضافہ کے ساتھ اور کبھی بغیر اضافہ کے ساتھ نقل کیا ہے اس بناء پر یہ روایت اس اضافہ کو ثابت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے حتی کہ علماء اہل سنت نے صراحت کے ساتھ یہ کہہ دیا ہے کہ اس کی روایت اضطراب کی وجہ سے کوئی حجیت اور اہمیت نہیں رکھتی ہے! ۔


اسی طرح اگلی سطروں میں بیان کرینگے کہ علمائے اہل سنت ، ابن تیمیہ کے برخلاف اس اضافہ کو مہدویت کے جھوٹے دعویداروں کی طرف نسبت دیتے ہیں تاکہ خود کو مہدی موعود ظاہر کر سکیں یا حد اقل شیعہ عقیدہ کو جھٹلانے کی کوشش کریں!


تفصیلی جواب

پہلی قسم :معتبر روایات اہل سنت واسم ابيہ اسم ابي جملہ کے بغیر

وہ روایات جس میں فقط جملہ اسمہ اسمي ہے ، متعدد طرق سے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ سے نقل ہوئی ہیں

الف) ابو هريره کے طریق سے با سند صحيح :

وہ صحابی جس نے اس روایت کو سند صحیح کے ساتھ بغیر جملہ اسم ابيہ اسم ابي نقل کیا ہے ، ابو ہریرہ ہیں اور کافی بزرگ علمائے اہل سنت نے اپنی کتب میں اس روایت کو نقل کیا ہے :

1. ابو عيسي ترمذي:

ترمذى معروف محدث اہل سنت نے اپنی سنن میں ابتداء میں عبد اللہ بن مسعود کی روایت نقل کرنے کےبعد اس روایت کو نقل کیاہے اور صراحت سے بیان کیا ہے کہ یہ روایت حسن اور صحیح ہے


حدثنا عبد الْجَبَّارِ بن الْعَلَاءِ بن عبد الْجَبَّارِ الْعَطَّارُ حدثنا سُفْيَانُ بن عُيَيْنَةَ عن عَاصِمٍ عن زِرٍّ عن عبد اللَّهِ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: يَلِي رَجُلٌ من أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي قال عَاصِمٌ وأنا أبو صَالِحٍ عن أبي هُرَيْرَةَ قال: لو لم يَبْقَ من الدُّنْيَا إلا يَوْمٌ لَطَوَّلَ الله ذلك الْيَوْمَ حتى يَلِيَ...
قال أبو عِيسَى: هذا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
.
ابن مسعود کہتے ہیں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا : میرے اہل بیت میں سے ایک مرد کہ جس کا نام میرے نام پر ہوگا تشریف لائیں گے اور ابو ہریرہ کے نقل کے مطابق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا : اگر دنیا کے فنا ہونے میں اگر ایک دن بھی باقی رہ جائے اللہ اسےاسے اتنا طولانی بنا دیگا تاکہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کہ جس کا نام میرے نام پر ہوگا ، آجائے
ترمذی نے کہا ہے :* یہ روايت حسن و صحيح ہے .
الترمذي السلمي، ابوعيسي محمد بن عيسي (متوفاى 279هـ)، سنن الترمذي، ج4، ص505، تحقيق: أحمد محمد شاكر وآخرون، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.

سند روايت کی تحقیق:
خود ترمذي نے اس روايت کو صحيح قرار دیا اور الباني نے بھی اس روایت کو صحیح مانا ہے لیکن اس کے باجود اس کی سند پر تحقیق کرتے ہیں تاکہ اعتراض کی گنجائش باقی نہ رہے
سند اس طرح ہے :
1- ترمذي 2- عبد الجبار بن العلاء 3- سفيان بن عيينة 4- عاصم بن بهدلة 5- ابو صالح 6- ابي هريرة 7- رسول خدا صلي الله عليه وآله وسلم
1- محمد بن عيسى بن سورة، أبو عيسى الترمذى صاحب سنن
ترمذی صحاح ستہ کے کی ایک کتاب کے مولف ہیں اور اہل سنت کے ہاں انکی وثاقت یقینی ہے اور اس میں شک کی گنجائش نہیں ہے
2- عبد الجبار بن العلاء بن عبد الجبار العطار
یہ صحيح مسلم کے راویوں میں ہیں ، ذهبي نے اس کے بارے میں کہا ہے :
عبد الجبار بن العلاء بن عبد الجبار الإمام المحدث الثقة أبو بكر البصري
عبد الجبار بن علاء بن عبد الجبار، امام، محدث، ثقه...
الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفاى 748 هـ)، سير أعلام النبلاء، ج11، ص401، تحقيق: شعيب الأرنؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ.
3- سفيان بن عيينة بن أبي عمران بن ميمون
اس کی روایات صحاح ستہ اہل سنت میں موجود ہیں ، ذهبي نے انکے بارے میں کہا ہے :
الإمام الكبير حافظ العصر شيخ الإسلام
امام کبیر، حافظ زمانہ، شيخ الاسلام و...
الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفاى 748 هـ)، سير أعلام النبلاء، ج8، ص454، تحقيق: شعيب الأرنؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ.
4- عاصم بن بهدلة ابي النجود الاسدي الکوفي
یہ قرآء ثمانیہ میں سے ہیں اور صحاح ستہ کے راوی ہیں.
ذهبي انکے بارے میں کہتا ہے :
الإمام الكبير مقرىء العصر
امام کبیر اور مقرء زمانہ (مقرء اسے کہتے ہیں جس تک اپنے زمانے کی تمام قرائت پہوبچتی ہوں)
الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفاى 748 هـ)، سير أعلام النبلاء، ج5، ص256 ش 119، تحقيق: شعيب الأرنؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ.
5- ذكوان أبو صالح السمان الزيات المدنى
یہ بھی اہل سنت کی صحاح ستہ کے راوی ہیں انکے بارے میں ذھبی لکھتے ہیں:
القدوة الحافظ الحجة... ذكره الإمام أحمد فقال ثقة ثقة من أجل الناس وأوثقهم
امام، حافظ، حجت... امام احمد نے انھیں یاد کر کے کہا ثقہ ثقہ ہے اور تمام لوگوں سے زیادہ قابل احترام ہے اور لوگوں میں سب سے زیادہ قابل بھروسہ ہیں
الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفاى 748 هـ)، سير أعلام النبلاء، ج5، ص36، تحقيق: شعيب الأرنؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ.
6- ابوهريره:
یہ مشہور ترین صحابی اور راوی ہیں اور اہل سنت کی نظر میں رجالی بحث کے محتاج نہیں ہیں
اس بناء پر یہ روایت سند کے اعتبار سے کوئی مشکل نہیں رکھتی ہے اور صحیح ہے
2. ابن اثير جزري:
ابن اثير جزرى نے اس روايت ابو هريره کو سنن ترمذی سے نقل کیا ہے .
ابن أثير الجزري، المبارك بن محمد ابن الأثير (متوفاى544هـ)، معجم جامع الأصول في أحاديث الرسول، ج10، ص330، طبق برنامه الجامع الكبير.
3. جلال الدين سيوطي:
جلال الدين سيوطى روايت ابو هريره کو كتاب الفتح الكبير اور جامع الاحاديث اس طرح سے نقل کیا ہے :
رسول خدا صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
لاَ تَذْهَبُ الدُّنْيَا وَلاَ تَنْقَضِي حَتَّى يَمْلِكَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِىءُ اسْمُهُ اسْمِي.
السيوطي، جلال الدين عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفاي911هـ)، الفتح الكبير في ضم الزيادة إلى الجامع الصغير، ج3، ص306، تحقيق: يوسف النبهاني، دار النشر: دار الفكر- بيروت / لبنان، الطبعة: الأولى، 1423هـ - 2003م
السيوطي، جلال الدين أبو الفضل عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفاى911هـ)، جامع الاحاديث (الجامع الصغير وزوائده والجامع الكبير)، ج8، ص157، طبق برنامه الجامع الكبير.

سیوطی نے روايت ابو هريره کو الفتح الكبير، اس عبارت کے ساتھ نقل کیا ہے :
يَلِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِىءُ اسْمُهُ اسْمِي لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلاَّ يَوْمٌ لَطَوَّلَ الله.
السيوطي، جلال الدين عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفاي911هـ)، الفتح الكبير في ضم الزيادة إلى الجامع الصغير، ج3، ص307، تحقيق: يوسف النبهاني، دار النشر: دار الفكر- بيروت / لبنان، الطبعة: الأولى، 1423هـ - 2003م
4. ابن كثير دمشقي:
ابن كثير، نے روايت ابو هريره کو طريق ابو عاصم سے جو بخاری اور مسلم کے راوی ہیں نقل کیا ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے:
قال عاصم: وأخبرنا أبو عاصم عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لو لم يبق من الدنيا إلا يوم لطول الله ذلك اليوم حتى يلي الرجل من أهل بيتي يواطىء اسمه اسمي. هذا حديث حسن صحيح.
الدمشقي، الامام أبو الفداء الحافظ ابن كثير (متوفاي774هـ)، النهاية في الفتن والملاحم، ج1، ص24، تحقيق: ضبطه وصححه: الاستاذ عبد الشافعي، دار النشر: دار الكتب العلمية، لبنان ـ بيروت، الطبعة: الاولى 1408هـ - 1988م
ب) طريق ابن مسعود کے ساتھ یہ روایت ابن مسعود سے عاصم عن زر کے توسط سے بھی بغیر جمله واسم ابيه اسم ابي نقل ہوئی ہے کہ جو مسلم و بخاری کا راوی ہے ابن مسعود سے یہ نقل دو طریق سے ہے ایک عاصم نے رز سے نقل کی ہے اور دوسرے عمرو بن مرہ نے رز سے نقل کیا ہے دونوں طریق کو بیان کرتے ہیں :

1- عمرو بن مرة عن زر عن عبد الله بن مسعود با سند صحيح
یہ روایت دو کتابوں میں مختلف سند کےساتھ آئی ہیں لیکن متن دونوں کا ملتا ہے لیکن ہر دو بغیراضافہ کے ساتھ ہے :
نقل اول المعجم الكبير طبراني میں :
حدثنا محمد بن السَّرِيِّ بن مِهْرَانَ النَّاقِدُ ثنا عبد اللَّهِ بن عُمَرَ بن أَبَانَ ثنا يُوسُفُ بن حَوْشَبٍ الشَّيْبَانِيُّ ثنا أبو يَزِيدَ الأَعْوَرُ عن عَمْرِو بن مُرَّةَ عن زِرِّ بن حُبَيْشٍ عن عبد اللَّهِ بن مَسْعُودٍ قال قال رسول اللَّهِ صلى اللَّهُ عليه وسلم لا يَذْهَبُ الدُّنْيَا حتى يَمْلِكَ رَجُلٌ من أَهْلِ بَيْتِي يُوَافِقُ اسْمُهُ اسْمِي.

عبد الله بن مسعود سے رسول خدا (ص) روايت نقل ہے کہ فرمایا: دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص جس کا نام میرے نام پر ہوگا حاکم نہ بن جائے ۔
الطبراني، ابوالقاسم سليمان بن أحمد بن أيوب (متوفى360هـ)، المعجم الكبير، ج10، ص131 ش 10208، تحقيق: حمدي بن عبدالمجيد السلفي، ناشر: مكتبة الزهراء - الموصل، الطبعة: الثانية، 1404هـ 1983م.
اس روایت کی سندی تحقیق:
روایت کی سند مندجہ ذیل ہے :
1- طبراني صاحب المعجم الكبير 2- محمد بن سري بن مهران 3- عبد الله بن عمر بن ابان 4- يوسف بن حوشب 5- ابو يزيد الاعور 6- عمرو بن مرة 7- زر بن حبيش 8- عبد الله بن مسعود (صحابي)

1- طبراني صاحب المعجم الكبير
یہ اجماع اہل سنت کے مطاطق ثقہ ہیں ذھبی انکے بارے میں لکھتے ہیں:
86 الطبراني هو الامام الحافظ الثقة الرحال الجوال محدث الاسلام علم المعمرين أبو القاسم سليمان بن أحمد بن ايوب بن مطير اللخمي الشامي الطبراني صاحب المعاجم الثلاثة
طبرانى، امام حافظ ثقه، بہت سفر کرنے والے ، محدث اسلام ! یگانہ معمر (جو ایک صدی سے زیادہ عمر پائے )... صاحب ِ تین معجم
الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفاى 748 هـ)، سير أعلام النبلاء، ج16، ص119، تحقيق: شعيب الأرنؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ.
2- محمد بن سري بن مهران
یہ بھی ثقہ ہے ذھبی انکے بارے میں لکھتے ہیں
محمد بن السري بن مهران الناقد. بغدادي، ثقة.
محمد بن سرى بن مهران، علم رجال کے ماہر ، بغدادى اور ثقه ہیں.
الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفاى 748 هـ)، تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام، ج22، ص269،تحقيق د. عمر عبد السلام تدمرى، ناشر: دار الكتاب العربي - لبنان/ بيروت، الطبعة: الأولى، 1407هـ - 1987م.
3- عبد الله بن عمر بن ابان
ذھبی انکے بارے میں لکھتے ہیں:
مشكدانة المحدث الامام الثقة أبو عبد الرحمن عبد الله بن عمر بن محمد ابن ابان بن صالح بن عمير القرشي الاموي مولى عثمان رضي الله عنه
مشكدانه، محدث امام ثقه، ابو عبد الرحمن، عبد الله بن عمر بن بن محمد بن ابان بن صالح بن عمير قريشى اموى غلام عثمان
الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفاى 748 هـ)، سير أعلام النبلاء، ج11، ص155، تحقيق: شعيب الأرنؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ.
4- يوسف بن حوشب
ابن ابى حاتم رازى متوفى 327، ائمه جرح و تعديل اهل سنت کے قدیمی عالم انکے بارے میں لکھتے ہیں :
يوسف بن حوشب أخو العوام بن حوشب روى عن عبد الله بن سعيد بن أبى هند روى عنه عبد الله بن عمر بن أبان وأبو سعيد الأشج سمعت أبى يقول ذلك وسألته عنه فقال شيخ.
يوسف بن حوشب... میں نے اپنے والد سے انکے بارے میں سوال کیا کہا وہ "شیخ " ہیں
ابن أبي حاتم الرازي التميمي، ابومحمد عبد الرحمن بن أبي حاتم محمد بن إدريس (متوفى 327هـ)، الجرح والتعديل، ج9، ص220 ش 921، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت، الطبعة: الأولى، 1271هـ ـ 1952م.
علمائے اهل سنت، کے مطابق شيخ ، ابن ابى حاتم کےکلام میں معنی ِ توثیق کے ہیں ، ؛ ذهبى کہتے ہیں:
قول أبي حاتم شيخ قال وليس هذا بتضعيف قلت بل عده ابن أبي حاتم في مقدمة كتابه من ألفاظ التوثيق وكذا الخطيب البغدادي في الكفاية
ابى حاتم یہ کہنا شیخ : تو یہ تضعیف مراد نہیں ہے ، بلكه ابن ابى حاتم مقدمه كتاب میں لکھتے ہیں یہ لفظ شیخ الفاظ توثیق ہیں اسی طرح ہیں خطیب بغدادی اپنی کتاب کفایہ میں الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفاى 748 هـ)، ميزان الاعتدال في نقد الرجال، ج8، ص143، تحقيق: الشيخ علي محمد معوض والشيخ عادل أحمد عبدالموجود، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1995م. اس بناء یہ پر مورد توثیق اہل سنت ہے .
5- خلف بن حوشب الكوفي ابويزيد الاعور.
ابن حجر عسقلانى نے تقريب التهذيب میں اسکے بارے میں لکھا ہے:
خلف بن حوشب الكوفي ثقة من السادسة مات بعد الأربعين خت عس العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاى852هـ)، تقريب التهذيب، ج1 ص194، رقم: 1728، تحقيق: محمد عوامة، ناشر: دار الرشيد - سوريا، الطبعة: الأولى، 1406 - 1986.
مزى نے تهذيب الكمال میں اسکے بارے میں لکھا ہے :
أثنى عليه سفيان بن عُيَيْنَة. وَقَال النَّسَائي: ليس به بأس. وذكره ابنُ حِبَّان في كتاب"الثقات
سفيان بن عيينه نے اسکی مدح کی ہے ، نسائى نے کہا ہے کوئی عیب نہیں ہے ، اور ابن حبان اسے اپنے ثقات میں شمار کیا ہے !
المزي، ابوالحجاج يوسف بن الزكي عبدالرحمن (متوفى742هـ)، تهذيب الكمال، ج8 ص280، تحقيق: د. بشار عواد معروف، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: الأولى، 1400هـ 1980م.
6- عمرو بن مرة*:
ابن حجر اس کے بارے میں لکھا ہے :
عمر بن مرة الشني بفتح المعجمة وتشديد النون بصري مقبول من الرابعة د ت
العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاى852هـ)، تقريب التهذيب، ج1، ص417، رقم: 4970، تحقيق: محمد عوامة، ناشر: دار الرشيد - سوريا، الطبعة: الأولى، 1406 - 1986.
7- زِرّ بن حبيش:
ابن حجر نے انکے بارے میں لکھا ہے :
زر بكسر أوله وتشديد الراء بن حبيش بمهملة وموحدة ومعجمة مصغر بن حباشة بضم المهملة بعدها موحدة ثم معجمة الأسدي الكوفي أبو مريمثقة جليل مخضرم مات سنة إحدى أو اثنتين أو ثلاث وثمانين وهو بن مائة وسبع وعشرين ع
العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاى852هـ)، تقريب التهذيب، ج1، ص215، رقم: 2008، تحقيق: محمد عوامة، ناشر: دار الرشيد - سوريا، الطبعة: الأولى، 1406 - 1986.
8- عبد الله بن مسعود:
یہ صحابی ہیں اور اہل سنت کے مطابق رجالی بحث کے محتاج نہیں ہیں.
اس بنا ء پر یہ روایت صحیح ہے .
نقل دوم تاريخ واسط:
حدثنا أسلم قال ثنا محمد بن عبدالرحمن بن فهد بن هلال قال ثنا عبدالله بن علي السمسار قال ثنا يوسف بن حوشب قال ثنا أبو يزيد الأعور عن عمرو بن مرة عن زر بن حبيش عن عبدالله بن مسعود عن النبي صلى الله عليه وسلم قال لا تذهب الدنيا حتى يملك رجل من أهل بيتي يواطئ اسمه اسمي.

عبد الله بن مسعود سے رسول خدا (ص) روايت نقل ہے کہ فرمایا: دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص جس کا نام میرے نام پر ہوگا حاکم نہ بن جائے ۔
الواسطي، أسلم بن سهل الرزاز (متوفاى292هـ)، تاريخ واسط، ج1، ص105، تحقيق: كوركيس عواد، ناشر: عالم الكتب - بيروت، الطبعة: الأولى، 1406هـ.
البتہ اس سند مین عبد اللہ سمسار مجہول ہے چونکہ پہلی سند یوسف بن حوشب تک صحیح ہےاس لئے سمسار کا مجہول ہونا اس پر خدشہ نہیں کرتی ہے
.
2- عاصم بن بهدلة (ثقه مضطرب الحديث) عن زر عن عبد الله بن مسعود کی روایت:
اگرچہ علمائے اہل سنت نےاس روایت کی صحیح قرار دیا ہے لیکن عاصم اہل سنت کےبقول مضطرب الحدیث ہے اور اس روایت کو کبھی بغیر اضافہ کے اور کبھی اضافہ کے ساتھ نقل کیا ہے ہر صورت میں اہل سنت کےمطابق بغیر اضافہ والی روایت صحیح ہے اور شیعہ حضرات اس استدلال کر سکتے ہیں لیکن زیادتی کے ساتھ جو عبد اللہ بن مسعود سے نقل ہوا ہے اسے مضطرب الحدیث کے عنوان سے رد کر سکتے ہیں اور وہ قابل استدلال نہیں ہے ۔
1. احمد حنبل (متوفاي 241هـ) مسند میں:
احمد حنبل مذهب حنابله کے امام اپنی مسندمیں پانچ روایت بغیر اضافہ والی عاصم عن زر حبیش سے نقل کی ہے اور قابل غور بات یہ ہے امام احمد ایک روایت کو بھی جو اضافہ کے ساتھ ہو بیان نہیں کی ہے اور دلیل بنتی ہے کہ اضافہ والی روایت اصلا حقیقت نہیں رکھتی ہے
:
حدثنا عبد اللَّهِ حدثني أبي ثنا سُفْيَانُ بن عُيَيْنَةَ ثنا عَاصِمٌ عن زر عن عبد اللَّهِ عَنِ النبي صلى الله عليه وسلم: لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حتى يلي رَجُلٌ من أَهْلِ بيتي يواطي اسْمُهُ اسمي.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حدثنا عبد اللَّهِ حدثني أبي ثنا عُمَرُ بن عُبَيْدٍ عن عَاصِمِ بن أبي النَّجُودِ عن زِرِّ بن حُبَيْشٍ عن عبد اللَّهِ قال قال رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: لاَ تنقضي الأَيَّامُ وَلاَ يَذْهَبُ الدَّهْرُ حتى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ من أَهْلِ بيتي اسْمُهُ يواطي اسمي.
الشيباني، ابوعبد الله أحمد بن حنبل (متوفاى241هـ)، مسند أحمد بن حنبل، ج1، ص376 و 430 و 448، ح3571 و3572 و3573 و4098 و4279،ناشر: مؤسسة قرطبة مصر.
2. ابو داود سجستاني(متوفي275هـ) سنن میں :
ابو داود سجستانى نے بھی اس روایت جملے اضافی کے بغیر نقل کیا ہے
وقال في حديث سُفْيَانَ: لَا تَذْهَبُ أو لَا تَنْقَضِي الدُّنْيَا حتى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ من أَهْلِ بَيْتِي يواطىء اسْمُهُ اسْمِي.
السجستاني الأزدي، ابوداود سليمان بن الأشعث
(متوفاى 275هـ)، سنن أبي داود، ج4، ص106، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، ناشر: دار الفكر.
3. ابو عيسي ترمذي (متوفي279هـ) سنن میں :
ترمذى محدث کبیر اہل سنت نے بھی دو روایت کو فقط جمله يواطى اسمه اسمي کے ساتھ نقل کیا ہے اور ہر روایت کے آخر میں اسے صحیح قرار دیا ہے :

حدثنا عُبَيْدُ بن أَسْبَاطِ بن مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ الْكُوفِيُّ قال: حدثني أبي حدثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عن عَاصِمِ بن بَهْدَلَةَ عن زِرٍّ عن عبد اللَّهِ قال قال رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حتى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ من أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي.
قال أبو عِيسَى: وفي الْبَاب عن عَلِيٍّ وَأَبِي سَعِيدٍ وَأُمِّ سَلَمَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيح.
ترمذی کہتا ہے کہ : اس باب میں علی [علیہ السلام] ابو سعید ، ام سلمہ اور ابوہریرہ سے بھی روایت نقل ہوئی ہے اور یہ روایت حسن اور صحیح ہے
.
روايت دوم کو بھی اس طرح نقل کیا ہے :
حدثنا عبد الْجَبَّارِ بن الْعَلَاءِ بن عبد الْجَبَّارِ الْعَطَّارُ حدثنا سُفْيَانُ بن عُيَيْنَةَ عن عَاصِمٍ عن زِرٍّ عن عبد اللَّهِ عن النبي صلي الله عليه وسلم قال: يَلِي رَجُلٌ من أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي قال عَاصِمٌ وأنا أبو صَالِحٍ عن أبي هُرَيْرَةَ قال: لو لم يَبْقَ من الدُّنْيَا إلا يَوْمٌ لَطَوَّلَ الله ذلك الْيَوْمَ حتى يَلِيَ.
روایت نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں:
قال أبو عِيسَى: هذا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
الترمذي السلمي، ابوعيسي محمد بن عيسي (متوفاى 279هـ)، سنن الترمذي، ج5، ص505، ح2230 و1331. تحقيق: أحمد محمد شاكر وآخرون، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت
4. ابوسعيد شاشي (متوفي 335هـ) اپنی مسند میں:
شاشى اہل سنت کے قرن سوم کے بزرگ محدث نے بھی روایت عاصم کو بغیر جمہ اضافیہ کے نقل کیا ہے :
حدثنا أحمد بن زهير نا عبد الله بن داهر الرازي نا عبد الله بن عبد القدوس عن الأعمش عن عاصم بن ابى النجود عن زر عن عبد الله بن مسعود وقال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تقوم الساعة حتى يملك رجل من اهل بيتى يواطى اسمه اسمى يملأ الأرض قسطا وعدلا كما ملئت ظلما وجورا.
الشاشي، ابوسعيد الهيثم بن كليب (متوفى 335هـ)، مسند الشاشي، ج2، ص110 و 111،* ح635 و 636، تحقيق: د. محفوظ الرحمن زين الله، ناشر:مكتبة العلوم والحكم - المدينة المنورة، الطبعة: الأولى، 1410هـ.
5. ابو سعيد اعرابي(متوفي 340هـ) معجم میں
ابو سعید اعرابی نے بھی عاصم و زر سے اس روایت کو بغیر جملے اضافیہ کے نقل کیا ہے :
نا محمد، نا أبو الجواب، نا عمار بن رزيق، عن عاصم بن أبي النجود، عن زر، عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلي الله عليه وسلم: لا تنقضي الدنيا حتى يلي من هذه الأمة رجل من أهل بيتي يواطئ اسمه اسمي
البصري الصوفي، أبو سعيد أحمد بن محمد بن زياد بن بشر بن درهم (متوفاي340هـ) معجم ابن الأعرابي، ج2، ص290، دار النشر: طبق برنامه الجامع الكبير.
6. ابن حبان تميمي (متوفي 354هـ) صحيح میں:
ابن حبان عالم بزرگ اہل سنت نے بھی روایت عاصم کو بغیر جملے اضافیہ کے نقل کیا ہے:
وَحَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ فِي عَقِبِهِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو شِهَابٍ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ عَنْ زِرٍّ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلا لَيْلَةٌ لَمَلَكَ فِيهَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي اسْمُهُ اسْمِي.
التميمي البستي، محمد بن حبان بن أحمد ابوحاتم (متوفاى354 هـ)، صحيح ابن حبان بترتيب ابن بلبان، ج13، ص284، تحقيق: شعيب الأرنؤوط، ناشر:مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: الثانية، 1414هـ ـ 1993م.
ابن حبان دوسری روایت میں بھی زر سے اس طرح نقل کی ہے:
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ شُبْرُمَةَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم: يَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِيوَخُلُقُهُ خُلُقِي فَيَمْلَؤُهَا قِسْطًا وَعَدْلا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَجَوْرًا.
التميمي البستي، محمد بن حبان بن أحمد ابوحاتم (متوفاى354 هـ)، صحيح ابن حبان بترتيب ابن بلبان، ج15، ص237،ح6825، تحقيق: شعيب الأرنؤوط، ناشر:مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: الثانية، 1414هـ ـ 1993م.
الباني کی روایت کو صحیح قرار دینا:
اللبانی مفتی وھابی نے بھِی اس روایت ابن مسعود کو صحیح قرار دیا ہے :
الباني، محمد ناصر، صحيح الجامع الصغير، ج1، ص329، ح7275. طبق برنامه مكتبة* الشاملة
نقل يا تصحيح روايت مذکور توسط دیگر علمائے اہل سنت:
وہ بعض منابع اہل سنت جس میں روایت مذکور کو بغیر اضافہ کے نقل کیا ہے مندرجہ ذیل ہیں
الشافعي، أبو بكر محمد بن عبد الله بن إبراهيم (متوفاي354هـ)، كتاب الفوائد (الغيلانيات)، ج4، ص383، ح414، تحقيق: حلمي كامل أسعد عبد الهادي، دار النشر: دار ابن الجوزي - السعودية / الرياض،*، الطبعة: الأولى 1417هـ - 1997م
الطبراني، ابوالقاسم سليمان بن أحمد بن أيوب (متوفاى360هـ)، المعجم الكبير، ص 131، ح10208 و ص133، ح10214 و 10215 و ص134، روايات 10217، 10218، 10219، 10220، 10221 و ص135 روايات 10223 و10225 وص 136 روايات 10226، 10227و 10229 و ص137روايت10230تحقيق: حمدي بن عبدالمجيد السلفي، ناشر: مكتبة الزهراء - الموصل، الطبعة: الثانية، 1404هـ 1983م.
القطيعي، أبو بكر أحمد بن جعفر بن حمدان (متوفاي368هـ)، جزء الألف دينار وهو الخامس من الفوائد المنتقاة والأفراد الغرائب الحسان، تحقيق: ج1،ص202، بدر بن عبد الله البدر، دار النشر: دار النفائس الكويب، الطبعة: الأولى1414هـ - 1993م
الأصبهاني، ابونعيم أحمد بن عبد الله (متوفاى430هـ)، حلية الأولياء وطبقات الأصفياء، ج5، ص75، ناشر: دار الكتاب العربي - بيروت، الطبعة: الرابعة، 1405هـ.
الأصبهاني، ابونعيم أحمد بن عبد الله (متوفاى430هـ)، تاريخ أصبهان، ج1، ص386،* ج2، ص134، ج5، ص4،* ج7، *ص445، تحقيق: سيد كسروي حسن، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1410 هـ-1990م.
الداني، أبو عمرو عثمان بن سعيد المقرئ (متوفاي444هـ)، السنن الواردة في الفتن وغوائلها والساعة وأشراطها، ج5، ص1042، احاديث: 556 و562 و563 و567566، و568.
تحقيق: د. ضاء الله بن محمد إدريس المباركفوري، دار النشر: دار العاصمة - الرياض، الطبعة: الأولى 1416
المقدسي الشافعي السلمي، جمال الدين، يوسف بن يحيي بن علي (متوفاى: 685 هـ)، عقد الدرر في أخبار المنتظر، ج1، ص90 - 91، طبق برنامه الجامع الكبير.
الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفاى 748 هـ)، سير أعلام النبلاء، ج11، ص472، تحقيق: شعيب الأرنؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ.
الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفاى 748 هـ)، تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام، ج18، ص379،تحقيق د. عمر عبد السلام تدمرى، ناشر: دار الكتاب العربي - لبنان/ بيروت، الطبعة: الأولى، 1407هـ - 1987م.
إبن خلدون الحضرمي، عبد الرحمن بن محمد (متوفاى808 هـ)، مقدمة ابن خلدون، ج1، ص312، ناشر: دار القلم - بيروت - 1984، الطبعة: الخامسة.
ج) طريق حذيفه بن يمان سے :
صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ حذيفه، نے بھی اس روایت کو بغیر جملے اضافہاسم ابيه اسم ابي کے نقل کیا ہے
1. مقدسي شافعي:
مقدسى شافعى نے اس روايت اپنی کتاب میں اس طرح نقل کیا ہے :
وعن حذيفة رضي الله عنه قال: خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بما هو كائن، ثم قال: لو لم يبق من الدنيا إلا يوم واحد لطول الله عز وجل ذلك اليوم، حتى يبعث في رجلاً من ولدي اسمه اسمي. فقام سلمان الفارسي رضي الله عنه فقال: يا رسول الله، من أي ولدك؟ قال: هو من ولدي هذا، وضرب بيده على الحسين عليه السلام.
أخرجه الحافظ أبو نعيم، في صفة المهدي.

حذيفه کہتے ہیں : رسول خدا صلى الله عليه وسلم ہمارے لئے خطبہ ارشاد فرمایا : اور آیندہ ہونے والے واقعات بیان فرمایا پھر آپ نے فرمایا : اگر دنیا کے فنا ہونے میں اگر ایک دن بھی باقی رہ جائے تو اللہ اس دن کو اتنا طولانی کر دے تاکہ ایک شخص میرے فرزند سے قیام کرے اس کا نام میرے نام پر ہے سلما ن فارسی رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور کہا : یا رسول اللہ وہ فرزند آپ کا کونسا ہے آپ نے فرمایا اس فرزند سے اور اپنا دست مبارک حسین علیہ السلام رکھا .
المقدسي الشافعي السلمي، جمال الدين، يوسف بن يحيي بن علي (متوفى: 685 هـ)، عقد الدرر في أخبار المنتظر، ج1، ص82، طبق برنامه الجامع الكبير.
2. محب الدين طبري:
محب الدين طبرى نے بھی حذیفہ سے بغیر جملہ اضافیہ کے نقل کیا ہے :
عن حذيفة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لو لم يبق من الدنيا إلا يوم واحد لطول الله ذلك اليوم حتى يبعث رجلا من ولدي إسمه كاسمي فقال سلمان: من أي ولدك يا رسول الله؟ قال: من ولدي هذا وضرب بيده على الحسين.
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا : اگر دنیا کے فنا ہونے میں اگر ایک دن بھی باقی رہ جائے تو اللہ اس دن کو اتنا طولانی کر دے تاکہ ایک شخص میرے فرزند سے قیام کرے اس کا نام میرے نام پر ہے سلما ن فارسی رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وہ فرزند آپ کا کونسا ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا اس فرزند سے اور اپنا دست مبارک حسین علیہ السلام رکھا
الطبري، ابوجعفر محب الدين أحمد بن عبد الله بن محمد (متوفاى694هـ)، ذخائر العقبى في مناقب ذوي القربى، ج1، ص136، ناشر: دار الكتب المصرية مصر
یہ روایت محب طبری کے نزدیک مقبول ہےاس لئے کہ اس روایت سے نقل کرنے سے پہلےدوسری روایات نقل کی ہے جو یہ بتاتی ہیں کہ مہدی فرزند فاطمہ سلام اللہ علیہا سے ہیں طبری نے اس روات کے نقل کے بعد کہا ہے وہ روایات جو مطلق بیان ہوئی ہیں وہ اس مقید روایت پر حمل کی جائے گی
یعنی فرزند فاطمہ والی روایت ، امام حسین والی روایت پر حمل کی جائے گی
فيحمل ما ورد مطلقا فيما تقدم على هذا المقيد.
وہ روایات جو مطلق بیان ہوئی ہیں وہ اس مقید روایت پر حمل کی جائے گی [نتيجه میں مهدى نسل امام حسين عليه السلام سے ہیں ].
الطبري، ابوجعفر محب الدين أحمد بن عبد الله بن محمد (متوفاى694هـ)، ذخائر العقبى في مناقب ذوي القربى، ج1، ص137، ناشر: دار الكتب المصرية مصر
3. محمد بن ابي بکر الحنبلي متوفي 751:
وقال الطبراني حدثنا محمد بن زكريا الهلالي حدثنا العباس ابن بكار حدثنا عبد الله بن زياد عن الأعمش عن زر بن حبيش عن حذيفة قال خطبنا النبي صلى الله عليه وسلم فذكر ما هو كائن ثم قال لو لم يبق من الدنيا إلا يوم واحد لطول الله ذلك اليوم حتى يبعث رجلا من ولدي اسمه اسمي ولكن هذا إسناد ضعيف.
الزرعي الدمشقي الحنبلي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أبي بكر أيوب (مشهور به ابن القيم الجوزية ) (متوفاى751هـ)، المنار المنيف في الصحيح والضعيف، ج1، ص148، ح339، تحقيق: عبد الفتاح أبو غدة، ناشر: مكتب المطبوعات الإسلامية حلب، الطبعة: الثانية، 1403هـ.
4. جلال الدين سيوطي:
جلال الدين سيوطى،* اہل سنت کے مشہور مفسر اور محدث نے ابو نعیم کے طریق سے حزیفہ کی روایت نقل کی ہے
السيوطي، جلال الدين أبو الفضل عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفاى911هـ)، الحاوي للفتاوي في الفقه وعلوم التفسير والحديث والاصول والنحو والاعراب وسائر الفنون، ج2، ص60، تحقيق: عبد اللطيف حسن عبد الرحمن، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2000م.
د: طريق عبد الله بن عمر:
وہ افراد جنھوں نے روایت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ کوبغیر جملے اضافہ کو نقل کیا ہے ان میں عبد اللہ بن عمر ہیں :
مقدسى شافعى نے كتاب عقد الدرر، میں روايت عبد الله بن عمر کو اس طرح بیان کیا ہے :
وعن عبد الله بن عمر، رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يخرج في آخر الزمان رجل من ولدي،اسمه كاسمي، وكنيته ككنيتي، يملأ الأرض عدلاً، كما ملئت جوراً.
عبد الله بن عمر کہتے ہیں : رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا : آخری زمانہ میں میرے فرزند کی نسل سے ایک شخص قیام کرے گا اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیگا جس طرح وہ ظلم او جور سے بھر چکی ہو گی جس کا نام میرے نام اور کنیت میری کنیت پر ہوگی۔
المقدسي الشافعي السلمي، جمال الدين، يوسف بن يحيي بن علي (متوفاى: 685 هـ)، عقد الدرر في أخبار المنتظر، ج1، ص95، طبق برنامه الجامع الكبير.
ه: روايت طريق ابن عباس:
ابن عباس صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ نےزر بن حبیش سے بغیر اضافہ کے نقل کیا ہے اور اس روایت میں واسم ابيه اسم ابي نہیں ہے علماء اہل سنت اس روایت کو اپنی کتب میں نقل کیا ہے
ابو سعیدی شاشی محدث اہل سنت نےاسے نقل کیا ہے :
حدثنا ابن أبى خيثمة نا يعقوب بن كعب الأنطاكي نا أبى عن عبد الملك بن أبى غنية عن عاصم عن زر عن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تنقضى الدينا حتى يبعث الله رجلا من أمتي يواطى اسمه اسمى.
ابن عباس کہتے ہیں:* رسول خدا صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:* اس وقت تک دنیا کا خاتمہ نہیں ہوگا جب تک میری امت سے ایک مرد کو نہ بھیج دے جس کا نام میرے نام پر ہوگا ۔
الشاشي، ابوسعيد الهيثم بن كليب (متوفاى 335هـ)، مسند الشاشي، ج2، ص111، ح636، تحقيق: د. محفوظ الرحمن زين الله، ناشر:مكتبة العلوم والحكم - المدينة المنورة، الطبعة: الأولى، 1410هـ.
سعد الدين تفتازانى اهل سنت کے علم کلام کے نامدار بزرگ عالم شرح مقاصد میں لکھا ہے :امام مہدی علیہ السلام کے خروج کے بارے میں روایات صحیح رسول صلی اللہ علیہ و آلہ سے آئی ہیں ان روایات میں سے ایک روایت ابن عباس کی یہی روایت نقل کرتے ہیں
:
خاتمة مما يلحق بباب الإمامة بحث خروج المهدي ونزول عيسى صلى الله عليه وسلم وهما من أشراط الساعة وقد وردت في هذا الباب أخبار صحاح وإن كانت آحادا ويشبه أن يكون حديث خروج الدجال متواتر المعنى أما خروج المهدي فعن ابن عباس رضي تعالى عنه أنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تذهب الدنيا حتى يملك العرب رجل من أهل بيتي يواطيء اسمه اسمي.
خاتمہ : وہ چیزجو امامت سے متعلق ہے بحث قیام مہدی و نزول عیسی ہے اور یہ دو واقعہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہیں اور اس باب میں روایات صحیحہ اگرچہ احاد ہیں وارد ہوئی ہیں۔ روایت دجال از لحاظ معنی متواتر ہیں لیکن جو خروج و ظہور امام مہدی سے مرطوط روایت ائی ہے وہ ابن عباس کی روایت ہے ۔۔۔
التفتازاني، سعد الدين مسعود بن عمر بن عبد الله (متوفاى 791هـ)، شرح المقاصد في علم الكلام، ج2، ص307، ناشر: دار المعارف النعمانية - باكستان، الطبعة: الأولى، 1401هـ - 1981م.
و: طريق ابو سعيد خدري
مزید وہ طریق جس میں واسم ابيه اسم ابي نہیں ابو سعید خدری صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ کا طریق ہے ۔

ابن حماد،* روايت ابو سعيد خدرى کو اس طرح نقل کرتے ہیں:
حدثنا الوليد عن أبي رافع عمن حدثه عن أبي سعيد الخدري رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال اسم المهدي اسمي.
المروزي، نعيم بن حماد أبو عبد الله متوفي 288هـ)، كتاب الفتن، ج1، ص368، ح1080، تحقيق: سمير أمين الزهيري،* دار النشر: مكتبة التوحيد القاهرة، الطبعة: الأولى 1412
ز: طريق امير مومنان علي بن أبي طالب عليه السلام
1- ابو داود سجستاني کا سنن میں نقل :
ابو داود اپنی سنن امیر المومنین علی سے (سندي اختلافي کے ساتھ ) نقل کرتے ہیں
علی [علیہ اسلام ] فرماتے ہیں :
قال أبو دَاوُد حُدِّثْتُ عن هَارُونَ بن الْمُغِيرَةِ قال ثنا عَمْرُو بن أبي قَيْسٍ عن شُعَيْبِ بن خَالِدٍ عن أبي إسحاق قال قال عَلِيٌّ رضي الله عنه وَنَظَرَ إلى ابنة الْحَسَنِ فقال إِنَّ ابْنِي هذا سَيِّدٌ كما سَمَّاهُ النبي صلى الله عليه وسلم وَسَيَخْرُجُ من صُلْبِهِ رَجُلٌ يُسَمَّى بِاسْمِ نَبِيِّكُمْ يُشْبِهُهُ في الْخُلُقِ ولا يُشْبِهُهُ في الْخَلْقِ ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةً يَمْلَأُ الْأَرْضَ عَدْلًا
علی رضی اللہ عنہ نے اپنے فرزند کی طرف نگاہ کی اور کہا میرا فرزند سید ہے کہ جس طرح سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے لقب دیا ہے انکی نسل سے ایک ایسا مرد ظاہر ہوگا جس کا نام تمہارے نبی کے نام پر ہوگا اخلاق میں شبیہ پیامبر ہوگا لیکن ظاہر میں شبیہ پیامبر نہیں ہونگے پھر آپ نے عدل و انصاف سےزمین کا بھرجانے کے بارے میں بیان فرمایا۔
السجستاني الأزدي، ابوداود سليمان بن الأشعث (متوفاى 275هـ)، سنن أبي داود، ج4، ص108 ش 4290، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، ناشر: دار الفكر.
البتہ ہم نے اس روایت کی تحقیق اس لینک میں کی ہوئی ہے
http://www.valiasr-aj.com/fa/page.php?bank=question&id=11980'>() () ?
2- نقل نعيم بن حماد در الفتن:
نعيم بن حماد نے بھی کتاب فتن میں نقل کیا ہے:
حدثنا غير واحد عن ابن عياش عمن حدثه عن محمد بن جعفر عن علي بن أبي طالب رضى الله عنه قال سمى النبي صلى الله عليه وسلم الحسن سيدا وسيخرج من صلبه رجل اسمه اسم نبيكم يملأ الأرض عدلا كما ملئت جورا.
المروزي، أبو عبد الله نعيم بن حماد (متوفاى288هـ)، كتاب الفتن، ج1، ص374 ش 1113، تحقيق: سمير أمين الزهيري، ناشر: مكتبة التوحيد - القاهرة، الطبعة: الأولى، 1412هـ.

پہلے حصہ کا نتیجہ:
وہ روایات جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ سے امام مہدی علیہ السلام کے اسم مبارک کےبارے میں آئی ہیں اور اس میں جمله واسم ابيه اسم ابي- موجود نہیں ہے وہ اہل سنت کی کتب میں متعدد طرق سے نقل ہوئی ہیں جس میں سے اہل سنت کے اعتراف کے مطابق دو طرق صحیح ہیں [ابوہریرہ ، طریق ابن مسعود جو عمرو بن مرہ کے واسطہ سے نقل ہوئی ہیں]اسی طرح عاصم بن عبد اللہ بن مسعود کی روایت نقل کرنا لیکن علماء اہل سنت کے مطابق عاصم مضطرب الحدیث ہے ۔
اور باقی طرق اس روایت کی موئد اور تائید کرنے والی شمار ہونگے نتیجۃ وہ روایات جس میں فقط نام یعنی جمله اسمه اسمي ہے اور بغیر اضافہ نام والد نہیں ہے وہ حد استفاضہ یا حد تواتر تک ہے۔
اس بناء پر ابن تیمیہ اور اسکے چیلوں کا یہ ادّعا کرنا کہ شیعہ حضرات نےروایت کے متن سے حذف کیا اور اسے تحریف کی ہے سراسر جہلہے اور اہل سنت کی کتب اور منابع سے ناواقفیت ہے یا پھر حقیقت کو چھپانے کی کوشش کی گئی ہے ۔

دوسری اقسام : روايات اهل سنت، اسم ابيه کاسم ابي کے ساتھ
1. ان روایات کی سندی تحقیق:
قسم اول کی روایات ایسی روایات تھیں جس میں جملہ واسم ابيہ اسم ابي موجود نہیں تھا اور اہل سنت کے نظریہ کے  مطابق اس کی سند کامل اور تمام تھی حتی حد تضافر یا حد تواتر رکھتی تھیں
لیکن دوسری قسم کی روایات کہ جس سے شیعہ حضرات کے خلاف استدلال کیا گیا ہے جو کہ عموما ضعیف ہے اور حجیت کے مرتبہ سے گری ہوئی ہے۔
آغاز میں اس کی سندی تحقیق کرینگے
أ. طريق تميم داري عن رسول خدا (ص):
ابن حبان اس روایت کو کتاب المجروحين میں نقل کیا ہے کہ :
(عبد الله بن السري المدائني) روى عن أبي عمران الجوني عن مجالد بن سعيد عن الشعبي عن تميم الداري قال: قلت يا رسول الله رأيت للروم مدينة يقال لها أنطاكية ما رأيت أكثر مطرا منها فقال النبي(ص): نعم وذلك أن فيها التوراة وعصا موسى ورضراض الألواح وسرير سليمان بن داود في غار... فلا تذهب الأيام ولا الليالي حتى يسكنها رجل من عترتي اسمه اسمي واسم أبيه اسم أبي يشبه خلقه لخلقي وخلقه خلقي يملأ الدنيا قسطا وعدلا كما ملئت ظلما وجورا.
تميم دارى کہتے ہیں کہ : میں نے رسول خدا (ص) سے عرض کی کہ میں نے روم میں انطاقیہ نامی شہر دیکھا ہے جس میں بہت زیادہ بارشیں ہوا کرتے ہیں آپ نے فرمایا : ہاں اس شہرکے ایک غار میں تورات و عصائے موسی ہے اور لوح کے حصے اور تخت سلمیان بن داود موجود ہے دن و رات نہ گزرینگے کہ وہاں میری عترت میں ایک شخص ساکن ہو گا جس کا نام میرےنام اور انکے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہوگاجو سیرت و صورت میں میرا شبیہ ہے اور وہ دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دینگے جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی
التميمي البستي، الإمام محمد بن حبان بن أحمد بن أبي حاتم (متوفاي354هـ)، المجروحين من المحدثين والضعفاء والمتروكين، ج2، ص34، تحقيق: محمود إبراهيم زايد، دار النشر: دار الوعي- حلب، الطبعة: الأولى 1396هـ
ابن حبان اور دوسرے اہل سنت کے علماء اعتراف کرتے ہیں کہ یہ روایت جعلی ہے :

خود ابن حبان بستى اس روایت تمیم داری کے نقل سے پہلے عبد اللہ بن سری کے بارے میں کہتے ہیں یہ شخص ابو عمران جونی سے عجیب روایت نقل کرتا ہے کہ جس کےجعلی ہونے میں شک نہیں ہے اور ایسی روایات کا کتب میں ذکر کرنا جائز نہیں ہے مگر توجہ دلانے کے لئے بعد میں ابن حبان بطور مثال روایت مذکورہ کو بیان کرتے ہیں

عبد الله بن السري المدائني شيخ يروي عن أبي عمران الجوني العجائب التي لا يشك من هذا الشأن صناعته أنها موضوعة لا يحل ذكره في الكتب إلا على سبيل الإنباه عن أمره لمن لا يعرفه، روى عن أبي عمران الجوني عن مجالد بن سعيد عن الشعبي عن تميم الداري قال:... حتى يسكنها رجل من عترتي اسمه اسمي واسم أبيه اسم أبي....
عبد الله بن سرى مدائنى شیخ ہےجو ابو عمران جونی سے عجائب نقل کرتا ہے اور اس میں شک نہیں ہے وہ اسکی خود ساختہ اور گڑی ہوئی ہیں اور ان روایات کو کتب میں ذکر کرنا جائز نہیں ہے مگر لوگوں کو حقیقت بتانے کے لئے اس صورت میں کوئی مسئلہ نہیں ہے بعد میں روایت مذکور کو نقل کرتے ہیں۔۔۔
التميمي البستي، الإمام محمد بن حبان بن أحمد بن أبي حاتم (متوفاي354هـ)، المجروحين من المحدثين والضعفاء والمتروكين، ج2، ص34، تحقيق: محمود إبراهيم زايد، دار النشر: دار الوعي- حلب، الطبعة: الأولى 1396هـ
شمس الدين ذهبى اور جلال الدين سيوطى نے بھی اس روایت کو نقل کریں ابن حبان کی بات دوہرا ئی ہے :
قال ابن حبان: عبد الله يروي عن أبي عمران الجوني العجائب التي لا تشك أنها موضوعة.
الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفاى 748 هـ)، ميزان الاعتدال في نقد الرجال، ج4، ص106، تحقيق: الشيخ علي محمد معوض والشيخ عادل أحمد عبدالموجود، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1995م.
السيوطي، جلال الدين أبو الفضل عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفاى911هـ)، اللآلىء المصنوعة في الأحاديث الموضوعة، ج1، ص424، تحقيق: أبو عبد الرحمن صلاح بن محمد بن عويضة، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1417 هـ - 1996م
ابو الفرج بن الجوزي اس روایت پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں:
هذا حديث لا يصح عن رسول الله.
اس روایت کا رسول سے نقل ہونا صحیح نہیں ہے
القرشي، أبو الفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد (متوفاي597 هـ)، الموضوعات، ج1، ص 362، تحقيق: توفيق حمدان، دار النشر: دار الكتب العلمية بيروت،* الطبعة: الأولى 1415 هـ -1995م،
شمس الذين ذهبى دوسرے مقام پر کہا ہے اس حدیث کو ضیعف اور منکر شمار کیا ہے
:
هذا حديث منكر ضعيف الإسناد رواه الخطيب في تاريخه عن أحمد بن الحسن بن خيرون عن بن بطحاء.
یہ روايت منكر و ضعيف السند ہے کہ خطيب بغدادی نے اپنی تاریخ میں احمد بن الحسن بن خيرون عن ابن بطحاء سے نقل کیا ہے :
الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفاى 748 هـ)، تذكرة الحفاظ، ج2، ص765، ناشر: دار الكتب العلمية بيروت، الطبعة: الأولى.
ب. طريق قرة بن إياس مزني عن رسول خدا (ص):
اس طریق میں ایک راوی معاویہ بن قرہ ہے جس نے اپنے والد سے نقل کیا ہےطبرانی اور ابن عساکر نے اس طرح لکھا ہے :
حدثنا محمد بن عَبْدُوِسِ بن كَامِلٍ السِّرَاجُ ثنا أَحْمَدُ بن مُحَمَّدِ بن نِيزَكٍ ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بن مُحَمَّدِ بن صَدَقَةَ ثنا محمد بن يحيى الأَزْدِيُّ قَالا ثنا دَاوُدُ بن الْمُحَبَّرِ بن قَحْذَمَ حدثني أبي الْمُحَبَّرُ بن قَحْذَمَ عن مُعَاوِيَةَ بن قُرَّةَ عن أبيه قال: قال رسول اللَّهِ صلى اللَّهُ عليه وسلم: لَتُمْلأَنَّ الأَرْضُ ظُلْمًا وَجَوْرًا كما مُلِئَتْ قِسْطًا وَعَدْلا حتى يَبْعَثَ اللَّهُ رَجُلا مِنِّي اسْمُهُ اسْمِي وَاسْمُ أبيه اسْمُ أبي فَيَمْلأَهَا قِسْطًا وَعَدْلا كما مُلِئَتْ ظُلْمًا وَجَوْرًا يَلْبَثُ فِيكُمْ سَبْعًا أو ثَمَانِيًا فَإِنْ كَثُرَ فَتِسْعًا لا تَمْنَعُ السَّمَاءُ قَطْرِهَا وَلا الأَرْضُ شيئا من نَبَاتِهَا.

معاويہ بن قره نے اپنے والد نقل کیا كہ رسول خدا صلى الله عليہ وآلہ نے فرمایا: دنیا اس طرح ظلم و جور سے بھر جائے گی جس طرح عدل و انصاف سے بھر گئی ہے یہاں تک کہ اللہ مجھ سے ایک شخص کو بھیجے گا حس کا نام میرے نام پر اور انکے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہوگا وہ زمین کو عدل انصاف سے بھر دینگے جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر گئی ہوگی وہ تمہارے درمیان ۷ یا ۸ سال یا بیشتر ۹ سال رہیں گے آسمان باران رحمت اور زمین نباتات کو دینے میں دریغ نہیں کرے گی ۔
الطبراني، ابوالقاسم سليمان بن أحمد بن أيوب (متوفاى360هـ)، المعجم الكبير، ج19، ص32، تحقيق: حمدي بن عبدالمجيد السلفي، ناشر: مكتبة الزهراء - الموصل، الطبعة: الثانية، 1404هـ 1983م.
ابن عساكر الدمشقي الشافعي، أبي القاسم علي بن الحسن إبن هبة الله بن عبد الله (متوفاى571هـ)، تاريخ مدينة دمشق وذكر فضلها وتسمية من حلها من الأماثل، ج49، ص296، تحقيق: محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمري، ناشر: دار الفكر - بيروت - 1995.
علماء اہل سنت کا اقرار :اس روایت کی سند ضعیف ہے :
مناوي اس روایت کو نقل کرنے کے بعد فيض القدير میں لکھتے ہیں:
لتملأن الأرض جورا وظلما الجور الظلم يقال جار في حكمه جورا إذا ظلم فجمع بينهما إشارة إلى أنه ظلم بالغ مضاعف فإذا ملئت جورا وظلما يبعث الله رجلا مني أي من أهل بيتي اسمه اسمي واسم أبيه اسم أبي فيملؤها عدلا وقسطا العدل خلاف الجور وكذا القسط وجمع بينهما لمثل ما تقدم في ضده كما ملئت جورا وظلما فلا تمنع السماء شيئا من قطرها ولا الأرض شيئا من نباتها يمكث فيكم سبعا أو ثمانيا فإن أكثر فتسعا يعني من السنين وهذا هو المهدي المنتظر خروجه آخر الزمان البزار طب وكذا في الأوسط عن قرة بن إياس المزني بضم الميم وفتح الزاي قال الهيثمي رواه من طريق داود بن المحبر عن أبيه وكلاهما ضعيف
هيثمي نے اس روایت کو طريق داود بن محبر سے نقل کیا اور اس نے اپنے والد سے نقل کیا ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں
!
فيض القدير ج5، ص262 شرح الجامع الصغير، اسم المؤلف: عبد الرؤوف المناوي الوفاة: 1031 هـ، دار النشر: المكتبة التجارية الكبرى - مصر - 1356هـ، الطبعة: الأولى
اس روایت میں مزید ضعیف راویوں کا بیان :
1. احمد بن محمد بن نيزك:
شمس الدين ذهبى نے المغنى اور ميزان الاعتدال،میں ابن عقده سے نقل کیا ہے
احمد بن محمد نيزك، کے بارے میں خدشات ہیں:
أحمد بن محمد بن نيزك عن أبي اسامة قال ابن عقدة: في امره نظر.
الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفاى 748 هـ)، المغني في الضعفاء، ج1، ص57، تحقيق: الدكتور نور الدين عتر. طبق برنامه الجامع الكبير
الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفاى 748 هـ)، ميزان الاعتدال في نقد الرجال، ج1، ص296، تحقيق: الشيخ علي محمد معوض والشيخ عادل أحمد عبدالموجود، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1995م.
ذهبى نے الكاشف میں صراحت کے ساتھ کہا ہے اپنی رائے دی ہے :
أحمد بن محمد بن نيزك أبو جعفر... فيه كلام، مات 248 ت
الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفاى 748 هـ)، الكاشف في معرفة من له رواية في الكتب الستة، ج1،ص203، تحقيق محمد عوامة، ناشر: دار القبلة للثقافة الإسلامية، مؤسسة علو - جدة، الطبعة: الأولى، 1413هـ - 1992م.
2. داود بن محبر:
دوسرا راوی جو اس سند میں کہ جس کی تضعیف ہوئی ہے وہ داود بن محبر ہے بخاری نے اسے منکر حدیث کہا ہے :
داود بن المحبر منكر الحديث شبه لا شيء كان لا يدري ما الحديث.
داود بن محبر،* منکر روایات رکھتا ہے گویا کوئی اہمیت نہیں رکھتا ہے اور اسکو پتہ ہی نہیں ہے کہ حدیث کیا ہوتی ہے ۔
البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، الضعفاء الصغير، ج1، ص42، تحقيق: محمود إبراهيم زايد، دار النشر: دار الوعي - حلب، الطبعة: الأولى، 1396 -،
نور الدين هيثمى نے بھی اسے کذاب کہا ہے :
دَاوُدَ بْنَ الْمُحَبَّرِ كَذَّابٌ.
الهيثمي،* الحارث بن أبي أسامة / الحافظ نور الدين (متوفاي282هـ)، بغية الباحث عن زوائد مسند الحارث، ج1، ص321، تحقيق: د. حسين أحمد صالح الباكري، دار النشر: مركز خدمة السنة والسيرة النبوية - المدينة المنورة، الطبعة: الأولى 1413 1992
ابو نعيم اصفهانى کہتے ہیں: *احمد بن حنبل اور بخارى نے ، اسے کذاب کہا ہے :
داود بن المحبر بن قحذم أبو سليمان حدث بمناكير في العقل... كذبه أحمد بن حنبل والبخاري رحمهما الله.
داود بن محبر بن قحذم روايات مناكير رکھتا ہے جو عقل قبول نہیں کرتی ہے اور امام احمد بن حنبل اور بخاری نے اسے کذاب کہاہے ۔

الأصبهاني الصوفي، أحمد بن عبد الله بن أحمد أبو نعيم (متوفاي430هـ)، الضعفاء، ج1، ص78، تحقيق: فاروق حمادة، دار النشر: دار الثقافة - الدار البيضاء، الطبعة: الأولى 1405 - 1984
مقدسى ، داود بن محبر میں کہتے ہیں:
وداود بن المحبر لاشيء في الحديث.
داود بن محبر روایت میں صفر ہے (یعنی اسکی کوئی اہمیت نہیں ہے ).
المقدسي، مطهر بن طاهر (متوفاى507 هـ)، ذخيرة الحفاظ، ج4، ص1934، تحقيق: د.عبد الرحمن الفريوائي، ناشر: دار السلف - الرياض، الطبعة: الأولى، 1416 هـ -1996م.
3. محبر بن قحذم:
عقيلى نے كتاب ضعفاء میں روايات محبر اور انکے والد (قحذم بن سليمان) وھم اور غلط کہا ہے :
محبر بن قحذم عن أبيه قحذم بن سليمان في حديثهما وهم وغلط.
روايت محبر بن قحذم اور قحذم بن سليمان سراسر مطالب خیالی اور غلط ہیں۔
العقيلي، ابوجعفر محمد بن عمر بن موسي (متوفاى322هـ)، الضعفاء الكبير، ج4، ص259، شماره 1860، تحقيق: عبد المعطي أمين قلعجي، ناشر: دار المكتبة العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1404هـ - 1984م.
مناوى نے فيض القدير میں هيثمى سے نقل کیا ہے :
قال الهيثمي: رواه من طريق داود بن المجر عن أبيه وكلاهما ضعيف.
هيثمى کہتے ہیں: اس روایت کو داود بن محبر نے اپنے والد سے نقل کیا ہے یہ دونوں ضعیف ہیں
المناوي، محمد عبد الرؤوف بن علي بن زين العابدين (متوفاى 1031هـ)، فيض القدير شرح الجامع الصغير، ج5، ص262، ناشر: المكتبة التجارية - مصر، الطبعة: الأولى، 1356هـ.
چونکہ اس روایت میں متعدد راوی ضعیف ہیں مناوی اس روایت کے بارے میں کہتے ہیں
واسناده ضعيف.
اسکی سند ضعیف ہے.
المناوي، محمد عبد الرؤوف بن علي بن زين العابدين (متوفاى 1031هـ)، التيسير بشرح الجامع الصغير، ج2، ص290، ناشر: مكتبة الإمام الشافعي - الرياض، الطبعة: الثالثة، 1408هـ ـ 1988م.
ج: طريق ابو الطفيل عن رسول خدا (ص):
ایک اور طریق جس سے یہ رویت نقل ہوئی ہے ابو طفیل کی توسط سے ہے اس میں روایت میں سندی اعتراضات ہیں
ابن حماد نے روايت کو مندرجہ ذیل سند سے نقل کیا ہے
حدثنا الوليد ورشدين عن ابن لهيعة عن إسرائيل بن عباد عن ميمون القداح عن أبي الطفيل رضى الله عنه أن رسول الله(ص) قال: المهدي اسمه اسمي واسم أبيه اسم أبي.
ابو الطفيل سے روايت ہوئی ہے کہ : رسول خدا (ص) فرمایا : اسم مہدی میرے نام پر ہے انکے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہے ۔

المروزي، نعيم بن حماد أبو عبد الله متوفاي 288هـ)، كتاب الفتن، ج1، ص368، ح1081، تحقيق: سمير أمين الزهيري،* دار النشر: مكتبة التوحيد القاهرة، الطبعة: الأولى 1412
اس روایت کی سند پر اعتراض :
یہ روایت از لحاظ سند ضیعف ہے کیونکہ اس روایت میں ایسے راوی موجود ہیں جو علمائے اہل سنت کے ہاں تضیف شدہ ہیں اور بعض مہمل ہیں ۔
نتیجۃ میں حجیت کے درجہ سے ساقط ہے اور قابل استناد نہیں ہے
1. عبد الله ابن لهيعة
ابن لهيعه، کا نام عبد الله ہے کہ شمس الدين ذهبى دوسروں کی رائے بیان کرنے کے بعد اپنی رائے لکھتے ہیں :
عبد الله بن لهيعة أبو عبد الرحمن الحضرمي... ضعف... قلت العمل على تضعيف حديثه توفي 174 د ت ق
عبد الله بن لهيعة ابو عبد الرحمان حضرمي... تضعيف شده* ہیں ... میں کہتا ہوں : مقام عمل میں اسکی روایت کو تضعیف شمار کیا جائے گا۔
الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفاى 748 هـ)، الكاشف في معرفة من له رواية في الكتب الستة، ج1،ص2929، تحقيق محمد عوامة، ناشر: دار القبلة للثقافة الإسلامية، مؤسسة علو - جدة، الطبعة: الأولى، 1413هـ - 1992م.
نسائى نے بھی اسکے بارے میں لکھا ہے :
عبد الله بن لهيعة الحضرمي قاضي مصر اختلط في آخر عمره وكثر عنه المناكير في روايته.
عبد الله بن لهيعه حضرمى قاضى مصر ہے آخری عمر میں دماغی مسئلہ ہوگیا تھا متعدد منکر احادیث ان سے نقل کی گئی ہیں ۔

النسائي، ابوعبد الرحمن أحمد بن شعيب بن علي (متوفاى303 هـ)، ذكر المدلسين، ج1، ص54، طبق برنامه الجامع الكبير.
2. ميمون قداح:
میمون بن داود بن سعید قداح کو اہل سنت کے رجالی علماء نے مجہول قرار دیا ہے
لیکن موجودہ صدی کے رزکلی نے اسے اسماعیلی فرقہ کا لیڈر شمار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ظاہر میں شیعہ تھا لیکن باطن میں کافر ۔:
ميمون بن داود بن سعيد، القداح: رأس الفرقة (الميمونية) من الإسماعيلية. في نسبه وسيرته اضطراب، قيل: اسم أبيه ديصان، أو غيلان. وفى الإسماعيلية من ينسبه إلى سلمان الفارسى. كان يظهر التشيع ويبطن الزندقة. ولد بمكة وانتقل إلى الاهواز. واتصل بمحمد الباقر وابنه جعفر الصادق. روى عنهما.ويقال: إنه أدرك محمد ابن إسماعيل بن جعفر، وأدبه ولقنه مذهب الباطنية.
الزركلي، خير الدين (متوفاي1410هـ)،* الأعلام، ج7، ص341، ناشر: دار العلم للملايين - بيروت لبنان، چاپ: الخامسة، سال چاپ: أيار - مايو 1980 طبق برنامه مكتبه اهل البيت.
د: طريق از عبد الله بن مسعود عن رسول خدا (ص)
یہ روایت دو طریق سندی سے ائی ہے :
طريق اول : مستدرك حاكم میں علقمة بن قيس اور عبيدة سلماني نے عبد الله بن مسعود سے روایت کی ہے :
نقل اول مستدرك حاكم میں اس طرح ہے :
أخبرني أبو بكر بن دارم الحافظ بالكوفة ثنا محمد بن عثمان بن سعيد القرشي ثنا يزيد بن محمد الثقفي ثنا حبان بن سدير عن عمرو بن قيس الملائي عن الحكم عن إبراهيم عن علقمة بن قيس وعبيدة السلماني عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال أتينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فخرج إلينا مستبشرا يعرف السرور في وجهه فما سألناه عن شيء إلا أخبرنا به ولا سكتنا إلا إبتدأنا حتى مرت فتية من بني هاشم فيهم الحسن والحسين فلما رآهم التزمهم وانهملت عيناه فقلنا يا رسول الله ما نزال نرى في وجهك شيئا نكرهه فقال إنا أهل بيت اختار الله لنا الآخرة على الدنيا وأنه سيلقى أهل بيتي من بعدي تطريدا وتشريدا في البلاد حتى ترتفع رايات سود من المشرق فيسألون الحق فلا يعطونه ثم يسألونه فلا يعطونه ثم يسألونه فلا يعطونه فيقاتلون فينصرون فمن أدركه منكم أو من أعقابكم فليأت إمام أهل بيتي ولو حبوا على الثلج فإنها رايات هدى يدفعونها إلى رجل من أهل بيتي يواطئ اسمه اسمي واسم أبيه اسم أبي فيملك الأرض فيملأها قسطا وعدلا كما ملئت جورا وظلما

عبد الله بن مسعود سے روايت ہوئی ہے کہ ہم رسول صلی اللہ علیہ ّالہ کے پاس آئے آپ خوش کی حالت میں باہر آئے اور خوشی کے آثار آپ کے چہرے انور پر عیاں تھے ہم نے جو بھی پوچھا آپ صلی اللہ علیہ ّالہ نے ہمارا جواب دیا اور جب ہم خاموش ہوجاتے تو خود ہی بیان کرنا شروع کردیتے یہاں تک بنی ہاشم کی ایک جماعت جس میں حسن و حسین[سلام اللہ علیہما] بھی تھے وہاں سے گزرے جب آپ نے انھیں دیکھا تو انکے ساتھ ہوگئے اور گریہ فرمانے لگے تو ہم ے کہا ہم آپ کے چہرے پر اداسی دیکھنا نہیں چاہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ ّالہ نے فرمایا ہم وہ خاندان ہیں کہ خدا نے ہمار ے لئے آخرت کو دنیا پر ترجیح دی ہے عنقریب میرے اہل بیت کے لئے سختیاں آئیں گی اور شہر بہ شہر دربدری ہوگی یہاں تک کہ سیاہ پرچم مشرق سے نمادار ہونگے پس یہ لوگ حق کو طلب کرینگے لیکن انھیں نہیں دیا جائے گا دوسری اور تیسری بار حق طلب کرینگے لیکن نہیں دیا جائے یہ لوگ تب جنگ کریں اور کامیاب ہونگے اس وقت تم یا تمہاری نسل میں سے کوئی ہو تو لازم ہے کہ امام اہل بیت پاس جائے اگر چہ برف پر سینے کے بل جانا پڑے اس لئے کہ یہ ہدایت کے پرچم ہیں اور یہ میرے اہل بیت کے شخص کے سپرد کرینگے جس کا نام میرے نام پر اور جن کے والد کا نام میرے والد پر ہوگا اور وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دینگے جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی ۔
المستدرك على الصحيحين ج4، ص511 ش 8434، اسم المؤلف: محمد بن عبدالله أبو عبدالله الحاكم النيسابوري الوفاة: 405 هـ، دار النشر: دار الكتب العلمية - بيروت - 1411هـ - 1990م، الطبعة: الأولى، تحقيق: مصطفى عبد القادر عطا
بررسي سندى طريق اول:
اس روایت کی سند میں متعدد مشکلات ہیں:
1- أحمد بن محمد بن السرى بن يحيى ابوبكر بن ابى دارم سند میں موجود ہے جو اہل سنت کے مطابق کذاب ہے !

ذهبى انکے بارے میں لکھتا ہے :
أحمد بن محمد بن السري بن يحيى بن أبي دارم المحدث أبو بكر الكوفي الرافضي الكذاب مات في اول سنة سبع وخمسين وثلاثمائة وقيل انه لحق إبراهيم القصار حدث عن أحمد بن موسى والحمار وموسى بن هارون وعدة روى عنه الحاكم وقال رافضي غير ثقة
حاكم نے اس سے روايت نقل کی ہے اور کہا ہے کہ یہ رافضی اور غیرثقہ ہے !
الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفاى 748 هـ)، ميزان الاعتدال في نقد الرجال، ج1، ص283 ش 551، تحقيق: الشيخ علي محمد معوض والشيخ عادل أحمد عبدالموجود، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1995م.
2- محمد بن عثمان بن سعيد سند میں موجود ہے جو مجہول الحال ہے
و... اور اسی سبب حاکم نے سند کی صحت کی تصریح نہیں کی ہے !

طريق دوم عن عاصم عن زر بن حبيش عن عبد الله بن مسعود:
اس نقل میں متعدد مضامین نقل ہوئے ہیں جس کی طرف اشارہ کرتے ہیں :
مضمون اول:
حدثنا ابن عيينة عن عاصم عن زر عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: المهدي يواطيء اسمه اسميواسم أبيه اسم أبي.
ابن مسعود کہتے ہیں : رسول خدا صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: اسم مهدى، میرے نام پر ہے اور انکے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہے
قابل غور بات یہ ہے حماد نے نے اس روایت کو نقل کرنےکے بعد کہا ہے :
وسمعته غير مرة لا يذكر اسم أبيه.
میں نے اس روایت کو بارہا جملہ واسم ابيہ اسم ابي کے بغیر سنا ہے .
المروزي، نعيم بن حماد أبو عبد الله (متوفاي 288هـ)، كتاب الفتن، ج1، ص 367، ح1076، تحقيق: سمير أمين الزهيري،* دار النشر: مكتبة التوحيد القاهرة، الطبعة: الأولى 1412
مضمون دوم:
حدثنا الْفَضْلُ بن دُكَيْنٍ قال: حدثنا فِطْرٌ عن عاصم عن زِرٍّ عن عبد اللهِ قال: قال رسول الله (ص): لاَ تَذْهَبُ الدُّنْيَا حتى يَبْعَثَ اللَّهُ رَجُلاً من أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي وَاسْمُ أبيه اسْمَ أبي.
ابن مسعود کہتے ہیں : رسول خدا صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک میرے اہل بیت میں سے ایک شخص جس نام میرے نام اور انکے والد کا نام میرے والد کے نام ہر ہوگا قیام نہ کردے
إبن أبي شيبة الكوفي، ابوبكر عبد الله بن محمد (متوفاى235 هـ)، الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار، ج7، ص513، ح37647، تحقيق: كمال يوسف الحوت، ناشر: مكتبة الرشد- الرياض، الطبعة: الأولى، 1409هـ.
الطبراني، ابوالقاسم سليمان بن أحمد بن أيوب (متوفاى360هـ)، المعجم الكبير، ج10، ص133، ح10213، تحقيق: حمدي بن عبدالمجيد السلفي، ناشر: مكتبة الزهراء - الموصل، الطبعة: الثانية، 1404هـ 1983م.
الحاكم النيسابوري، ابو عبدالله محمد بن عبدالله (متوفاى405 هـ)، المستدرك علي الصحيحين، ج4، ص 488، تحقيق: مصطفي عبد القادر عطا، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت الطبعة: الأولى، 1411هـ - 1990م.
مضمون سوم:
حدثنا الْعَبَّاسُ بن مُحَمَّدٍ الْمُجَاشِعِيُّ الأَصْبَهَانِيُّ ثنا محمد بن أبي يَعْقُوبَ الْكِرْمَانِيُّ ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بن مُوسَى عن زَائِدَةَ عن عَاصِمٍ عن زِرٍّ عن عبد اللَّهِ قال: قال رسول اللَّهِ صلى اللَّهُ عليه وسلم: لو لم يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلا يَوْمٌ لَطَوَّلَ اللَّهُ ذلك الْيَوْمَ حتى يَبْعَثَ اللَّهُ فيه رَجُلا مِنِّي أو من أَهْلِي أَهْلِ بَيْتِي يواطىء اسْمُهُ اسْمِي وَاسْمُ أبيه اسْمَ أبي.
رسول خدا صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: اگر دنیا کے فنا ہونے میں ایک دن بھی باقی رہ جائے تو اللہ اسء اتنا طولانی کر دےتاکہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص جس کا نام میرے نام اور والد کا نام میرے والد کے نام پر ہوگا قیام نہ کردے ۔
السجستاني الأزدي، ابوداود سليمان بن الأشعث (متوفاى 275هـ)، سنن أبي داود، ج4، ص106، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، ناشر: دار الفكر.
الطبراني، ابوالقاسم سليمان بن أحمد بن أيوب (متوفاى360هـ)، المعجم الكبير، ج10، ص135، ح10222، تحقيق: حمدي بن عبدالمجيد السلفي، ناشر: مكتبة الزهراء - الموصل، الطبعة: الثانية، 1404هـ 1983م.
مضمون چهارم:
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ بِالأُبُلَّةِ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمْلِكَ النَّاسَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي وَاسْمُ أَبِيهِ اسْمَ أَبِي فَيَمْلَؤُهَا قِسْطًا وَعَدْلا.
رسول خدا نے فرمایا: قيامت اس وقت نہیں آئے گی جبتک میرے اہل بیت میں سے ایک شخص جس کا نام میرے نام اور والد کا نام میرے والد کے نام ہر ہوگا لوگوں کے حاکم نہ بن جائے وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دینگے ۔
التميمي البستي، محمد بن حبان بن أحمد ابوحاتم (متوفاى354 هـ)، صحيح ابن حبان بترتيب ابن بلبان، ج15، ص236، تحقيق: شعيب الأرنؤوط، ناشر:مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: الثانية، 1414هـ ـ 1993م.
الهيثمي، ابوالحسن علي بن أبي بكر (متوفاى 807 هـ)، موارد الظمآن إلي زوائد ابن حبان، ج1، ص 464، تحقيق: محمد عبد الرزاق حمزة، ناشر:دار الكتب العلمية - بيروت.
الداني، أبو عمرو عثمان بن سعيد المقرئ (متوفاي444هـ)، السنن الواردة في الفتن وغوائلها والساعة وأشراطها، ج5، ص1042، تحقيق: د. ضاء الله بن محمد إدريس المباركفوري، دار النشر: دار العاصمة - الرياض، الطبعة: الأولى 1416
طريق عاصم عن زر بن حبيش عن عبد الله بن مسعود کی تحقیق :

عاصم عن زر، کا نقل مضطرب نقل ہوا ہے اگرچہ بہت سے راوی مسلم اور بخاری کے راوی ہیں لیکن پھر بھی سند مشکل ساز ہے اس لئے کہ تمام اسناد عاصم پر آتی ہیں اور وہ مضطرب الحدیث اور ضعیف حافظہ کے مالک تھا اور دشمن امام علی علیہ السلام میں سے تھا اور احتمال قوی ہے کہ مشکل اسی شخص کی وجہ سے ہے کیونکہ اس لئے اسی کی روایت زر سے ابن مسعود کی ہے وہ کئی بار بغیر اضافہ اسم ابيہ اسم ابي کے نقل ہوئی ہے اور دوسری سند صحیح سے بھی بغیر اضافہ کے نقل ہوئی ہے [يعنى از طريق عمرو بن مرة از زر) عن عبد الله بن مسعود ] کوئی اضافہ نہیں ہے
حتی کہ جن لوگوں نے اضافہ کے ساتھ نقل کیا ہے وہ بھی اس کے اضطراب کو سمجھ گئے ہیں کہ جس کی طرف مضمون اول میں گزر گیا ہے ۔
نیز عاصم کا اضطراب تقریبا علمائے اہل سنت کے اندر متفق علیہ ہے ابن حجر عاصم کے بارے میں علماء کی رائے کے حوالے سے کہتے ہیں :
عاصم بن بهدلة وهو بن أبي النجود الأسدي... قال بن سعد كان ثقة إلا أنه كان كثير الخطأ في حديثه... وقال يعقوب بن سفيان في حديثه اضطراب وهو ثقة... وقد تكلم فيه بن علية فقال كان كل من اسمه عاصم سيء الحفظ... وقال بن خراش في حديثه نكرة وقال العقيلي لم يكن فيه إلا سوء الحفظ وقال الدارقطني في حفظه شيء... وقال بن قانع قال حماد بن سلمة خلط عاصم في آخر عمره... وقال العجلي كان عثمانيا .
عاصم بن بهدلہ... ابن سعد کہتے ہیں وہ ثقہ ہے لیکن نقل کرنے میں بہت غلطیاں کرتا ہے ۔۔ يعقوب بن سفيان (فسوي) کہتے ہیں اسکی حدیث میں اضطراب ہے لیکن سچا ہے ۔۔۔ ابن علیہ نے کہا جس کا نام عاصم ہے اسکا حافظہ خراب ہے ۔۔ ابن خراش نے کہا اسکی حدیث میں منکرات ہیں ۔۔ اور عقیلی نے کہا : تہنا خرابی اس میں خرابی ِ حافظہ ہے دارقطنی نے کہا اسکے حفظ میں مسئلہ ہے ۔۔ ابن قانع نے کہا حماد بن سملہ نے کہا ہے کہ وہ اپنی عمر کے آخری ایام میں پاگل ہو گیا تھا ۔۔ عجلی نے کہا وہ عثمانی (دشمن حضرت علي علیہ السلام ) تھا !
العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاى852هـ)، تهذيب التهذيب، ج5، ص35 ش 67، ناشر: دار الفكر - بيروت، الطبعة: الأولى، 1404 - 1984 م.
اہم ترین نکتہ یہ ہے وہ عثمانی تھا اور تمام عثمانی دشمن علی علیہ السلام شمار ہوتے ہیں اگر اس کے رد کوئی اور دلیل بھی نہ ہو تو امر کافی کہ وہ عثمانی تھا۔
اس بناء پر استناد کرنا ایسی مضطرب حدیث کی طرف خصوصا مورد اضطراب والی حدیث کو صحیح نہیں حتی کہ وہ مسلم اور بخاری کا راوی بھی ہو
!
روایات کی تحقیق سند کا نتیجہ :
وہ روایات جس میں جملہ اسم ابيہ اسم ابي اضافہ ہے اہل سنت کے منابع میں چار طریق سے نقل ہوئی ہیں جس مین تین سو فیصد ضعیف ہے اور قابل استناد نہیں ہے صرف ایک طرق چہارم جو عاصم عن زر عن ابن مسعود کے ساتھ نقل ہوا ہے جوبخاری اور مسلم کا راوی ہے لیکن اس کا مرکزی متعدد اشکالات رکھتا ہے ایک دشمن علی عثمانی ہےدوسرے اضطراب اوراور تیسرے حافظہ ضعیف رکھتا ہے اس بناء پر متن مخدوش ہے اور قابل استدلال نہیں ہے
اسکے مقابل میں یہی روایت طريق عمر و بن مرة عن زر عن عبد الله بن مسعود بغیر اضافہ اور اضطراب کے سند صحیح سے آئی ہے
جو قاعدہ الزام کے تحت حجت ہے
اور اگر عاصم کی روایت اضطراب کی وجہ سے قبول نہ کیجائے تب ابو ہریرہ کی سند صحیح سے عن طريق عمرو بن مرة عن عبد الله بن مسعود جو کہ بغیر اضافی کے ، کافی ہے
2. علمائے اہل سنت کا اعتراف کہ اسم ابيه كاسم ابي باطل ہے یا جعلی ہے

جیسا ہم نے بیان کیا ہے کہ اسم ابيه كاسم ابي والی روایات کوئی بھی سند کے حساب سے معتبر نہیں ہے بعض علمائے نے ایک قدم آگے بڑ ھ کر اس حصہ ہو جعلی یا باطل قرار دیا دیا ہے ۔

1. علامه كنجي شافعي:
علامہ كنجى شافعى نے كتاب البيان فى أخبار صاحب الزمان میں لکھا ہے :
وجمع الحافظ أبو نعيم طرق هذا الحديث عن الجم الغفير في (مناقب المهدي) كلهم عن عاصم بن أبي النجود عن زر عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وآله.
حافظ ابو نعيم، نے اس روایت کو کافی لوگوں سے کتاب مناقب مہدی میں بیان کی ہیں کہ جو عاصم عن زر عن ابن مسعود سے [اضافہ اور بغیر اضافہ] ہیں
اس کے بعد 31 طریق کو بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں:
ورواه غير عاصم عن زر وهو عمرو بن مرة عن زر، كل هؤلاء رووا (اسمه اسمي) إلا ما كان من عبيد الله بن موسى عن زائدة عن عاصم فإنه قال فيه (واسم أبيه اسم أبي). ولا يرتاب اللبيب أن هذه الزيادة لا اعتبار بها مع اجتماع هؤلاء الأئمة على خلافها، والله أعلم.
... اس روايت کو عاصم عن زر کو چھوڑ کر ، عمرو بن مرہ عن زر نقل کیا ہےتمام روایوں نے جملہ اسمہ اسمي کے بغیر نقل کیا ہے لیکن "عبید اللہ بن موسی عن عن زائدہ عن عاصم " اسم ابیہ اسم ابی آیا ہے کسی عقلمند کو شک نہیں ہے یہ جملہ اضافی ہےاور زیادہ ہے اور معتبر نہیں ہے ساتھ ائمہ کا اجماع اس اضافہ کے خلاف قائم ہے پس معتبر نہیں ہے ۔
الگنجي الشافعي، الإمام الحافظ أبي عبد الله محمد بن يوسف بن محمد القرشي، (متوفي658هـ)، البيان في أخبار صاحب الزمان ص 483.
2. ربيع بن محمد السعودي
یہ وھابی رائٹر ہیں
كتاب الشيعة الامامية الاثنى عشرية فى ميزان الاسلام میں روايت لو لم يبق من الدنيا الاّ يوم واحد لطول اللّه‏ ذلك اليوم حتى يبعث اللّه‏ فيه رجلاً من اهل بيتي يواطئ اسمه اسمي واسم أبيه اسم ابي کو نقل کرکے کہتے ہیں :
ولا ريب انّ هذا قد وضعه اصحاب محمد بن عبد اللّه‏ النفس الزكية، فانّه كان معروفا بكونه المهدي.
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس کو محمد بن عبد اللہ نفس زکیہ کے حامیوں نے گڑا ہے اس لئے کہ وہ مہدی موعود کے لقب سے معروف تھے ۔
الشيعة الامامية الاثني عشرية في ميزان الاسلام ص 307 المولف: الشيخ ربيع بن محمد السعودي، طبعة مكتبة العلم بجدة الطبعة الثانية 1414
3. استاد سعد محمد حسن [ استاد اساتيد الازهر]:
استاد سعد محمد حسن ازهرى نے كتاب المهدية فى الإسلام، ص69، میں یہ صراحت کے ساتھ کہتے ہیں کہ وہ روایات جس میں (اسم أبيه اسم أبي) پایا جاتا ہے سب جعلی ہیں لیکن تعجب کی بات یہ ہے ابن تیمیہ نے جعل [ حذف روایت] کی نسبت شیعہ کی طرف دی ہے تاکہ اپنے بات میں وزن پیدا کر سکیں [یعنی الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ]
أحاديث (اسم أبيه اسم أبي) أحاديث موضوعة، ولكن الطريف في تصريحه أنه نسب الوضع إلى الشيعة الإمامية لتؤيد بها وجهة نظرها على حد تعبيره.
مركز الرسالة، المهدي المنتظر في الفكر الإسلامى،* ص 73، ناشر: مركز الرسالة - قم، چاپخانه: مهر قم،* چاپ: الأولى1417هـ.
اس اضافہ کو جعل کرنے کا سبب کیا ہے ؟
شیعہ سنی کتب سے یہ اشارہ ملتا ہے یہ جملہ اسم ابيه اسم ابي، مدعيان مهدويت کا شاخسانہ ہے کتب تاریخی و روائی سے معلوم ہوتا جن لوگوں نےخود مہدویت کا دعوی کیا یا لوگوں ا نھیں مہدی مشہور کر دیا ان میں سے محمد بن عبد اللہ بن حسن المثنی ، اور محمد بن عبد اللہ منصور بادشاہِ عباسی ہیں ان دونوں کا نام محمد بن عبد اللہ ہے اور اہل سنت کے علماء نے کہا ہے یہ جعل اضافہ اپنی پبلسٹی کی خاطر انجام دیا ہے :

1. محمد بن عبد الله بن حسن:
تاریخ میں آیا ہے عبد الله بن حسن نے اپنے فرزند محمد، کے لئے ادعائے مہدویت کیا :
جیسا کہ چند سطر قبل عالم وهابى ربيع بن محمد سعودى نے کہا :
ولا ريب انّ هذا قد وضعه اصحاب محمد بن عبد اللّه‏ النفس الزكية، فانّه كان معروفا بكونه المهدي. اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس کو محمد بن عبد اللہ نفس زکیہ کے حامیوں نے گڑا ہے اس لئے کہ وہ مہدی موعود کے لقب سے معروف تھے
الشيعة الامامية الاثني عشرية في ميزان الاسلام ص 307 المولف: الشيخ ربيع بن محمد السعودي، طبعة مكتبة العلم بجدة الطبعة الثانية 1414
اسی طرح محمد بن على بن طباطبا معروف به ابن طقطقى عالم علم انساب کہتے ہیں :
كان النفس الزكية من سادات بني هاشم ورجالهم فضلاً وشرفاً وديناً وعلماً وشجاعة وفصاحة ورياسة وكرامة ونبلاً. وكان في ابتداء الأمر قد شيع بين الناس أنه المهدي الذي بشر به، وأثبت أبوه هذا في نفوس طوائف من الناس. وكان يروى أن الرسول، صلوات الله عليه وسلامه، قال: لو بقي من الدنيا يوم لطول الله ذلك اليوم حتى يبعث فيه مهدينا أو قائمنا، اسمه كاسمي واسم أبيه كاسم أبي. فأما الإمامية فيروون هذا الحديث خالياً من: واسم أبيه كاسم أبي.
فكان عبد الله المحض يقول للناس عن ابنه محمد: هذا هو المهدي الذي بشر به، هذا محمد بن عبد الله....
نفس الزكيه ، سادات بنى*هاشم میں سے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابتدا ء سے ہی لوگوں میں مشہوت ہوگیا کہ یہ مہدی موعود ہیں
اور انکے والد نے لوگوں کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی اور روایت کرتے تھے کہ اگر دنیا میں ایک دن بھِی باقی رہے تو اللہ اسے طولانی کردے گہ یہاں تک اس میں ہمارا مہدی اور قائم بھیجا جائےجس کا نام میرے نام اور انکے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہوگا جہاں تک امامیہ کی بات یہ تو وہ حدیث کو "اسم أبيه كاسم أبي: کے بغیر روایت کرتے ہیں عبد اللہ محض لوگوں کو کہتا تھا کہتا تھا اپنے بیٹے کے بارے میں یہ وہی مہدی ہے جس کی بشارت دی گئی تھی یہ محمد بن عبد اللہ ہے ۔۔۔۔
الطقطقي، محمد بن علي بن طباطبا المعروف بابن الطقطقي (متوفاي709هـ) الفخري في الآداب السلطانية، ج1، ص61، دار النشر:
اہل سنت کے عالم ابو الفرج اصفهانى نے کہا ہے بعض بنی ہاشم نے جمع اجتماع کیا اور عبد اللہ بن حسن المثنی نے اپنے فرزند کو مہدی سے تعارف کروایا ۔
:
أَنَّ جَمَاعَةً مِنْ بَنِي هَاشِمٍ اجْتَمَعُوا بِالْأَبْوَاءِ وَفِيهِمْ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ وَأَبُو جَعْفَرٍ الْمَنْصُورُ وَصَالِحُ بْنُ‏ عَلِيٍّ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ وَابْنَاهُ مُحَمَّدٌ وَإِبْرَاهِيمُ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ فَقَالَ صَالِحُ بْنُ عَلِيٍّ...
فَحَمِدَ اللَّهَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ قَدْ عَلِمْتُمْ أَنَّ ابْنِي هَذَا هُوَ الْمَهْدِيُّ فَهَلُمَّ فَلْنُبَايِعْهُ. قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ لِأَيِّ شَيْ‏ءٍ تَخْدَعُونَ أَنْفُسَكُمْ وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَا النَّاسُ إِلَى أَحَدٍ أَصْوَرَ أَعْنَاقاً وَلَا أَسْرَعَ إِجَابَةً مِنْهُمْ إِلَى هَذَا الْفَتَى يُرِيدُ بِهِ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ. قَالُوا قَدْ وَاللَّهِ صَدَقْتَ أَنَّ هَذَا الَّذِي نَعْلَمُ. فَبَايَعُوا مُحَمَّداً جَمِيعاً وَمَسَحُوا عَلَى يَدِهِ
..
الاصفهاني، مقاتل الطالبيين، اسم المؤلف: أبو الفرج علي بن الحسين (متوفاى356هـ)، ص141، طبق برنامه الجامع الكبير
اس احتمال پر اعتراض :
سيد بن طاووس نے اقبال میں اور علامہ مجلسى نے بحار میں کہا ہےب کپ بنی حسن کا کبھِی بھی یہ عقیدہ نہیں تھا کہ محمد بن عبد اللہ بن حسن مثنی کو مہدی جانتے ہوں
سيد بن طاووس لکھتے ہیں:
ان بني الحسن عليه السلام ما كانوا يعتقدون فيمن خرج منهم انه المهدي صلوات الله عليه وآله وان تسموا بذلك ان أولهم خروجا وأولهم تسميا بالمهدي محمد بن عبد الله بن الحسن عليه السلام.

فرزندانِ امام حسن عليہ السلام نے کبھی یہ رائے نہیں رکھی ہے کہ جس کوئی بھی قیام کرے وہ مہدی سلام اللہ علیہ ہے اگرچہ اسے مہدی کہتے تھے اور یہ وہ تھے جس کا نام محمد بن عبد اللہ ہو اور قیام کیا ہو ۔
ابن طاووس، رضي الدين علي بن موسي بن جعفر السيد ابن طاووس (متوفاي664هـ)، الاقبال باالاعمال الحسنة فيما يعمل مرة في السنة، ج3، ص88، تحقيق: جواد القيومي الاصفهاني، ناشر: مكتب الإعلام الإسلامي، الطبعة الأولى 1416
المجلسي، محمد باقر (متوفاى 1111هـ)، بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار، ج47، ص304، تحقيق: محمد الباقر البهبودي، ناشر: مؤسسة الوفاء - بيروت - لبنان، الطبعة: الثانية المصححة، 1403هـ - 1983م.
ابن طاوس دلیل کو طور پر لکھتے ہیں:
وروي في حديث قبله بكراريس من الأمالي عن أبي خالد الواسطي أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ قَالَ: يَا أَبَا خَالِدٍ إِنِّي خَارِجٌ وَأَنَا وَاللَّهِ مَقْتُولٌ ثُمَّ ذَكَرَ عُذْرَهُ فِي خُرُوجِهِ مَعَ عِلْمِهِ أَنَّهُ مَقْتُول‏. وكل ذلك يكشف عن تمسكهم بالله والرسول صلى الله عليه وآله.
يحى بن الحسين حسنى سے امالى میں ابو خالد واسطی کے توسط سے یہ بات نقل ہوئی ہے کہ محمد بن عبد اللہ بن حسن کہتے ہیں کہ اے ابو خالد میں قیام کر رہاں ہوں لیکن اللہ کی قسم میں قتل کر دیا جاونگا پھر اپنے قتل کے علم کے با وجود قیام کی وجہ بتائی ہے کہ تاکہ بنی حسن حق کی راہ اور اللہ و رسول کے راستے سے منحرف نہ ہوجائیں
ابن طاووس، رضي الدين علي بن موسي بن جعفر السيد ابن طاووس (متوفاي664هـ)، الاقبال باالاعمال الحسنة فيما يعمل مرة في السنة، ج3، ص88، تحقيق: جواد القيومي الاصفهاني، ناشر: مكتب الإعلام الإسلامي، الطبعة الأولى 1416
2. محمد بن عبد الله ابي جعفر منصور:


تاریخ کی رو سے دوسرا شخص جس نے مہدویت کا ادعا کیا ہے ، محمد بن عبد اللہ مہدی عباسی ہے ابن تیمیہ اور ابن کثیر کے مطابق مہدی عباسی حدیث رسول صلی اللہ علیہ و آلہ جس میں بشارت آئی ہے کا مصداق بن کے لئے مہدی لقب حاصل کیا

اعتراض:
ہو سکتا ہے کوئی یہ کہے کہ اضافہ والی روایت بغیر اضافہ والی روایت کی تفسیر اور تقیید کرتے؟ !

جواب اول:اضافہ والی کو سند معتبر رکھنا چاہئے تاکہ مفسر بن سکے !

جیسا کہ ثابت ہوا کہ دوسری کیٹگری کی روایت سند معتبر نہیں رکھتی ہے تاکہ ناقص روایت کو کامل کر سکے ۔
جواب دوم: علمائے اهل سنت، خود اس اضافہ کو تعارض جانتے ہیں
جیسا کہ پہلے بیان ہوا ابن تیمیہ اور اہل سنت دوسرے علماء روایت اضافہ اور روایت بغیر اضافہ میں تعارض کے قائل ہوئے ہیں اسی وجہ سے ابن تیمیہ نے کہا :کمی والی روایت کوشیعوں نے گڑا ہے !!!۔
اسکے علاوہ ایک جماعت اہل کی علماء میں سے یہ کہتی ہے اضافہ والی روایت جعلی ہے اسی وجہ علماء اہل سنت کہتے ہیں کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک جعلی ہے نہ ایک روایت دوسری روایت کی تفسیر کرتی ہے ۔
علامه كنجى شافعى کا کلام ، ہمارے بات پر ایک تائید ہے :
والقول الفصل في ذلك أن الإمام أحمد مع ضبطه واتقانه روى هذا الحديث في مسنده في عدة مواضع واسمه اسمي.

حتمی اور آخری بات اس نزاع میں یہ ہے کہ امام احمد نے جو انکا طریقہ ہے حدیث کو ضبط کرنے میں اور اتقان حدیث کرنے میں ، انھوں اپنی مسند میں فقط وہ روایات نقل کی ہے جس میں واسمه اسمي ہے اور کوئی اضافہ نہیں ہے
الإربلي، أبي الحسن علي بن عيسي بن أبي الفتح (متوفى693هـ)، كشف الغمة في معرفة الأئمة، ج3، ص277، ناشر: دار الأضواء ـ بيروت، الطبعة الثانية، 1405هـ ـ 1985م.
نتيجه:

علماء اہل سنت کی آراء کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ کہتے ہیں جملہ واسم ابيه اسم ابي، اضافہ شدہ ہے ،یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ روایت جعلی اور کذب ہیں اور پہلے کیٹگری کی روایت جو کہ صحیح ہیں اپنے مقام پر حجت باقی ہیں۔
ابن تيميہ کا یہ ادعا کہ یہ روایت تحریف ہوئی ہیں جبکہ تحریف کا کوئی محل نہیں ہے بلکہ علماء اہل سنت کی طرف سے اس کی تاویل کی گئی ہیں پس تحریف اور تاویل میں فرق ہے ۔
4. بر فرض ہم روايات اسم ابيه... کو صحیح بھی مان لیں تب بھی متن قابل توجیح ہے.

1. مراد از اسم ابيه كنيه امام حسين عليه السلام است
علامہ كنجى شافعى کہتے ہیں: مراد ابيہ، سے كنيت امام حسين عليہ السلام ہے اور رسول خدا صلى الله عليه وآلہ نے کنیت امام حسین علیہ السلام کو امام مہدی کا نام قرار دیا ہو تاکہ سمجھا سکے مہدی نسل امام حسین میں سے ہیں نہ امام حسن علیہ السلام میں سے ہیں۔
ہمارے پاس کنجی کی کتاب نہں ہے ہم بحار سے نقل کررہے ہیں انھوں نے كتاب كفاية الطالب ص 485، علامہ كنجى سے نقل کیا ہے
لکھتے ہیں :
ِ وَإِنْ صَحَّ فَمَعْنَاهُ وَاسْمُ أَبِيهِ اسْمَ أَبِي أَيِ الْحُسَيْنُ وَكُنْيَتُهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ فَجَعْلُ الْكُنْيَةِ اسْماً كِنَايَةٌ عَنْ أَنَّهُ مِنْ وُلْدِ الْحُسَيْنِ دُونَ الْحَسَن‏.
الإربلي، أبي الحسن علي بن عيسي بن أبي الفتح
(متوفاى693هـ)، كشف الغمة في معرفة الأئمة، ج3، ص277، ناشر: دار الأضواء ـ بيروت، الطبعة الثانية، 1405هـ ـ 1985م.
المجلسي، محمد باقر (متوفاى 1111هـ)، بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار، ج51، ص86، تحقيق: محمد الباقر البهبودي، ناشر: مؤسسة الوفاء - بيروت - لبنان، الطبعة: الثانية المصححة، 1403هـ - 1983م.
ابن طلحہ شافعى نے بھی ابن تیمیہ کے جواب میں کہا ہے اور اس طرح تاویل کی ہے :

فالجواب: لا بد قبل الشروع في تفصيل الجواب من بيان أمرين يبتني عليهما الغرض:
الأول: إنه سايغ شائع في لسان العرب إطلاق لفظة الأب على الجد الأعلى وقد نطق القرآن الكريم بذلك فقال ملة أبيكم إبراهيم (حج/78) وقال تعالى حكاية عن يوسف واتبعت ملة آبائي إبراهيم وإسحاق (يوسف/38) ونطق به النبي وحكاه عن جبرئيل في حديث الإسراء أنه قال: قلت: من هذا؟ قال: أبوك إبراهيم. فعلم أن لفظة الأب تطلق على الجد وإن علا، فهذا أحد الأمرين.
والأمر الثاني: إن لفظة الاسم تطلق على الكنية وعلى الصفة وقد استعملها الفصحاء ودارت بها ألسنتهم ووردت في الأحاديث، حتى ذكرها الإمامان البخاري ومسلم، كل واحد منهما يرفع ذلك بسنده إلى سهل بن سعد الساعدي أنه قال عن علي: والله إن رسول الله سماه بأبي تراب ولم يكن له اسم أحب إليه منه. فأطلق لفظة الاسم على الكنية
....
فإذا أوضح ما ذكرناه من الأمرين فاعلم أيدك الله بتوفيقه: إن النبي كان له سبطان: أبو محمد الحسن وأبو عبد الله الحسين، ولما كان الخلف الصالح الحجة من ولد أبي عبد الله الحسين ولم يكن من ولد أبي محمد الحسن، وكانت كنية الحسين أبا عبد الله، فأطلق النبي على الكنية لفظة الاسم لأجل المقابلة بالاسم في حق أبيه، وأطلق على الجد لفظة الأب. فكأنه قال: يواطئ اسمه اسمي، فهو محمد وأنا محمد وكنية جده اسم أبي، إذ هو أبو عبد الله وأبي عبد الله. لتكون تلك الألفاظ المختصرة جامعة لتعريف صفاته وإعلاما أنه من ولد أبي عبد الله الحسين بطريق جامع موجز. وحينئذ تنتظم الصفات وتوجد بأسرها مجتمعة للحجة الخلف الصالح محمد. وهذا بيان شاف كاف لإزالة ذلك الإشكال، فافهمه "
جواب: تفصیلی جواب دینے سے پہلے دو باتیں بیان کرنا بہت اہم ہے تاکہ جواب واضح ہوجائے
پہلی بات : یہ کہ عربی زبان میں یہ بہت زیادہ ہے کہ "اب" "جد اعلی" کے لئے استعمال ہوتا ہے اس کی مثال قرآن میں ہے کہ اللہ نے فرمایا : ملة ابيكم ابراهيم یوسف علیہ السلام سے حکایت کر کے خدا فرمایا رہا ہے واتبعت ملة آبائى ابراهيم و اسحاق ۔۔
دوسری بات : یہ ہے کہ لفظ اسم کا كنيت پر اور صفت پر بھی پر اطلاق ہوتا ہے اور فصیح عرب نے اسے استعمال بھی کیا ہے اور روایات میں بھی آیا ہے
اور بخارى و مسلم نے وہ روایات بیان کی ہیں : سعد سے روایت کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ نے علی کا نام ابو تراب رکھا اور رسول اکرم کے نزدیک اس سے زیادہ محبوب کوئی اور نام نہ تھا : پس لفظ اسم کو کنیت پر اطلاق کیا ہے ۔
جب یہ دو باتیں اپ کے لئے واضح ہوگئی ہے تو اللہ کی مدد یہ جان لئجئے کہ اللہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کو دو نواسے دیئے تھے یک ابو محمد حسن اور دوسرے ابو عبد اللہ حسین اور مہدی امام حسین علیہ کی ذریہ سے ہیں اس لئے آپ ص نے کنیت کو نام کی جگہ استعمال کیا اور لفظ اب کو جد کی جگہ استعمال کیا تاکہ مختصر لفظ سے وسیع معانی کو بیان کر سکیں اور یہ اعتراض کو دور کرنے کے لئے کافی اور شافی ہے
الشافعي، محمد بن طلحة (متوفاي652هـ)، مطالب السؤول في مناقب آل الرسول (ع)، ص 488، تحقيق: ماجد ابن أحمد العطية. طبق برنامه كتابخانه اهل بيت.
2. دوسرا احتمال یہ ہے کہ* جمله اسم ابيه اسم ابي تصحيف ہوگیا ہے :
كنجى شافعى نے یہ بھی احتمال بیان کیا ہے کہ آپ صلى الله عليه وآله نے فرمایا ہو : واسم ابيه اسم ابني لیکن راوی نے ابي لکھ دیا ہو
:
ويحتمل ان يكون الراوي توهم قوله ابني فصحفه فقال أبي.
الإربلي، أبي الحسن علي بن عيسي بن أبي الفتح
(متوفاى693هـ)، كشف الغمة في معرفة الأئمة، ج3، ص277، ناشر: دار الأضواء ـ بيروت، الطبعة الثانية، 1405هـ ـ 1985م.

نتيجه:
تمام باتوں سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ
1. روايات اهل سنت، کلمہ اسمہ اسمي کے ساتھ متعدد سند صحیح کے ساتھ نقل ہوئی ہے اور ابن تیمیہ کا یہ الزام کہ ناقص روایات شیعہ کی گڑی ہوئی ہیں سراسر جہل ہے جو انھیں اپنی کتب کا علم نہیں ہے یا پھر عناد نے انھیں اس بات پر مجبور کیا ہے تاکہ حقیقت کو مخفی رکھا جائے۔
یہ مطلب ثابت ہونے کے بعد پہلی اقسام کی روایات جو شیعہ عقیدہ کے عین مطابق ہیں اسمه اسمي فقط ثابت کرتی ہیں اب اہل سنت کا فرض ہے کہ وہ اضافہ کو کسی صحیح السند روایات سے ثابت کریں
2. تمام کی تمام اسناد روايات اهل سنت جو اسم ابيه اسم ابي کے ساتھ ہیں ضعیف ہیں یا پھر راوی کے اضطراب کی وجہ سے حجت کے درجہ سے ساقط ہیں۔
3. اضافہ والی روایات مفسر نہیں بن سکتی ہیں اس لئے اہل سنت کی صراحت کہتی ہے کہ ان دو میں تعارض موجود ہے روایات اضافی یا روایات بغیر اضافی جعلی ہیں
4. اگر فرض کر بھی لیا جائے کہ اضافہ صحیح ہے تب بھی متن عقیدہ شیعہ کے منافی نہیں ہے
نتیجتا عقیدہ شیعہ [امام مہدی علیہ السلام کے والد کا نام حسن[امام حسن عسکری علیہ السلام ] ہے شیعہ اور سنی روایات صحیحہ سے ماخوذہ ہے اور یہ دونوں فریق کی روایت شیعہ موقف کی تائید کرتی ہیں

نوٹ : اگر کوئی اس مقالہ کا جواب چاہئے اس پر لازم ہے کہ ہماری دلیل اور احتمال میں فرق کو سامنے رکھیں ہم نے اول میں دلیلیں دین ہے اور بعد میں تنزلی کی صورت میں احتمالات دیئے ہیں جو استدلال مخالف کو حجیت سے نکال دیتا ہے لھذا سب سے پہلے ہماری ادلہ کا جواب دیا جائے بعد میں اگر کوئی احتمالات پر بات کرنا چاہیں تو کر سکتا ہے ۔

تبصرے

نام

ابن ابی حدید,2,ابنِ تیمیہ,8,ابن جریر طبری شیعہ,1,ابن حجر مکی,2,ابن خلدون,1,ابن ملجم لعین,1,ابو یوسف,1,ابوسفیان,1,ابومخنف,1,اجماع,2,احمد بن محمد عبدربہ,1,اعلی حضرت احمد رضا خان بریلوی,7,افطاری کا وقت,1,اللہ,4,ام المومنین ام سلمہ سلام علیھا,2,امام ابن جوزی,1,امام ابو زید المروزی,1,امام ابوجعفر الوارق الطحاوی,2,امام ابوحنیفہ,17,امام احمد بن حنبل,1,امام الزھبی,2,امام بخاری,1,امام جعفر صادق علیہ السلام,3,امام حسن علیہ السلام,11,امام حسین علیہ السلام,21,امام شافعی,5,امام علی رضا علیہ السلام,1,امام غزالی,3,امام مالک,3,امام محمد,1,امام مہدی عج,5,امامت,4,امداد اللہ مکی,1,اہل بیت علیھم السلام,2,اہل حدیث,16,اہل قبلہ,1,آذان,2,آن لائن کتابوں کا مطالعہ,23,آیت تطہیر,1,بریلوی,29,بریلوی اور اولیاء اللہ کے حالات,2,بنو امیہ,2,تبرا,8,تحریف قرآن,6,تراویح,2,تقابل ادیان و مسالک,33,تقيہ,2,تکفیر,3,جنازہ رسول اللہ,1,جنگ جمل,4,جنگ صفین,1,حافظ مبشر حسین لاہوری,1,حدیث ثقلین,5,حدیث طیر,1,حدیث غدیر,7,حدیث قرطاس,1,حضرت ابن عباس رض,3,حضرت ابو طالب علیہ السلام,5,حضرت ابوبکر,20,حضرت ابوزر غفاری رض,1,حضرت ام اکلثوم سلام علیھا,2,حضرت خدیجہ سلام علھیا,1,حضرت عائشہ بنت ابوبکر,14,حضرت عثمان بن عفان,7,حضرت علی علیہ السلام,64,حضرت عمار بن یاسر رض,3,حضرت عمر بن خطاب,23,حضرت عیسیٰ علیہ السلام,4,حضرت فاطمہ سلام علیھا,16,حضرت مریم سلام علیھا,1,حضرت موسیٰ علیہ السلام,2,حفصہ بنت عمر,1,حلالہ,1,خارجی,2,خالد بن ولید,1,خلافت,10,دورود,1,دیوبند,55,رافضی,3,رجال,5,رشید احمد گنگوہی,1,روزہ,3,زبیر علی زئی,7,زنا,1,زیاد,1,زیارات قبور,1,زيارت,1,سب و شتم,2,سجدہ گاہ,3,سرور کونین حضرت محمد ﷺ,14,سلیمان بن خوجہ ابراہیم حنفی نقشبندی,1,سلیمان بن عبد الوہاب,1,سنی کتابوں سے سکین پیجز,284,سنی کتب,6,سولات / جوابات,7,سیرت معصومین علیھم السلام,2,شاعر مشرق محمد اقبال,2,شاعری کتب,2,شجرہ خبیثہ,1,شرک,8,شفاعت,1,شمر ابن ذی الجوشن لعین,2,شیخ احمد دیوبندی,3,شیخ عبدالقادرجیلانی,1,شیخ مفید رح,1,شیعہ,8,شیعہ تحریریں,8,شیعہ عقائد,1,شیعہ کتب,18,شیعہ مسلمان ہیں,5,صحابہ,18,صحابہ پر سب و شتم,1,صحیح بخاری,5,صحیح مسلم,1,ضعیف روایات,7,طلحہ,1,عبادات,3,عبدالحق محدث دہلوی,1,عبداللہ ابن سبا,1,عبدالوہاب نجدی,2,عرفان شاہ بریلوی,1,عزاداری,4,علامہ بدرالدین عینی حنفی,1,علمی تحریریں,76,علیہ السلام لگانا,1,عمامہ,1,عمر بن سعد بن ابی وقاص,1,عمران بن حطان خارجی,2,عمرو بن العاص,3,غزوہ احد,1,غم منانا,12,فتویٰ,4,فدک,3,فقہی مسائل,17,فیض عالم صدیقی ناصبی,1,قاتلان امام حسینؑ کا مذہب,6,قاتلان عثمان بن عفان,1,قادیانی,3,قادیانی مذہب کی حقیقت,32,قرآن,5,کالا علم,1,کتابوں میں تحریف,5,کلمہ,2,لفظ شیعہ,2,ماتم,3,مباہلہ,1,متعہ,4,مرزا بشیر احمد قادیانی,2,مرزا حیرت دہلوی,2,مرزا غلام احمد قادیانی,28,مرزا محمود احمد,2,مسئلہ تفضیل,3,معاویہ بن سفیان,25,مغیرہ,1,منافق,1,مولانا عامر عثمانی,1,مولانا وحید الزماں,3,ناصبی,22,ناصر الدین البانی,1,نبوت,1,نماز,5,نماز جنازہ,2,نواصب کے اعتراضات کے جواب,71,واقعہ حرا,1,وسلیہ و تبرک,2,وصی رسول اللہ,1,وضو,3,وہابی,2,یزید لعنتی,14,یوسف کنجی,1,Requests,1,
rtl
item
شیعہ اہل حق ہیں: کیا امام مہدی [علیہ السلام] کے والد کا نام عبد اللہ ہے؟ | ایک الزام کا جواب
کیا امام مہدی [علیہ السلام] کے والد کا نام عبد اللہ ہے؟ | ایک الزام کا جواب
کیا امام مہدی [علیہ السلام] کے والد کا نام عبد اللہ ہے؟ | ایک الزام کا جواب أن الاثنى عشرية الذين ادّعوا أن هذا هو مذهبهم، مهديهم اسمه محمد بن الحسن. والمهدي المنعوت الذي وصفه النبي صلي الله عليه وسلم اسمه محمد بن عبد اللّه‏. ولهذا حذفت طائفة ذكر الأب من لفظ الرسول حتى لا يناقض ما كذبت. وطائفة حرّفته، فقالت: جده الحسين، وكنيته أبو عبد اللّه‏، فمعناه محمد بن أبي عبد اللّه‏، وجعلت الكنية اسما مہدی کی روایات مشہور و معروف ہیں کہ جسے امام احمد بن حنبل ، ابو داود ، ترمذی اور دیگران نے نقل کیاہے مثلا روایت عبد اللہ بن مسعود ہے کہ : حضرت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا: اگر دنیا کے فنا ہونے میں ایک دن بھی باقی رہ جائے تو اللہ اس دن کو اتنا طولانی کردے تاکہ میرے اہل بیت میں سے ایک مرد کو بھیجے جس کا نام میرے نام پر اور انکے والد کا نام میرے والد کے نام پرہوگا وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دینگے جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی
شیعہ اہل حق ہیں
https://www.shiatiger.com/2014/04/imammehdikwalidkanaam.html
https://www.shiatiger.com/
https://www.shiatiger.com/
https://www.shiatiger.com/2014/04/imammehdikwalidkanaam.html
true
7953004830004174332
UTF-8
تمام تحریرں دیکھیں کسی تحریر میں موجود نہیں تمام دیکھیں مزید مطالعہ کریں تبصرہ لکھیں تبصرہ حذف کریں ڈیلیٹ By مرکزی صفحہ صفحات تحریریں تمام دیکھیں چند مزید تحریرں عنوان ARCHIVE تلاش کریں تمام تحریرں ایسی تحریر موجود نہیں ہے واپس مرکزی صفحہ پر جائیں Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS PREMIUM CONTENT IS LOCKED STEP 1: Share to a social network STEP 2: Click the link on your social network Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy Table of Content