سب علی پر مصری عالم دین احمد زکی صفوت کی تحقیق


مصری عالم دین احمد زکی صفوت کی تحقیق سب علی پر


احمد زکی صفوت مصر کے مشہور عالم دین ہیں جنہوں نے ایک کتاب لکھی ہے "عمر ابن عبدالعزیز"۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ کیا ہے "عبدالصمد صارم الازھری" صاحب نے۔
"حضرت علی پر تبرا بازیجناب عمر [ابن عبدالعزیز] نے منبروں پر حضرت علی پر تبرا کہنا ممنوع قرار دیا، امیر معاویہ کی خلافت کے بعد سے تبرا ہوتا چلا آ رہا تھا۔مورخین نے بیان کیا ہے کہ امیر معاویہ نے سن 41 ہجری میں اپنے گورنروں کو لکھا کہ میں اس شخص سے بری الذمہ ہوں جس نے علی یا ان کے گھرانے کے بارے میں کسی قسم کے فضائل بیان کیے۔ لہذا ہر گاوں اور ہر منبر پر خطیب حضرت علی کو لعن طعن کرنے لگے، ان سے برات کا اظہار کرنے لگے اور انکے اور انکے گھرانے کے بارے میں زبان درازی کرنے لگے۔امیر معاویہ نے تمام اطراف مملکت میں لکھ بھیجا تھا کہ شیعان علی میں سے اور انکے خاندانوں میں سے کسی شخص کی گواہی کو نہ مانا جائے۔ پھر اسکے بعد ایک اور چٹھی میں لکھا:"دیکھو جس کسی کے بارے میں یہ معلوم ہو جائے کہ وہ علی اور انکے اہلبیت سے محبت کرتا ہے اسکا نام دفتر سے خارج کر دو اور اسکا وظیفہ بند کر دو، ایک دوسری چٹھی میں لکھا جس کسی کو ان لوگوں کا دوست پاو اسکو سخت سزائیں دو اور اسکا گھر ڈھا دو۔حضرت امیر معاویہ حج کے لیے گئے تو مدینہ بھی گئے۔ انہوں نے چاہا کہ رسول اللہ کے منبر پر کھڑے ہو کر حضرت علی کے بارے میں اپنی اختلافی رائے بیان کریں تو اُن سے لوگوں نے کہا، یہاں سعدب بن ابی وقاص ہیں، وہ اس بات کو گوارا نہیں کر سکیں گے، پہلے انکے پاس کسی کو بھیج کر انکی رائے دریافت کیجئے۔ معاویہ نے انکے پاس قاصد بھیجا اور اس امر کا تذکرہ کیا۔ تو انہوں نے فرمایا، اگر آپ نے ایسا کیا تو میں مسجد سے نکل جاون گا اور دوبارہ مسجد میں قدم نہیں رکھوں گا۔ لہذا معاویہ اس سے باز رہے حتی کہ سن 55 ہجری میں سعد بن ابی وقاص کا انتقال ہو گیا۔ جن انکا انتقال ہو گیا تو معاویہ نے حضرت علی کی منبر [رسول] پر چھڑ کی مذمت کی اور اپنے تمام عمال کو لکھا کہ وہ مبروں پر انکی مذمت کریں۔ چنانچہ انہوں نے حکم کی تعمیل کی۔ حضرت ام سلمہ نے حضرت معاویہ کو لکھا کہ تم اللہ اور رسول کو مبروں پر لعن طعن کرتے ہو کیونکہ تم علی ابن ابی طالب اور انکے دوستوں پر طعن کرتے ہو۔ میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کا رسول ان سے محبت کرتا تھا۔ امیر معاویہ نے انکی بات کی طرف کچھ بھی دھیان نہ دیا۔

علامہ عبد العزیز سید الاھل

انہوں نے بھی حضرت عمر بن عبدالعزیز پر ایک کتاب "خلیفہ الزاہد" کے نام سے لکھی ہے۔

اس کتاب کا اردو ترجمہ مولانا راغب رحمانی نے کیا ہے اور نفیس اکیڈمی کراچی نے اس کو شائع کیا ہے؛

سکین شدہ صفحے کا آنلائن عکس:

"بدعت معاویہ:اسلامی شہروں میں قابل افسوس و رسوا کن اور حیا سوز ایک بدعت سرایت کر رہی تھی۔ جس نے شہروں کی ناک کاٹ کر رکھ دی تھی۔ پھر یہ بدعت بڑھتے بڑھتے تمام منبروں پر چھا گئی تھی۔ اور تمام کانوں میں بھِی گونجنے لگی تھی۔ اور مسجد نبوی میں بھی گھس گئی تھی۔ اور آپ [صل اللہ علیہ و آلہ وسلم] کے منبر پر بھی چڑھ گئی تھی۔ اورانکا اپنے حکام کو حکم تھا کہ اس بدعت کو جمہ کے خطبوں میں منبروں پر دہرایا جائے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کا خیا ل تھا کہ جب یہ بات لگاتار لوگوں کے کان کھٹکاتی رہے گی اور ان لوگوں کے دلوں میں ٹھونسی جاتی رہے گی تو لوگ ضرور اس سے متاثر ہوں گے اور ان کے دل ہماری طرف جھک جائیں گے۔

حصہ دوم خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا تجزیہ [ از ملک غلام علی ]

مختصر تعارف:

مولانا مودودی نے ایک کتاب " خلافت و ملوکیت " تحریر کی اور اس میں خلافت عثمان میں اٹھنے والی برائیوں کا ذکر کیا، اور پھر جمل و صفین وغیرہ کی وجوہات اور چند صحابہ کی غلطیوں کا ذکر کیا اور پھر معاویہ ابن ابی سفیان اور اسکے گورنروں کا علی ابن ابی طالب کو منبروں سے گالیاں دینے کا ذکر تاریخی حوالوں کے ساتھ کیا۔ اس پر انتہا پسند طبقات میں مخالفت کی لہر دوڑ گئی اور انہیں گوارا نہ تھا کہ کبھی تاریخی حقائق قوم کے سامنے پیش ہوں۔

خلافت و ملوکیت کے جواب میں ان طبقات کی طرف سے بہت سے کتب جواب میں لکھی گئیں۔ ان میں تقی عثمانی صاحب کی کتاب سب سے زیادہ مشہور ہوئی کیونکہ انہوں نے بہت چالاکی سے مواد کو یوں پیش کیا کہ جس سے تاریخی حقائق مٹنے لگے۔

اس لیے جماعت اسلامی کے ریٹائرڈ جسٹس " ملک غلام علی " صاحب کو جواب دے کر تاریخی حقائق پھر سے واضح کرنے پڑے اور انہی جوابات کو بعد میں کتابی شکل میں پیش کیا گیا اور اسکا نام تھا " خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا تجزیہ " رکھا گیا۔

یہ حصہ دوم اسی کتاب کے ان اقتباسات پر مشتمل ہے جس میں علی و اولاد علی پر سب و شتم کے متعلق بحث کی گئی ہے۔

حضرت علی و اہلبیت پر سب و شتم

سب علی کا ثبوت

مال غنیمت کے مسئلے کے بعد حضرت علی پر سب و شتم کا مسئلہ آتا ہے۔ اس موضوع پر مولانا مودودی نے خلافت و ملوکیت صفحہ 174 پر دس سطروں میں جو کچھ لکھا ہے اسکا اقتباس دے کر عثمانی صاحب لکھتے ہیں

عبارت

" مولانا نے اس عبارت میں تین دعوے کیے ہیں۔ ایک یہ کہ حضرت معاویہ حضرت علی پر خود سب و شتم کی بوچھاڑ کرتے تھے۔ دوسرے یہ کہ ان کے تمام گورنر یہ حرکت کرتے تھے۔ تیسرے یہ کہ یہ گورنر حضرت معاویہ کے حکم سے ایسا کرتے تھے۔ جہاں تک پہلے دعوے کا تعلق ہے، سو حضرت معاویہ کی طرف اس مکروہ بدعت کو منسوب کرنے کے لیے تین کتابوں کے پانچ حوالے پیش کیے گئے ہیں۔ ہم نے ان میں سے ایک ایک حوالہ کو صرف مذکورہ صفحات ہی پر نہیں، بلکہ آس پاس بھی بنظر غائر دیکھا۔ چونکہ مولانا نے تصریح کے ساتھ لکھا ہے کہ وہ خود [ معاذ اللہ] اس " انسانی اخلاق کے خلاف" فعل کا ارتکاب کرتے تھے اس لیے ہم نے سوچا کہ شاید مولانا نے ایسی کوئی روایت کسی اور مقام پر دیکھ لی ہو اور اسکا حوالہ دینا بھول گئے ہوں۔ چنانچہ ہم نے مذکورہ تمام کتابوں کے متوقع مقامات پر دیر تک جستجو کی کہ شاید کوئی گری پڑی روایت ایسی مل جائے لیکن یقین فرمائیے کہ ایسی کوئی بات ہمیں کسی کتاب میں نہیں ملی۔ ۔ پھر بعض ان تواریخ کی طرف بھی رجوع کیا جن کے مصنف شیعہ تھے، مثلا مروج الذہب، لیکن اس میں بھی ایسی کوئی بات نہیں ملی۔" عثمانی صاحب نے یہاں اور آگے چل کر جس طرح سب علی کے معاملے میں حضرت معاویہ کی برات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، میں اس کے جواب میں پوری ذمہ داری کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ امیر معاویہ نے خلیفہ بننے سے پہلے بھی اور اسکے بعد بھی حضرت علی و اہل بیت النبی پر سب و شتم کی مہم خود اپنی سرپرستی میں باقاعدہ جاری کی تھی اور یہ بنو امیہ کے دور میں منبروں پر مسلسل جاری رہی۔ تا آنکہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے آ کر اسے مٹایا۔ یہ بات جس طرح تاریخ و حدیث کی کتابوں میں مذکور ہے، وہ اسے قطعیت و تواتر کا درجہ دے رہی ہے۔ مولانا مودودی کے حوالوں میں کوئی خلا یا تشنہ پہلو تلاش کر کے اسے زور آزمائی کے لیے منتخب کر لینے سے حقیقی مسئلہ کالعدم نہیں ہو سکتا۔ مھے عثمانی صاحب کی شکایات اس حد تک تسلیم ہے کہ جن مقامات کے حوالے مولانا مودودی نے دیے ہیں، وہاں یہ بات صراحتا مذکور نہیں کہ امیر معاویہ خود سب و شتم کرتے تھے۔

[ حاشیہ از ملک غلام علی صاحب:ہو سکتا ہے کہ مولانا مودودی سے کوئی حوالہ رہ گیا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ مطالعہ کب سے ایک مجموعی اور مشترک مضمون انہوں نے اخذ کر کے اپنے الفاظ میں بیان کر دیا ہو اور کچھ حوالے دے کر بقیہ کو قصدا نظر انداز کر دیا ہو۔ بہر کیف " البدایہ و النہایہ" جن کے دو مقامات کا حوالہ مولانا مودودی نے درج کیا ہے، اسی کتاب کے دیگر مقامات پر وہ بات مذکور ہے جسے میں نقل کر رہا ہوں اور جس سے محمد تقی صاحب نے انکار کیا ہے۔"]

بلکہ اتنی بات بیان کی گئی ہے کہ گورنروں کو اسکی ہدایت کی گئی تھی، لیکن انہی کتابوں کے بعض دوسرے مقامات پر امیر معاویہ کا اپنا یہی فعل منقول ہے، اس لیے مدیر موصوف اپنے الفاظ کی منظر کشی سے جو تاثر دینا چاہتے ہیں کہ امیر معاویہ نے خود نہ کبھی ایسا کیا، نہ کسی سے کرنے کو کہا یہ تاثر بالکل غلط اور خلاف واقعہ ہے۔ موصوف کا بیان یہ ہے کہ انہوں نے مولانا کی ذکر کردہ کتابوں، بلکہ دوسری تاریخوں کے سارے مقامات پر جستجو کی لیکن ایسی کوئی بات کسی کتاب میں نہ ملی۔ میں سردست دوسری کتابوں سے نہیں، البدایہ و النہایہ ہی سے دو حوالے پیش کرتا ہوں، جسے کھنگالنے کا انہوں نے دعوی کیا ہے

عبارت

وقال أبو زرعة الدمشقي‏:‏ ثنا أحمد بن خالد الذهبي أبو سعيد، ثنا محمد بن إسحاق، عن عبد الله بن أبي نجيح، عن أبيه قال‏:‏ لما حج معاوية أخذ بيد سعد بن أبي وقاص‏.‏ فقال‏:‏ يا أبا إسحاق إنا قوم قد أجفانا هذا الغزو عن الحج حتى كدنا أن ننسى بعض سننه فطف نطف بطوافك‏.‏ قال‏:‏ فلما فرغ أدخله دار الندوة فأجلسه معه على سريره، ثم ذكر علي بن أبي طالب فوقع فيه‏.‏ فقال‏:‏ أدخلتني دارك وأجلستني على سريرك، ثم وقعت في علي تشتمه ‏؟‏والله لأن يكون في إحدى خلاله الثلاث أحب إلي من أن يكون لي ما طلعت عليه الشمس، ولأن يكون لي ما قال حين غزا تبوكاً ‏(‏‏(‏ إلا ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي ‏؟‏‏)‏‏)‏ أحب إلي مما طلعت عليه الشمس، ولأن يكون لي ما قال له يوم خيبر‏:‏ ‏(‏‏(‏ لأعطين الراية رجلاً يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله يفتح الله على يديه، ليس بفرار‏)‏‏)‏ ‏(‏ ج/ ص‏:‏ 7/377‏)‏ أحب إليّ مما طلعت عليه الشمس، ولأن أكون صهره على ابنته ولي منها الولد ماله أحب إليّ من أن يكون لي ما طلعت عليه الشمس، لا أدخل عليك داراً بعد هذا اليوم، ثم نفض رداءه ثم خرج‏.‏ [ البدایہ و النہایہ جلد 7 ، صفحہ 341]

ترجمہ

" ابو زرعہ الدمشقی عبداللہ بن ابی نجیح کے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب معاویہ نے حج کیا تو وہ سعد بن ابی وقاص کا ہاتھ پکڑ کر دارالندوہ میں لے گیا اور اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا۔ پھر علی ابن ابی طالب کا ذکر کرتے ہوئے انکی عیب جوئی کی۔ اس پر سعد بن ابی وقاص نے جواب دیا: " آپ نے مجھے اپنے گھر میں داخل کیا، اپنے تخت پر بٹھایا، پھر آپ نے علی ابن ابی طالب کے حق میں بدگوئی اور سب و شتم شروع کر دیا۔ خدا کی قسم، اگر مجھے علی کے تین خصائص و فضائل میں سے ایک بھی ہو تو وہ مجھے اس کائنات سے زیادہ عزیز ہو جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ کاش کہ نبی اللہ ص نے میرے حق میں یہ فرمایا ہوتا جب کہ آنحضور ص غزوہ تبوک پر تشریف لے جا رہے تھے تو آپ نے علی کے حق میں فرمایا:" کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو کہ ہارون کو موسی سے تھی سوائے ایک چیز کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہو گا۔ یہ ارشاد میرے نزدیک دنیا و مافیہا سے زیادہ محبوب تر ہے۔ پھر کاش کہ میرے حق میں وہ بات ہوتی جو آنحضور ص نے خیبر کے روز علی کے حق میں فرمائی تھی کہ " میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اسکے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اسکا رسول ص اس سے محبت رکھتے ہیں۔ اللہ اسکے ہاتھ پر فتح دے گا اور یہ بھاگنے والا نہیں [ غیر فرار] ہے۔ یہ ارشاد بھی مجھے دنیا و مافیہا سے زیادہ عزیز تر ہے۔ اور کاش کہ مجھے رسول ص کی دامادی کا شرف نصیب ہوتا اور آنحضور ص کی صاحبزادی سے میرے ہاں اولاد ہوتی جو علی کو حاصل ہے، تو یہ چیز بھی میرے لیے دنیا و مافیہا سے عزیز تر ہوتی۔آج کے بعد میں تمہارے گھر کبھی داخل نہ ہوں گا۔ پھر سعد بن ابی وقاص نے اپنی چادر جھٹکی اور وہاں سے نکل گئے۔"

آگے البدایہ جلد 8 ، صفحہ 50 پر ابن کثیر لکھتے ہیں

عبارت

" کان مغیرۃ بن شعبۃ علی الکوفہ اذا ذکر علیا فی خطبتہ ینتقصہ بعد مدح عثمان و شیعتہ فیغضب حجر ھذا و یظھر الانکار علیہ"

ترجمہ

" جب مغیرہ بن شعبہ کوفہ کے والی تھے تو وہ خطبے میں حضرت عثمان اور انکے ساتھیوں کی مدح کے بعد حضرت علی کی تنقیص کرتے تھے۔ اس پر حضرت حجر غضبناک ہو کر احتجاج کرتے تھے۔"

ممکن ہے کہ مدیر " البلاغ " ان روایات کو بھی " گری پڑی " کہنے کی جرات کریں اور کتب رجال کی ورق گردانی شروع کر دیں۔ مگر میں انہیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ انکے شواہد و متابعات مسلم اور ترمذی، مقدمہ ابن ماجہ، فضل علی اور دیگر کتب حدیث میں بھی موجود ہیں۔

مسلم کی ایک حدیث یہ ہے

َدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَمَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَعْدًا فَقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ فَقَالَ أَمَّا مَا ذَكَرْتُ ثَلاَثًا قَالَهُنَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَنْ أَسُبَّهُ لأَنْ تَكُونَ لِي ۔۔۔
ترجمہ

" حضرت سعد بن ابی وقاص کے صاحبزادے عام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ نے حضرت سعد کو حکم دیا ( امر) اور پھر کہا کہ آپ کو کس چیز نے روکا ہے کہ آپ ابو تراب [ حضرت علی] پر سب و شتم نہ کریں؟ انہوں نے جواب دیا کہ جب میں اُن تین ارشادات نبوی کو یاد کرتا ہوں جو رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کے متعلق فرمائے تھے تو میں ہرگز ان پر سب و شتم نہیں کر سکتا۔ ان تین مناقب میں سے اگر ایک منقبت بھی میرے حق میں ہوتی تو مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہوتی۔"

اسکے بعد حضرت سعد نے وہ تینوں مناقب بیان کیے جو اوپر البدایہ کی روایت میں مذکور ہو چکے ہیں۔ بس اتنا فرق ہے کہ تیسرا ارشاد مسلم [ اور ترمذی ] میں یوں نقل ہے کہ جب یہ آیت مباہلہ اتری کہ " فقل تعالو ندع ابناءنا " ۔۔۔۔ تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا اور فرمایا اللھم ھولاء اھلی۔ " اے میرے اللہ، یہ میرے اہل و عیال ہیں " ۔

معنوی اعتبار سے دونوں باتوں میں کوئی اختلاف نہیں۔ بعض شارحین نے مسلم اور ترمذی کی حدیث کے لفظ سب کی توجیہ یہ کی ہے کہ اس سے مراد بدگوئی نہیں، بلکہ امیر معاویہ کی مراد یہ تھی کہ آپ حضرت علی کے اجتہادات و آراء کو غلط اور میرے اجتہاد کو صحیح کیوں نہیں کہتے۔ لیکن یہ توجیہ بالکل بے محل ہے اور لغت یا سیاق کلام میں اس کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ اگر سوال محض اجتہاد کے صواب و خطا کا تھا، تو اسکے جواب میں حضرت علی کے فضائل و مناقب کے بیان کا کیا موقع تھا؟ غلطی یا اجتہادی غلطی تو حضرت علی سے ان فضائل کے باوجود صادر ہو سکتی تھی۔پھر ابن کثیر کی روایت میں جو نقشہ بیان ہوا ہے کہ امیر معاویہ کی بات سن کر حضرت سعد ایسے برافروختہ ہو گئے کہ دامن جھاڑ کر یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے کہ میں آئندہ آپ کے گھر میں کبھی قدم نہیں رکھوں گا، یہ فعل صاف طور پر صورت حال کی سنگینی کو واضح کر رہا ہے۔فتح الباری [ از ابن حجر العسقلانی ] باب مناقب علی کی شرح میں مسند ابی یعلی کے حوالے سے حضرت سعد کے یہ الفاظ منقول ہیں

عبارت

" لو وضع المنشار علی مفرقی علی ان اسب علیا سببتہ ابدا"

ترجمہ

" اگر [ لکڑی کاٹنے والا] آرہ میرے سر پر رکھ کر مجھے علی کی بدگوئی کا حکم دیا جائے تو بھی میں ہرگز انکی بدگوئی نہ کروں گا" ۔

style="background: rgb(125, 166, 71) none repeat scroll 0%; margin-bottom: 0cm; -moz-background-clip: initial; -moz-background-origin: initial; -moz-background-inline-policy: initial;" align="left" dir="rtl"> [ نوٹ از مصنف آرٹیکل ھذا یہ روایتآنلائن یہاںپڑھیں جہاں علامہ ابن حجر العسقلانی نے اس روایت کی سند کے متعلق لکھا ہے کہ اسکی سند میں کوئی نقص نہیں ]

[ حاشیہ از ملک غلام علی صاحب:

اسی روایت کے ذیل میں لفظ سب کے متعلق شاہ عبدالعزیز کا ایک جواب فتاوی عزیزیہ، مترجم [ شائع کردہ سعید کمپنی] صفحہ 413 پر موجود ہے، جس میں شاہ صاحب فرماتے ہیں: " بہتر یہی ہے کہ اس لفظ [ سِب] سے اسکا ظاہری معنی سمجھا جائے( یعنی برا بھل کہنا) ۔ مطلب اسکا یہی ہو گا کہ ارتکاب اس فعل قبیح کا یعنی" سِب" یا" حکم سِب" حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے صادر ہونا لازم آئے گا۔ تو یہ کوئی اول امر قبیح نہیں ہے جو اسلام میں ہوا ہے، اس واسطے کہ درجہ " سِب" کا قتل و قتال سے بہت کم ہے۔ چنانچہ حدیث صحیح میں وارد ہے کہ " سباب المومن فسوق و قتالہ کفر" یعنی برا کہنا مومن کو فسق ہے اور اسکے ساتھ قتال کرنا کفر ہے۔" اور جب( معاویہ ابن ابی سفیان سے) قتال اور حکم قتال کا صادر ہونا یقینی ہے اس سے کوئی چارہ نہیں تو بہتر یہی ہے کہ انکو مرتکب کبیرہ [ گناہ] کا جاننا چاہیے۔ لیکن زبان طعن و لعن بند رکھنا چاہیے۔ اسی طور سے کہنا چاہیے جیسا صحابہ رضوان اللہ علیھم سے اُن کی شان میں کہا جاتا ہے جن سے زنا اور شراب خمر سرزد ہوا رضی اللہ عنہم اجمعین۔ اور ہر جگہ خطاء اجتہادی کو دخل دینا بیباکی سے خالی نہیں۔ "]

ان روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ امیر معاویہ نے سِب علی کا ایک عام طریقہ رائج کر رکھا تھا، حتی کہ انہوں نے حضرت سعد جیسے جلیل القدر صحابی کو بھی اسی کا حکم دیا حالانکہ وہ عشرہ مبشرہ میں سے تھے اور دور فتن میں بالکل گوشہ نشین ہو گئے تھے۔ جب انہوں نے اس فرمائش کی تعمیل نہ کی تو امیر معاویہ نے اس پر گرفت کرتے ہوئے جواب طلبی کی اور حضرت سعد کو صاف بیانی سے کام لینا پڑا۔ ممکن ہے کہ عثمانی صاحب یہاں نکتہ اٹھائیں کہ اس میں منبر کا ذکر نہیں ہے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ ایسا فعل جس کا دوسروں کو حکم [ امر ] کیا جائے اور جس پر عمل نہ کرنے کی صورت میں باز پرس کی جائے کوئی معقول وجہ نہیں کہ اس کا ارتکاب علانیہ نہ ہو۔ پھر بالفرض اگر یہ فعل منبر پر کھڑے ہو کر نہیں بلکہ سریر [ تخت ] پر بیٹھ کر کیا جائے تو کیا قباحت میں کوئی کمی واقع ہو جاتی ہے؟ بلکہ اس طرح سے پرائیویٹ مجلس میں سب و شتم اپنے ساتھ اغتیاب [ غیبت ] کو بھی جمع کر لیتا ہے۔

لاطائل تردید

سِب علی کو بالکل ایک غیر واقعی مفروضہ ثابت کرنے کے لیے عثمانی صاحب نے جو دور از کار دلائل دیے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضرت علی کے قتل پر حضرت معاویہ رونے لگے اور انکی اہلیہ نے کہا کہ آپ روتے کیوں ہیں جب کہ زندگی میں آپ ان سے لڑتے رہے۔ اس سے عثمانی صاحب نے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ دیکھو، آپ کی اہلیہ نے کہا کہ آپ لڑتے رہے، یہ نہیں کہا کہ سب و شتم کی بوچھاڑ کرتے رہے، اس سے ثابت ہوا کہ آپ سبِ علی نہیں کرتے تھے۔

سبحان اللہ، کیا نرالا استدلال ہے۔ اسکا جواب تو وہی ہے جو شاہ عبدالعزیز صاحب نے دیا ہے کہ خلیفہ راشد و برحق کے خلاف بغاوت و قتال تو سباب [ سب کی جمع ] سے بڑھ کر اور شدید تر ہے۔ایسی صورت میں امیر معاویہ کی اہلیہ محترمہ قتال کو چھوڑ کر سب و شتم کا ذکر کیا کرتیں۔باقی مجھے اس رونے پر بھی ایک شعر یاد آ گیا جو حضرت ابو الطفیل عامر بن واثلہ نے حضرت معاویہ اور حضرت علی ہی کے معاملے کی مثال دیتے ہوئے پڑھا تھا اور وہ یہ ہے کہ

لا الفینک بعد الموت تندبنی و فی حیاتی مازوتنی زادی
ترجمہ

" میں تمہیں اس حال میں نہ پاوں کہ تم میرے مرنے پر تو میرا ماتم کرو۔ مگر میری زندگی میں میرے لیے کوئی سرو سامان فراہم نہ کرو۔"

[ حاشیہ از غلام علی صاحب یہ واقعہ اور شعر اُسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ جلد 5 میں حضرت ابو الطفیل کے حالات میں درج ہے ]

واقعہ یہ ہے کہ حضرت معاویہ کے رونے سے تو دراصل یہ ثابت ہوتا ہے کہ اُن کا ضمیر خود جانتا تھا کہ خلیفہ وقت سے لڑ کر انہوں نے کس خطائے عظیم کا ارتکاب کیا تھا اور انکا دل خوب جانتا تھا کہ بغاوت کے جُرم سے قطع نظر، علی جیسے شخص کے مقابلہ میں بجائے خود انکا دعوائے خلافت کس قدر بے جا تھا۔ اس رونے سے یہ دلیل نہیں لائی جا سکتی کہ وہ ان کی مخالفت میں سرگرم نہ تھے، بلکہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جس انسان سے وہ لڑتے رہے، اس کے فضل و کمال کا انہیں خود اعتراف تھا۔

پھر عثمانی صاحب نے ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ بُسر بن ارطاۃ نے حضرت معاویہ اور حضرت زید بن عمر بن خطاب کی موجودگی میں حضرت علی پر سب و شتم کیا تو حضرت معاویہ نے فرمایا " تم علی کو گالی دیتے ہو حالانکہ وہ ان [ حضرت زید ] کے دادا ہیں " ؟ عجیب بات ہے اس واقعہ سے بھی یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ امیر معاویہ اور آپ کے گورنر سِب علی کے الزام سے بری الذمہ ہیں، حالانکہ اس واقعہ سے تو یہ ثبوت مل رہا ہے کہ گورنروں میں اتنی جرات اور بیباکی پیدا ہو گئی تھی کہ وہ امیر معاویہ کے سامنے اور علی کے عزیزوں کی موجودگی میں بھی حضرت علی کو گالیاں دینے سے نہیں چوکتے تھے۔ بُسر بن ارطاۃ مدینے میں امیر معاویہ کا گورنر تھا۔ اس نے جب یہ حرکت کی تو بلاشبہ پہلے آپ نے اسے ٹوکا، لیکن پھر کیا ہوا؟ اسے البلاغ میں نقل نہیں کیا گیا۔ امام طبری فرماتے ہیں

ثم ارضا ھما جمیعا
ترجمہ

" پھر امیر معاویہ نے دونوں کو راضی کر دیا" ۔

حالانکہ حضرت زید کا راضی ہونا کیا ہو گا سوائے اس کے کہ وہ خون کے گھونٹ پی کر رہ گئے ہوں گے۔ ایک شخص آپ کے سامنے ایک وفات یافتہ صحابی کی شان میں گستاخی کرے اور آپ اس کے فعل پر تو ناراض نہ ہوں، محض اس بات پر گرفت کریں کہ اس شخص وفات یافتہ بزرگ کی اولاد کی موجودگی میں یہ حرکت کی تھی۔ پھر اس دوہری بیہودگی پر سزا کوئی نہیں، بلکہ دونوں میں راضی نامہ کرا دیا۔ یہ ہے صفائی کا وہ بیان جسے عثمانی صاحب بڑے اطمنان کے ساتھ حضرت معاویہ کی طرف سے پیش فرما رہے ہیں۔ شاید آج بھی اگر کوئی شخص کسی سید کے سامنے حضرت علی کو گالی دے تو عثمانی صاحب صرف دونوں کے درمیان راضہ نامہ کرا دینے کو کافی سمجھیں گے۔ بُسر کا مختلف مواقع پر حضرت علی پر سِب و شتم کرنا ایک مسلمہ حقیقت ہے جسے متعدد تاریخوں میں بیان کیا گیا ہے۔ مثلا تاریخ طبری جلد 4 ، صفحہ 128 ، تاریخ کامل جلد 3 ، صفحہ 307 پر مذکور ہے کہ بُسر نے بصرے میں منبر پر خطبے کے دوران میں حضرت علی پر سِب و شتم کیا۔

[ نوٹ از مصنف آرٹیکل ھذا:

رسول اللہ ص نے صاف صاف فرما دیا ہے کہ جو علی سے بغض رکھے وہ منافق ہے۔

صحیح مسلم( آنلائن لنک)

قال ‏ ‏علي ‏ ‏والذي فلق الحبة وبرأ النسمة إنه لعهد النبي الأمي ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏إلي ‏ ‏أن لا يحبني إلا مؤمن ولا يبغضني إلا منافق ‏

ترجمہ:

زر کہتے ہیں کہ علی ( ابن ابی طالب ) نے فرمایا: اُس ذات کی قسم جو ایک بیچ سے زندگی پیدا کرتا ہے کہ رسول اللہ ص نے مجھے سے وعدہ فرمایا کہ اے علی نہیں کرے گا تجھ سے کوئی محبت سوائے مومن کے، اور نہیں رکھے گا کوئی تجھ سےکوئی بغض سوائے منافق کے۔

بسر بن ارطاۃ اب لسان نبوی ص کے مطابق پکا منافق ہے۔ اور امیر معاویہ اس منافق کو گلے سے لگائے بیٹھا رہا۔

پھر عثمانی صاحب کے حامیوں کا ٹولہ تو ایسے لوگوں پر بھی مشتمل ہے جو صحابہ پر سِب کرنے پر کفر کے فتوے لگاتے ہیں۔ مگر حیرت کی بات ہے کہ جب حضرت علی ابن ابی طالب، حضرت فاطمہ اور جناب حسنین پر بنی امیہ کے یہ لاڈلے90 سالوں تک منبروں سے برا بھلا کہتے رہے مگر پھر بھی بنی امیہ کے یہ خلفاء و گورنر انکے نزدیک " امیر المومنین" اور یزید اور مروان جیسے لوگ " رضی اللہ عنہ" ٹہرے۔]

عجیب منطق

پھر مولانا محمد تقی صاحب لکھتے ہیں کہ مولانا مودودی کا دعوی اس وقت ثابت ہو سکتا ہے جب وہ حضرت معاویہ کے تمام گورنروں کی ایک فہرست جمع کر کے ہر ایک کے بارے میں ثابت فرمائیں کہ اس نے انفرادی یا اجتماعی طور پر حضرت علی کو گالیاں دی تھیں اور امیر معاویہ نے ایسا کرنے کا حکم دیا تھا۔ میری طرف سے اس منطق کا جواب یہ ہے ہ جب مختلف و متنوع روایات یہ بات بیان کر رہی ہوں کہ امیر معاویہ خود بھی ایسا کرتے تھے، ان کے بعض گورنر بھی ایسا کرتے تھے اور بعض گورنروں کو ایسا کرنے کا حکم امیر معاویہ نے دیا تھا، تو یہ ساری تاریخی روایتیں مل جُل کر اس امر کا کافی و وافر ثبوت بہم پہنچا دیتی ہیں کہ یہ سلسلہ واقعات ایک طے شدہ پالیسی کی مختلف کڑیاں تھیں، کسی ایک یا دو عاملوں کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ اپنی اطرف سے اس امر عظیم کا ارتکاب کرتے اور عامۃ المسلمین یا خود امیر معاویہ اس سے اغماض برتتے۔

پھر امیر معاویہ کا حضرت سعد سے ان الفاظ میں باز پرس کرنا کہ آپ کو کس بات نے سِب علی سے روک رکھا ہے " صاف بتا رہا ہے کہ خلوت و جلوت میں اس رسم کا چلن عام ہو چکا تھا اور حضرت سعد کا اس ڈگر پر نہ چلنا معمول کے خلاف ہونے کی وجہ سے کھٹک رہا تھا۔ مولانا مودودی نے جو روایات نقل کی ہیں انکے متعلق مدیر البلاغ لکھتے ہیں کہ ان کو تھوڑی دیر کے لیے درست مان لیا جائے تو زیادہ سے زیادہ دو گورنروں پر یہ الزام لگایا جا سکتا ہے کہ وہ حضرت علی کو برا بھلا کہتے تھے۔ اس سے یہ کیسے لازم آ گیا کہ حضرت معاویہ کے تمام گورنر خود آپ کے حکم سے ایسا کرتے تھے۔ حالانکہ ایک آدھ گورنر تک اگر یہ فعل محدود ہوتا تو دو صورتوں سے خالی نہ ہوتا۔ اگر خود امیر معاویہ یا دوسرے گورنر اس فعل کو نہ کرتے اور صرف ایک یا دو گورنروں کو حکم ہوتا تو وہ جواب میں ضرور کہتے کہ آخر آپ خود جب یہ کام نہیں کرتے اور کسی دوسرے سے بھی اسکا مطالبہ نہیں ہے تو ہم سے اس کی توقع کیوں کی جاتی ہے؟ اور اگر امیر معاویہ کی مرضی کے خلاف کوئی گورنر ذاتی کُد یا پرخاش کی بنا پر ایسا کرتا تو اس کو ضرور سرزنش کی جاتی۔ لیکن جن گورنروں کا واقعہ مذکور ہے، انکے بارے میں ایسی کوئی تصریح منقول نہیں کہ انہوں نے کوئی ایسی معذرت پیش کی ہو یا کسی بدگوئی کرنے والے گورنر سے کوئی احتساب کیا گیا ہو۔

کتب حدیث سے ثبوت

امیر معاویہ کے عہد میں سِب علی کو رواج دینے کا ثبوت تاریخ کے علاوہ مزید حدیث کی کتابوں سے بھی ملتا ہے۔ مثال کے طور پر مُسند احمد میں ام المومنین حضرت ام سلمہ کی متعدد روایات موجود ہیں کہ آپ نے بعض اصحاب سے کہا

عبارت

ایسبت رسول اللہ فیکم علی المنابر
" کیا تم لوگوں کے ہاں مبروں پر کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسم پر سِب و شتم کا ارتکاب کیا جاتا ہے؟"

لوگوں نے پوچھا:

انی ذالک۔

" وہ کیسے" ۔

حضرت ام سلمہ ر نے فرمایا:

" الیس یُسب علی و من احبہ؟ اشھد ان رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کان یحبہ"

کیا علی پر سب و شتم نہیں کیا جاتا اور کیا اس طرح اُن پر [ یعنی رسول اللہ ص پر] جو علی سے محبت رکھتے تھے سب و شتم نہیں ہوتا؟ میں گواہی دیتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی سے محبت رکھتے تھے" ۔

ان احادیث میں منبروں پر جس سب و شتم کا ذکر ہے وہ بالیقین عہد معاویہ ہی سے تعلق رکھتا ہے کیونکہ حضرت ام سلمہ ر کی وفات امیر معاویہ کی وفات سے ایک سال پہلے سن59ہجری میں ہو چکی تھی۔ابو داود، کتاب السنہ، باب الخلفاء میں ایک حدیث حضرت سعید بن زید سے مروی ہے کہ وہ کوفہ کی مسجد میں بیٹھے تھے کہ ایک شخص نے آ کر حضرت علی پر لگاتار سِب شتم شروع کر دیا [ سب و سب ] مُسند احمد، مرویات سعید بن زید میں تصریح ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ کوفہ کے گورنر وہاں موجود تھے اور انکے سامنے یہ سِب ہو رہا تھا۔ حضرت سعید اُن سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ " میں کیا دیکھ نہیں رہا کہ اصحاب رسول پر آپ کے رُوبُرو سِب و شتم ہو رہا ہے اور آپ اس پر کوئی نکیر و انسداد نہیں کرتے؟ میں نے رسول ص سے سنا ہے [ اور میں رسول ص کی جانب ایسا قول منسوب نہیں کر سکتا جس پر آپ کل کو مجھ سے باز پُرس کریں ] کہ آپ فرماتے تھے کہ ابو بکر، عمر، عثمان، علی۔۔۔۔ جنت میں ہوں گے " ۔ پھر حضرت سعید نے عشرہ مبشرہ کے اسماء گرامی گنوائے جن میں سے ایک آپ خود بھی تھے۔ یہ حدیث مُسند احمد کے علاوہ تاریخ بخاری، اور ابن ماجہ کے ابواب، فضائل اصحاب میں بھی موجود ہے جیسا کہ علامہ احمد محمد شاکر نے اپنے محشی نسخے کی جلد 3 ، صفحہ 108 پر واضح کیا ہے۔ پھر مسند احمد کے اسی نسخے کے صفحہ 110 اور 112 پر مزید تین احادیث درج ہیں جن میں ہے کہ

عبارت

خطب المغیرہ بن شعبۃ فنال من علی
" مغیرہ بن شعبہ نے خطبے میں حضرت علی کی بدگوئی کی"

تو حضرت سعید بن زید نے انہیں وہیں ٹوکا اور فرمایا کہ دس اصحاب عشرہ مبشرہ میں سے ایک علی ہیں اور حیرت ہے کہ ان پر سِب و شتم ہو رہا ہے " ۔استاذ شاکر جو محدثانہ طریق کے مطابق ہر حدیث کی سند پر بحث و تنقید کرتے ہیں، انہوں نے ان سب احادیث کو صحیح الاسناد قرار دیا ہے۔

حضرت سعد ابن ابی وقاص اور حضرت سعید ابن زید تو خیر نہایت جلیل القدر صحابی تھے اور عشرہ مبشرہ میں سے تھے، اس لیے انکے منصب و مرتبہ کا یہ ناگزیر تقاضا تھا کہ وہ اس مکروہ رسم کے خلاف صدائے احتجاج بلند فرماتے۔ لیکن یہ خیال کرنا بالکل غلط اور تاریخی تصریحات کے قطعی خلاف ہے کہ دوسرے سب لوگوں نے اس چیز کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیا تھا۔ مگر میں بوجوہ مزید تفصیلات ترک کر رہا ہوں۔ اہل عقل و درایت کے لیے اتنی بحث بھی کفایت کرتی ہے۔

وفات علی کے بعد

حضرت علی پر سِب و شتم کا یہ سلسلہ اگر حضرت علی کی زندگی تک محدود رہتا اور آپ کی شہادت کے بعد ختم ہو جاتا تب بھی یہ کہا جا سکتا تھا کہ چلیے، جب آپ اپنے رب کے حضور میں پہنچ گئے تو ساری تلخیاں بھلا دی گئیں۔ مگر افسوس کہ یہ بُری رسم امیر معاویہ کے عہد خلافت اور اسکے بعد تک جاری رہی۔ چنانچہ حضرت سعد کا جو واقعہ حدیث و تاریخ سے اوپر نقل ہوا ہے وہ بھی حضرت علی کی وفات کے بعد کا ہے، کیونکہ جنگ و جدال کے زمانے میں حضرت سعد سب سے الگ تھلگ عقیق میں رہائش پذیر ہو گئے تھے اور اس زمانے میں حضرت معاویہ کو بھی حرمین میں آنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ البتہ حضرت حسن سے صلح ہو جانے کے بعد امیر معاویہ حج کے لیے آئے اور مدینہ بھی تشریف لے گئے۔ اسی وقت حضرت سعد سے بھی ملاقات ہوئی اور باہم سوال و جواب کی نوبت آئی۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ جب علی دنیا سے اٹھ گئے اور تلواریں نیام میں آ گئیں، اس وقت بھی جراحات اللساتن کا انسداد نہ ہو سکا۔ یہی وجہ ے کہ جب امیر معاویہ اور حضرت حسن کے مابین مصالحت ہوئی ہے اور صلح نامہ لکھا جا رہا تھا تو حضرت حسن نے ایک شرط یہ بھی لکھوائی کہ ہمارے سامنے برسر عام ہمارے والد محترم پر سب و شتم نہ ہو۔ چنانچہ امام ابن جریر اپنی تاریخ [ جلد 4 ، صفحہ 122] میں فرماتے ہیں

عبارت

صالح الحسن معاویۃ۔۔۔۔ علی ان لا یشتم علی و ھو یسمع۔
" حسن نے معاویہ سے [ علاوہ دیگر شرائط کے] اس شرط پر مصالحت کی کہ علی پر سب و شتم نہ کیا جائے درآں حالیکہ میں اُسے سُن رہا ہوں" ۔

امام ذہبی العبر، جلد اول صفحہ 48 پر درج کرتے ہیں کہ حضرت حسن نے امیر معاویہ کو لکھا

ان لا یسب علیا بحضرتہ
" وہ حضرت علی پر حسن کی موجودگی میں سب و شتم نہ کریں" ۔

ابن کثیر نے البدایہ جلد 8 ، صفحہ 14 پر شرائط صلح میں سے ایک شرط یہ بیان کی ہے

و ان لایسب علی و ھو یسمع فاذا فعل ذالک نزل من الامر۔

" اور یہ کہ حضرت علی پر سب و شتم نہ کیا جائے جب کہ وہ [ حضرت حسن] اسے سن رہے ہوں۔ جب امیر معاویہ نے یہ شرط مان لی تو حضرت حسن امارت سے دست بردار ہو گئے" ۔

ابن اثیر نے الکامل میں جلد 3 ، صفحہ 202 پر جو مزید تفصیل درج کی ہے، وہ یہ ہے کہ حضرت حسن نے امیر معاویہ سے مطالبہ کیا کہ

" ان لا یشتم علیا فلم یحبہ الکف عن شتم علی فطلب ان لا یشتم و ھو یسمع فاجابہ الی ذالک ثم لم یف بہ ایضا۔

" امیر معاویہ حضرت علی پر سب و شتم نہ کریں۔ لیکن امیر معاویہ نے شتم علی سے رکنے کا مطالبہ تسلیم نہ کیا۔ پھر حضرت حسن نے یہ مطالبہ کیا کہ کم از کم امیر معاویہ ایسی حالت ہی میں سب و شتم نہ کریں جب کہ وہ [ حسن] سُن رہے ہوں، امیر معاویہ نے یہ بات مان لی لیکن انہوں نے یہ شرط بھی پوری نہ کی" ۔

ابن اثیر کی روایت زیادہ جامع اور مفصل بھی ہے اور اس سے ابن کثیر اور طبری کی روایت سمجھنے میں مدد بھی ملتی ہے۔ طبری اور ابن کثیر مجملا یہ بیان کرتے ہیں کہ صلحنامہ کی شرط یہ تھی کہ امام حسن کو سنا کر حضرت علی پر سب و شتم نہ ہو۔ اور ابن اثیر نے پوری تفصیل یہ بیان کی ہے کہ پہلے تو امام حسن نے یہ مطالبہ کیا کہ شتم علی کا کلیۃ انسداد کیا جائے، لیکن امیر معاویہ نے اسے تسلیم نہ کیا تو امام حسن نے اتنی بات منوانے پر اکتفا کیا کہ انکے سامنے ہی کم سے کم انکے والد ماجد کی بُرائی نہ ہو۔ امیر معاویہ نے اس شرط کو صلحنامے میں شامل کر لیا مگر اسکی پابندی نہ کی۔

محمد تقی صاحب جس طرح سِب علی کو ایک غیر واقعی مفروضہ بنا کر پیش کر رہے ہیں، اگر فی الحقیقت اسی طرح یہ ایک خیالی داستان تھی یا ایک آدھ فرد سے احیانا انفرادی طور پر سب و شتم کا صدور ہوا تھا تو صلحنامے کی دستاویز لکھتے وقت حضرت حسن کی طرف سے اس مطالبہ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اور اگر یہ بات خلاف واقعہ تھی تو کیوں نہ امیر معاویہ نے پلٹ کر فرمایا کہ ہم میں سے کون ہے جو اس فعل کا ارتکاب کرتا ہے؟ واقعہ یہ ہے کہ اکثر مورخین و محدثیں نے سِب علی کا ذکر اسی انداز سے کیا ہے گویا کہ یہ ایک مسلمہ تاریخی حقیقت ہے جس میں اختلاف نہیں۔ مثال کے طور پر ابن حجر العسقلانی فتح الباری، کتاب المناقب میں حضرت علی کے مناقب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں

ثم کان من امر علی ما کان جنجمت طائفۃ اُخری حاربوہ ثم اشتد الخطب فتنقصوہ و اتخذ و العنہ ولی المنابر سنۃ وواقفحم الخوارج علی بغضہ۔۔۔
" پھر حضرت علی کے معاملے میں پیش آیا جو کچھ کہ پیش آیا۔ پھر ایک دوسرا گروہ اٹھا جس نے آپ سے لڑائی کی۔ پحر ہنگامہ شدت اختیار کر گیا اور ان محاربین نے حضرت علی کی عیب جوئی کی اور منبروں ہر آپ کو لعن طعن کرنا اپنا طریقہ و قاعدہ بنا لیا اور خوارج نے بغض علی کے باعث انکی ہمنوائی کی" ۔

محاربین کے اس گروہ سے مراد صاف طور پر امیر معاویہ اور آپ کے ساتھی اور عاملین ہیں جو اس مہم میں سرگرم تھے۔ اب ان تمام حقائق و شواہد سے آنکھیں بند کر کے سِب علی کا سرے سے انکار کر دینا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کہ ایک مرتبہ حیرت دہلوی نے حادثہ کربلا کا انکار اس دلیل کی بنا پر کر دیا تھا کہ امت محمدیہ کا کوئی فرد اپنے نبی کے نواسے کو قتل نہیں کر سکتا۔

میں سمجھتا ہوں کہ اس مسئلے پر ضروری بحث ہو چکی اور سِب علی کے خلاف واقعہ اور غیر ممکن الوقوع ہونے کے حق میں جو نقلی و عقلی استدلال عثمانی صاحب نے کیا ہے، اسکا جواب دیا جا چکا ہے۔ تاہم یہ مناسب ہے کہ مولانا مودودی کی پیش کردہ روایات پر جو تنقید کی گئی ہے، اس پر بھی کچھ کلام کیا جائے۔ ابن جریر اور ابن اثیر کی جو روایت مولانا نے نقل کی ہے، اس میں صراحت کے ساتھ یہ بات مذکور ہے کہ امیر معاویہ نے حضرت مغیرہ کو کوفے کا گورنر بناتے وقت ہدایت کی کہ علی کی مذمت کرنے اور انہیں گالی دینے سے پرہیز نہ کرنا " ۔ عثمانی صاحب جواب میں فرماتے ہیں کہ " اس روایت سے آگے یہ الفاظ بھی ہیں کہ حضرت مغیرہ صرف حضرت عثمان کے قاتلوں کے لیے بدعا کرتے تھے " ۔ لیکن غور کیا جائے تو یہ بات صاف ہے کہ امیر معاویہ نے واضح الفاظ میں شتم علی کا حکم دیا۔ اب اگر مغیرہ بن شعبہ نے اس کی تعمیل نہیں کی تو قابل ستائش انکا فعل ہے نہ کہ امیر معاویہ کا۔ میں سمجھتا ہوں کہ سنن ابی داؤد اور مُسند احمد وغیرہ کی روایات کے بعد اس امر میں کوئی شک نہیں رہتا کہ حضرت مغیرہ خطبوں میں شب و شتم کرتے تھے۔ حضرت مغیرہ نے اگر کبھی نام لے کر حضرت علی پر لعن طعن نہیں کی تو اس کی وجہ محض یہ ہے کہ آپ ایک مدبر انسان تھے۔ آپ ہر مرتبہ نام لے کر برائی نہیں کرتے ہوں گے، بلکہ بعض اوقات گول مول انداز میں امر معاویہ کے حکم کے تعمیل کرتے ہوں گے تاکہ وہ بھی راضی رہیں اور کوفہ، جو شیعان علی کا گڑھ تھا، وہاں کی گورنری میں عزت و آبرو بھی خطرے میں نہ پڑے۔ امیر معاویہ اور آپ کے طرفدار برملا حضرت علی کو قاتل عثمان کہتے تھے اس کے اس پس منظر میں جب قاتلین عثمان پر بعدعا کی جائے گی تو آپ سے آپ حضرت علی پر بھی چوٹ مقصود ہو گی اور بسا اوقات تعریض تصریح سے زیادہ کارگر اور مفید مطلب ہوتی ہے۔

رواۃ تاریخ کی بحث

اسکے بعد محمد تقی صاحب نے دوسری اہم ترین بات کے نام سے راویوں کا ذکر چھیڑ دیا ہے کہ اس روایت کے راوی شیعہ، کذاب اور مجہول ہیں۔ عجیب بات ہے کہ جب سے خلافت و ملوکیت لکھی گئی ہے ہر شخص کتب رجال کے دفتر لے کر بیٹھ گیا ہے اور ایک ایک روایت کے راویوں کے حالات سنا رہا ہے کہ وہ ایسا تھا اور ایسا تھا حتی کہ یہ لے اتنی بڑھ گئی ہے کہ جن واقعات و روایات کو بعض حضرات خود اپنی کتابوں میں بلا تنقید نقل کر چکے ہیں، اب خلافت و ملوکیت میں انہی روایات کو دیکھ کر وہی حضرات ان میں کیڑے نکال رہے ہیں۔ یہ مسئلہ اور یہ صورت حال متعدد پہلووں سے محتاج غور و فکر ہے۔ اس پر مفصل بحث تو مستقل مضمون ہی میں جا سکتی ہے ، تاہم یہاں چند اشارات پیش کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ اولین سوال جو اس سلسلے میں پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ راوی اگر ایسے ہی جھوٹے، لپاٹیے اور جلے بُھنے شیعہ تھے کہ ان کی تاریخی روایات بھی غلط اور ناقابل اعتماد تھیں تو ان جھوٹی روایات کو ہمارے اُن مورخین نے کیوں اخذ کیا جو اہل سنت کے ائمہ مورخن شمار ہوتے ہیں؟ اس کے جواب میں مدیر " البلاغ " اور دوسرے حضرات کہتے ہیں کہ ان مورخین نے ہر روایت کو سند بیان کر کے یہ ذمہ داری ہم پر ڈال دی ہے کہ ہم جھوٹ سچ کا فیصلہ خود کرتے رہیں۔ یہ جواب متعدد وجوہ سے غلط اور ناقابل قبول ہے۔

پہلی وجہ یہ کہ یہ مورخین خود اعلی پائے کے محدث اور فن رجال کے ماہر تھے۔ وہ ان راویوں کے حالات ہم سے ہزار درجہ بہتر جانتے تھے، بلکہ انہی میں سے بعض کی کتابیں ہمیں بتاتی ہیں کہ فلاں راوی شیعہ تھا یا سُنی تھا، ثقہ تھا یا ضعیف تھا۔ ان مورخِین سے یہ ارشاد نبوی بھی مخفی نہ تھا کہ

کفی بلمرء کذبا ان یحدث بکل ماسمع

" ایک آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ جو بات بھی سنے اُسے آگے بیان کر دے۔"

اب اگر ان راویوں کے بیان کردہ تاریخی واقعات سب کے سب جھوٹ کے پلندے تھے تو محض سند بیان کر کے یہ محدثین و مورخین جھوٹ کی اشاعت کے گناہ سے بری الذمہ کیسے ہو جائیں گے؟ انہوں نے تو ان جھوٹی خبروں کے سلسلہ اسناد میں خود اپنے آپ کو بھی شامل کر لیا۔ اگر معاملہ پانچ، دس یا سو پچاس روایات کا ہوتا تو بات دوسری تھی، لیکن ان راویوں کے بیانات سے تو ہماری تاریخیں لبریز ہیں۔ ان روایات کو جھوٹا قرار دینے کے بعد آخر ہم اپنے مورخین کی ثقاہت و دیانت کو کیسے بچا سکتے ہیں؟ ان مورخیں کو چاہیے تھا کہ اول تو وہ تاریخ لکھنے ہی نہ بیٹھتے اور اس کارِ بے خیر میں اپنی عمریں نہ کھپاتے۔ اور بالفرض اگر انہیں یہ کام کرنا ہی تھا، تو پھر چاہیے تھا کہ جس طرح حدیث کے صحاح اور موضوعات کے مجموعے الگ الگ تیار کیے گئے تھے، اسی طرح صحیح اور مکذوب تاریخی روایات کے مجموعے بھی وہ الگ الگ مرتب کر دیتے۔ ایسا ممکن نہیں تھا تو ہر روایت کے آخر میں اس کے صحیح یا سقیم ہونے کی وضاحت کر دی جاتی یا کم از کم کتاب کے شروع یا آخر ہی میں یہ تصریح کر دی جاتی کہ اس میں فلاں فلاں راویوں کی روایتیں ساقط الاعتبار ہیں۔ اگر ابتدائی مورخین نے یہ کام نہیں کیا تھا تو اس کے بعد جب یہ تاریخیں پوری امت میں شائع ہوئیں اور دوسرے اہل علم تک پہنچیں، تو ان سے یہ توقع ہو سکتی تھی کہ اگر ان کے نزدیک ہی یہ سب جھوٹ کے طومار تھے تو وہی ان کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے اور مسلمانوں کی ایک نسل سے دوسری نسل تک انہیں منتقل نہ ہونے دیتے۔ ابن جریر کے خلاف تشیع کا الزام عائد کیا جاتا ہے، اگرچہ کہ بالکل بے جا ہی ہے۔ تاہم اگر وہ شیعہ تھے تو کیا ابو حنیفہ دینوری، ابن اثیر، ابن کثیر، ذھبی، ابن عبد البر، ابن حجر کیا یہ سبھی شیعہ تھے کہ وہ سب کم و بیش وہی روایات نقل کرتے چلے آئے جن کے خلافت و ملوکیت میں درج ہونے پر اتنی ہنگامہ آرائی ہو رہی ہے؟ یہ بات بالکل مضحکہ خیز ہے کہ ایک طرف انہوں نے جھوٹی روایات سے اپنی کتابوں کا پیٹ بھر دیا اور دوسری طرف سند ساتھ لگا کر یہ کام دوسروں کے سپرد کر دیا کہ وہ جھوٹ اور سچ کے درمیان خود ہی امتیاز کرتے رہیں۔

دوسرے لفظوں میں اسکا مطلب یہ ہے کہ جو شخص کتب تواریخ کا مطالعہ کرنا چاہے، وہ پہلے اپنے پاس لسان المیزان، تہزیب التہذیب، کتاب الجرح و التعدیل وغیرہ کی ضخیم مجلدات رکھے اور پھر ہر روایت کے رجال کی چھن بین ان کتابوں میں کرتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتب رجال تحقیقِ حدیث کے لیے مدون کی گئی ہیں اور ان تجربات کو تاریخی روایات اور ان کے راویوں پر چسپاں کرنا اصولا صحیح نہیں۔

پھر یہ دعوی بھی خلاف واقعہ ہے کہ ان میں سے ہر مورخ نے اپنی تاریخ میں سند بیان کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ ایک طرف ابن جریر ہیں جو ہر روایت کی سند دیتے ہیں اور دوسری طرف ابو حنیفہ دینوری ہیں جو ابن جریر کے ہم عصر بلکہ ان سے متقدم ہیں، وہ اپنی تاریخ " الاخبار الطوال " میں سند کا شاذ و نادر ہی ذکر کرتے ہیں بلکہ قال یا قالوا کہہ کر واقعہ بیان کرتے ہیں اور انکی تاریخ نہایت مستند اور اہم ترین ماخذ تاریخ شمار کی جاتی ہے۔ پھر مورخین متاخریں میں سے بہت سے ایسے ہیں مثلا ابن اثیر الجزری اور ابن خلدون وغیرہ جو سند کو بالعموم حذف کر دیتے ہیں۔ اب انکی روایات کی سند کس طرح جانچی جائے گی؟ یا ان کتابوں کو دریا برد کر دیا جائے گا؟ میں یہاں ایک مثال پیش کر کے وضاحتِ مدعا کرتا ہوں۔ مولانا مودودی کی نقل کردہ زیر بحث روایت کا ایک راوی ابو مخنف ہے جسے ابن عدی کے حوالے سے محمد تقی صاحب نے " جلا بھنا شیعہ " قرار دیا ہے۔ مولانا مودودی کے دوسرے بہت سے ناقدین نے بھی اس راوی کو بے تحاشا گالیاں دی ہیں۔ اب حال یہ ہے کہ ابن جریر کے دور فتن کی تاریخ کا تقریبا اسی نوے فیصد حصہ اسی راوی کی روایات پر مشتمل ہے اور اگر یہ سب کذب و افترا ہے تو پھر تاریخ طبری کو ہاتھ لگانا بھی عظیم گناہ ہونا چاہیے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ابن حجر، ابن اثیر، ابن خلدون، سب نے اپنی تواریخ کا ماخذ تاریخ طبری ہی کو قرار دیا ہے۔ ابن کثیر جو شیعوں کے جانی دشمن تھے، وہی کہتے ہیں کہ میں نے شیعی روایات سے بچتے ہوئے ابن جریر سے روایات لی ہیں۔ وہ اپنی تاریخ جلد 7 ، صفحہ 310 پر فرماتے ہیں۔ " ذکر ابن جریر عن ابی مخنف لوط بن یحیی۔و ھو احد ائمۃ ھذا الشان" آگے چل کر اسی کتاب کی جلد 8 ، صفحہ ۱ 72 پر جہاں وہ حضرت حسین کی شہادت کے حالات بیان کرتے ہیں تو پہلے یہ عنوان قائم کرتے ہیں

وھذہ صفۃ مقتلہ ماخوذۃ من الائمۃ ھذا الشان۔ لا کما یزھمہ اھل التشیع من الکذ ب۔
" یہ شہادت حسین کے حالات ہیں جو ائمہ تاریخ کے کلام سے ماخوذ ہیں، یہ وہ اکاذیب نہیں ہیں جو اہل تشیع بیان کیا کرتے ہیں" ۔

اس عنوان کے فورا بعد ابن کثیر لکھتے ہیں " قال ابو مخنف " ۔ بعض مقامات پر ابو مخنف رحمہ اللہ بھی لکھا ہے۔ کیا اسکا صاف مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ابو مخنف کو جھوٹا اور محرق شیعی سمجھنے کے بجائے اُسے فن تاریخ کا ایک امام قرار دے رہے ہیں؟ اسی طرح واقدی کی بعض روایات کے " خلافت و ملوکیت " میں آ جانے پر واقدی کو صلواتیں سنائی جا رہی ہیں، حالانکہ شاہ عبد الحق محدث دہلوی مدارج النوۃ، جلد دوم صفھہ 56 پر فرماتے ہیں " موسی بن عقبہ، ابن اسحاق، الواقدی از اکابر علمائے سیر اند " ۔ مولانا انور شاہ صاحب کی رائے مولانا مودودی نقل کر ہی چکے ہیں۔ ابن ماجہ میں بھی واقدی کی روایت موجود ہے۔ امام ذہبی نے میزان الاعتدال میں واقدی کی توثیق و تضعیف میں متعدد اقوال نقل کیے ہیں۔ ایک مقام پر وہ مجاہد بن موسی کا قول نقل کرتے ہیں کہ " میں نے کسی سے روایت نہیں لکھی جو واقدی سے زیادہ حافظ ہو " ۔ اس پر امام ذہبی اپنی رائے کا اضافہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں

صدق، کان الی حفظہ االمنتھی فی الاخبار و السیر و المغازی و الحوادث و ایام الناس و الفقہ و غیر ذلک۔

" امام مجاہد نے سچ کہا۔تاریخ، سیر، مغازی، حوادث و سوانح میں واقدی کا حافظہ ہمارے لیے مرجع و منتہی ہے" ۔

میں محمد تقی صاحب اور دوسرے ناقدین کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ مولانا مودودی کی ضد میں تاریخ اور اس کے راویوں کے معاملے میں وہ انداز اختیار نہ کریں جو پرویز صاحب نے حدیث اور رواۃ حدیث کے بارے میں اختیار کیا ہے اور منکرین حدیث کی طرح منکرین تاریخ اسلام کے گروہ کی داغ بیل نہ ڈالیں۔ محمد تقی صاحب ذرا اپنے والد ماجد کی کتاب " شہید کربلا " کا مطالعہ کر کے دیکھیں کہ اس میں ابو مخنف اور دوسرے مجروح راویوں کی روایات درج ہیں

تبصرے

نام

ابن ابی حدید,2,ابنِ تیمیہ,8,ابن جریر طبری شیعہ,1,ابن حجر مکی,2,ابن خلدون,1,ابن ملجم لعین,1,ابو یوسف,1,ابوسفیان,1,ابومخنف,1,اجماع,2,احمد بن محمد عبدربہ,1,اعلی حضرت احمد رضا خان بریلوی,7,افطاری کا وقت,1,اللہ,4,ام المومنین ام سلمہ سلام علیھا,2,امام ابن جوزی,1,امام ابو زید المروزی,1,امام ابوجعفر الوارق الطحاوی,2,امام ابوحنیفہ,17,امام احمد بن حنبل,1,امام الزھبی,2,امام بخاری,1,امام جعفر صادق علیہ السلام,3,امام حسن علیہ السلام,11,امام حسین علیہ السلام,21,امام شافعی,5,امام علی رضا علیہ السلام,1,امام غزالی,3,امام مالک,3,امام محمد,1,امام مہدی عج,5,امامت,4,امداد اللہ مکی,1,اہل بیت علیھم السلام,2,اہل حدیث,16,اہل قبلہ,1,آذان,2,آن لائن کتابوں کا مطالعہ,23,آیت تطہیر,1,بریلوی,29,بریلوی اور اولیاء اللہ کے حالات,2,بنو امیہ,2,تبرا,8,تحریف قرآن,6,تراویح,2,تقابل ادیان و مسالک,33,تقيہ,2,تکفیر,3,جنازہ رسول اللہ,1,جنگ جمل,4,جنگ صفین,1,حافظ مبشر حسین لاہوری,1,حدیث ثقلین,5,حدیث طیر,1,حدیث غدیر,7,حدیث قرطاس,1,حضرت ابن عباس رض,3,حضرت ابو طالب علیہ السلام,5,حضرت ابوبکر,20,حضرت ابوزر غفاری رض,1,حضرت ام اکلثوم سلام علیھا,2,حضرت خدیجہ سلام علھیا,1,حضرت عائشہ بنت ابوبکر,14,حضرت عثمان بن عفان,7,حضرت علی علیہ السلام,64,حضرت عمار بن یاسر رض,3,حضرت عمر بن خطاب,23,حضرت عیسیٰ علیہ السلام,4,حضرت فاطمہ سلام علیھا,16,حضرت مریم سلام علیھا,1,حضرت موسیٰ علیہ السلام,2,حفصہ بنت عمر,1,حلالہ,1,خارجی,2,خالد بن ولید,1,خلافت,10,دورود,1,دیوبند,55,رافضی,3,رجال,5,رشید احمد گنگوہی,1,روزہ,3,زبیر علی زئی,7,زنا,1,زیاد,1,زیارات قبور,1,زيارت,1,سب و شتم,2,سجدہ گاہ,3,سرور کونین حضرت محمد ﷺ,14,سلیمان بن خوجہ ابراہیم حنفی نقشبندی,1,سلیمان بن عبد الوہاب,1,سنی کتابوں سے سکین پیجز,284,سنی کتب,6,سولات / جوابات,7,سیرت معصومین علیھم السلام,2,شاعر مشرق محمد اقبال,2,شاعری کتب,2,شجرہ خبیثہ,1,شرک,8,شفاعت,1,شمر ابن ذی الجوشن لعین,2,شیخ احمد دیوبندی,3,شیخ عبدالقادرجیلانی,1,شیخ مفید رح,1,شیعہ,8,شیعہ تحریریں,8,شیعہ عقائد,1,شیعہ کتب,18,شیعہ مسلمان ہیں,5,صحابہ,18,صحابہ پر سب و شتم,1,صحیح بخاری,5,صحیح مسلم,1,ضعیف روایات,7,طلحہ,1,عبادات,3,عبدالحق محدث دہلوی,1,عبداللہ ابن سبا,1,عبدالوہاب نجدی,2,عرفان شاہ بریلوی,1,عزاداری,4,علامہ بدرالدین عینی حنفی,1,علمی تحریریں,76,علیہ السلام لگانا,1,عمامہ,1,عمر بن سعد بن ابی وقاص,1,عمران بن حطان خارجی,2,عمرو بن العاص,3,غزوہ احد,1,غم منانا,12,فتویٰ,4,فدک,3,فقہی مسائل,17,فیض عالم صدیقی ناصبی,1,قاتلان امام حسینؑ کا مذہب,6,قاتلان عثمان بن عفان,1,قادیانی,3,قادیانی مذہب کی حقیقت,32,قرآن,5,کالا علم,1,کتابوں میں تحریف,5,کلمہ,2,لفظ شیعہ,2,ماتم,3,مباہلہ,1,متعہ,4,مرزا بشیر احمد قادیانی,2,مرزا حیرت دہلوی,2,مرزا غلام احمد قادیانی,28,مرزا محمود احمد,2,مسئلہ تفضیل,3,معاویہ بن سفیان,25,مغیرہ,1,منافق,1,مولانا عامر عثمانی,1,مولانا وحید الزماں,3,ناصبی,22,ناصر الدین البانی,1,نبوت,1,نماز,5,نماز جنازہ,2,نواصب کے اعتراضات کے جواب,71,واقعہ حرا,1,وسلیہ و تبرک,2,وصی رسول اللہ,1,وضو,3,وہابی,2,یزید لعنتی,14,یوسف کنجی,1,Requests,1,
rtl
item
شیعہ اہل حق ہیں: سب علی پر مصری عالم دین احمد زکی صفوت کی تحقیق
سب علی پر مصری عالم دین احمد زکی صفوت کی تحقیق
مصری عالم دین احمد زکی صفوت کی تحقیق سب علی پر
شیعہ اہل حق ہیں
https://www.shiatiger.com/2014/03/blog-post_6036.html
https://www.shiatiger.com/
https://www.shiatiger.com/
https://www.shiatiger.com/2014/03/blog-post_6036.html
true
7953004830004174332
UTF-8
تمام تحریرں دیکھیں کسی تحریر میں موجود نہیں تمام دیکھیں مزید مطالعہ کریں تبصرہ لکھیں تبصرہ حذف کریں ڈیلیٹ By مرکزی صفحہ صفحات تحریریں تمام دیکھیں چند مزید تحریرں عنوان ARCHIVE تلاش کریں تمام تحریرں ایسی تحریر موجود نہیں ہے واپس مرکزی صفحہ پر جائیں Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS PREMIUM CONTENT IS LOCKED STEP 1: Share to a social network STEP 2: Click the link on your social network Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy Table of Content