خلافتِ شیخین تسلیم کرنےوالے کوفی شیعوں کے امام حسین کے نام خطوط


خلافتِ شیخین تسلیم کرنےوالے کوفی شیعوں کے امام حسین کے نام خطوط


ہم نے پچھلے ابواب میں ثابت کیا تھا کہ معاویہ کے 21 سالہ طویل حکومتی عرصہ کے بعد کوفہ میں تین 3 گروہ آباد تھے۔
1. شیعانِ عثمان )بنی امیہ(، جو کھل کر اہل بیت پر سب و شتم کرتے تھے اور یزید کی حکومت کے لیے مستقل بطور جاسوس کردار ادا کرتے تھے۔ یہ پہلے تین خلفاء کی
خلافت کے قائل تھے)جبکہ مولا علی )ع( کی خلافت کو انہوں تسلیم نہیں کیا(۔ ابن تیمیہ لکھتا ہے:
عثمانی شیعہ علی کو ممبروں سے کھل کے سب و شتم کیا کرتے تھے . منہاج السنہ ، ج 1 ص 178
2. عام اہل کوفہ، جنہیں سیاسی معنوں میں ]شیعانِ عثمان کی رد میں[ شیعانِ علی کہا جاتا تھا۔ یہ عقیدتی طور پر شیعانِ عثمان کے برخلاف، پہلے تین خلفاء کی بجائے چار خلفاء کے ماننے والے تھے۔ یہ گروہ کوفہ میں سب سے زیادہ اکثریت میں تھا۔
3. اہل بیت علیھم السلام کا خصوصی شیعانِ خاصہ کا گروہ، جو عقیدتی امامی شیعہ تھے۔ یہ گروہ کوفہ میں سب سے کم اقلیت میں رہ گیا تھا۔
عام اہل کوفہ کا بنی امیہ کے مظالم سے تنگ ہونا
عام اہل کوفہ عثمان ابن عفان کے دور سے ہی بنی امیہ کے حکام کے مظالم سے تنگ تھے، اور بار بار انکی شکایت عثمان ابن عفان سے کرتے تھے، مگر عثمان نے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ مثلاً عثمان خلیفہ بننے کے بعد کوفہ میں موجود گورنر سعد بن ابی وقاص کو جو کبار صحابہ میں سے تھے، معزول کر دیا اور اُنکی جگہ ولید بن عقبہ جسکا تعلق بنی امیہ سے تھا، کو کوفہ کا عامل مقرر کیا۔ یہ ولید بن عقبہ فاسق و
فاجر شخص تھا اور نشے کی حالت میں نماز پڑھانے پہنچ جاتا تھا۔ ایک صبح ایسے ہی نشے کی حالت میں فجر کی نماز دو کی بجائے چار رکعت پڑھا دی۔ مختصرا یہ کہ عثمان کے دور سے ہی اہل کوفہ بنی امیہ کے حکام کے مظالم سے تنگ آئے ہوئے تھے۔ پھر جب معاویہ خلیفہ ہوا تو اُس نے زیاد بن سمعیہ کے ہاتھوں کوفہ میں لوگوں کا قتل عام کروایا۔ اس سے لوگ بظاہر خاموش تو ہو گئے لیکن اُن کے دلوں میں بنی امیہ کے خلاف عداوت کی آگ اور بھڑک اٹھی۔ پھر جب معاویہ نے اپنے مرنے سے قبل یزید جیسے فاسق و فاجر اور شرابی کبابی بیٹے کو خلافت کے لیے نامزد کر کے خلافت کو ملوکیت میں تبدیل کرنے کی بدعت کی، تو اس پر یہ اہل کوفہ اور زیادہ بھڑک اٹھے۔
اہل بیت کے الشیعہ خاصہ کا اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش
جب اہل کوفہ کے شیعہِ خاصہ )یعنی عقیدتی /امامی شیعہ جو کہ اقلیت میں تھے( تک یہ خبریں پہنچیں کہ امام حسین )ع( نے یزید کی خلافت تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے اور وہ اسی مقصد کے لیے مدینہ سے ہجرت کر کے مکہ معظمہ آ گئے ہیں اور یہ طے کر لیا ہے کہ جو کچھ بھی ہو، یزید کی بیعت نہ کریں گے، تو جماعت کو جو بیس برس کی طویل مدت تک طرح طرح کے صبر آزما مظالم برداشت کرتے ہوئے عاجز آ چکی تھی اور ہر وقت وہ جناب حسین )ع( کی جانب سے نصرت کی منتظر تھی، اپنی مایوسیوں کی مدت سے چھائی ہوئی تاریک گھٹاؤں میں امید کی شعاعیں نظر آنے لگیں
اور ان کے ضمیر نے آواز دی کہ اس موقع سے بہتر کوئی موقع نہ ملے گا۔ اور اس وقت کا سکوت اپنے ہاتھ سے خود کشی کے مترادف ہو گا۔ یہ سوچ کر یہ جماعت سلیمان بن صرد صحابی رسول ص کے گھر میں جمع ہوئے۔ سن رسیدہ اور تجربہ کار سلیمان نے، جو رسالت مآب)ص( کی آنکھیں دیکھے ہوئے اور امیر المومنین علی ابن ابی طالب کے ساتھ لڑائیوں میں شریک رہ چکے تھے، مجمع کو ان الفاظ سے مخاطب کیا:
معاویہ کا انتقال ہوا اور حیسن نے یزید کی بیعت سے انکار کیا ہے۔ اور وہ مکہ معظمہ چلے گئے ہیں۔ آپ لوگ ان کے اور ان کے پدر بذرگوار کے شیعہ ہیں۔ اگر آپ اس بات کا یقین رکھتے ہوں کہ ان کی نصرت و مدد میں اور ان کے دشمنوں سے جنگ میں کوتاہی نہ ہو گی تو بسم الله، ان کو خط لکھیے اور اگر سستی و کمزوری کا خوف ہو تو خدا کے واسطے ایک شخص کو فریب دے کر اس کی جان کو خطرہ میں نہ ڈالئے۔ ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ سلیمان وقتی جوش و جذبہ کو بھڑکا کر اپنے مقصد کو حاصل نہیں کرنا چاہتے تھے، بلکہ وہ مجمع کو موقع کی نزاکت اور آئیندہ کے خطرات کے متعلق صحیح تصویر دکھانا چاہتے تھے۔ یہ امر فطری ہے کہ جذبات کی برانگیختگی کے موقع پر انسان کو اپنی طاقت کا اندازہ مشکل سے ہوتا ہے اور وہ اپنی طاقت کا اندازہ کرنے میں غلطی کر جاتا ہے۔ مگر مجمع کے اندر ان کے بڑھتے ہوئے جوش میں سلیمان کے الفاظ نے وہ کام کیا جو پانی کا چھینٹا اٹھتے ہوئے آگ کے شعلوں میں۔ایک مرتبہ سب بول اٹھے کہ نہیں نہیں، ہم یقیناً ان کے دشمنوں سے جنگ کریں گے اور اپنے آپکو حضرت کے قدموں پر نثار کرینگے۔
یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ ان الشیعہ خاصہ کی یہ جمعیت تعداد میں کتنی تھی؟ اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ وہ کسی میدان یا عالی شان قصرِ امارت کے وسیع صحن کی رہینِ منت نہ تھی، بلکہ وہ عربی طرز کے مختصر مکانات میں سے، جن
کے نمونے آج تک عربستان میں نظر آ جاتے ہیں، ایک مکان یعنی سلیمان بن صرد کے گھر میں مجتمع ہو گئی تھی۔
مذکورہ بالا سوال و جواب اور اس کے الفاظ میں بے شک صداقت کا جوہر نظر آ رہا ہے، لیکن وہ آئندہ ہونے والے ناگہانی انقلابات کا کہاں تک مقابلہ کر سکتے ہیں؟ اس کا
فیصلہ مستقبل ہی کے ہاتھ ہے۔ سلیمان بن صرد کی حجت تمام ہو چکی تھی۔ امام حسین (ع) کو اس عنوان سے خط لکھا گیا:
بسم الله الرحمن الرحیم لحسین بن علی
(ع) سلیمان صرد و المسیب بن نختہ و رفاعۃ بن شداد و حبیب بن مظاہر و شیعۃ من المومنین و المسلمین من اہل الکوفہ
اس خط میں تو یہ بات بالکل صاف کر دی گئی کہ کوفہ میں کئی طرح کے گروہ آباد تھے اور یہ خط جمیع اہل کوفہ کی طرف سے نہیں بلکہ صرف کوفہ میں موجود مومنین اور مسلمین کے خاص شیعوں کی طرف سے تھا۔ اس کے بعد معاویہ کے انتقال پر اظہارِ مسرت کیا گیا تھا اور لکھا تھا کہ:
ہمارے سر پر کوئی قائد نہیں )جو جنگ میں اُنکی قیادت کر سکے(۔ لہذا آپ تشریف لائیےتاکہ آپکی وجہ سے ہم حق کی نصرت پر جمع ہو سکیں اور نعمان بن بشیر دار الامارۃ میں موجود ہے۔ ہم اس کے ساتھ نمازِ جمعہ میں شریک نہیں ہوتے اور نہ عیدگاہ جاتے ہیں۔ اگر ہم کو خبر معلوم ہو جائے گی کہ آپ تشریف لا رہے ہیں تو ہم اس کو یہاں سے نکال کر شام جانے پر مجبور کر دیں گے۔ والسلام۔
اس خط کو عبد اللہ بن ہمدانی اور عبد اللہ بن دال کے ہاتھ روانہ کیا گیا اور یہ سب سے پہلا خط ہے جو الشیعہ خاصہ کی طرف سے امام کو مکہ معظمہ میں دسویں ماہ رمضان کو ملا۔
الشیعہ خاصہ کی تحریک پر اہل کوفہ کے عامہ کے امام حسین کو خطوط
اب الشیعہ خاصہ نے اپنی تحریک کو اہل کوفہ کی عامہ تک پہنچانا شروع کیا۔ اہل کوفہ پہلے ہی بنی امیہ کے خلاف بھرے بیٹھے تھے، لہذا چنگاری دکھاتے ہی آگ بھڑک اٹھی اور الشیعہ خاصہ کے ساتھ ساتھ اہل کوفہ کے عامہ کی طرف سے بھی دھڑا دھڑ خطوط امام حسین
(ع) کی خدمت میں جانے لگے، اور دو ہی دن میں 53 عرضداشتیں تیار ہو گئیں۔ یہ خطوط ایک دو تین، یا چار آدمیوں کے دستخط سے تھے اور یہ سب خطوط قیس بن مسہر اور عبدالرحمن بن عبد اللہ اور عمارہ بن عبید سلولی کے ہاتھ روانہ کئے گئے۔ جب الشیعہ خاصہ نے کوفہ کے عامہ میں تحریک کا یہ زور دیکھا، تو انہیں یقین پیدا ہوا کہ رائے عامہ یزید کے خلاف ہے اور اور اس لئے کامیابی اُن کے قدم چومے گی۔ لیکن درحقیقت یہ فریبِ نظر تھا۔ عام خلقت کو اس تحریک سے ہمدردی ایسی ہی تھی جیسے آندھی کے رخ پر اڑتے ہوئے پرندہ کو۔اس غلط اندیشی کا نتیجہ یہ ہوا کہ یا تو پہلے خط میں “لعل اللہ ان یجمعنا بک” کے الفاظ بیم و رجا اور اجتماع و اتفاق کا خیال توقع کی صورت میں ظاہر کر رہی تھیں۔ اور یا اب آخری خط پُر زور الفاظ میں لکھا جاتا ہے جو مضبوط یقین اور کامل اعتماد کا مظہر ہے۔ تشریف لائیے جلد اس لئے کہ لوگ آپ کے منتظر ہیں اور آپ کے سوا کسی اور کو سردار تسلیم کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہیں۔ لہذا جلدی کیجئے جلدی۔ والسلام۔
اس خط کو ہانی بن عروہ اور سعید بن عبداللہ حنفی کے ذریعہ روانہ کیا گیا تھا۔
مفاد پرستوں کے امام حسین )ع( کو خطوط
جیسا ہم نے اوپر عرض کیا کہ الشیعہ خاصہ کی تحریک پر اہل کوفہ کے عامہ بھی بنی امیہ کے مظالم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے بھی امام حسین ع کو نصرت کے خطوط لکھے۔ ایسے میں چند ایسے مفاد پرست لوگ بھی تھے جنکا دین و ایمان صرف دنیا داری تھا۔ جب انہوں نے دیکھا کہ کوفہ میں امام حسین ع کی نصرت کے لیے لوگ جوق در جوق کھڑے ہو رہے ہیں، تو تاریخ بتاتی ہے کہ انہوں نے بھی امام
حسین ع کو ایک خط لکھا، جسکے مضمون میں سوائے دنیاوی لذتوں کے اور کسی چیز کا ذکر نہ تھا۔ خط کا مضمون یہ تھا:
کھیتیاں لہلہا رہی ہیں اور میوے درختوں میں رسیدہ ہیں اور تالاب لبریز ہیں۔ پس جب آپ چاہیں تشریف لائیں۔ ایک ایسے لشکر کےجانب جو آپ کے لئے آراستہ موجود ہے۔
اس پر سات آدمیوں کے دستخط ہیں۔ شیث بن ربعی، حجار بن الجبر ، یزید بن حارث، یزید بن رویم، عذرۃ بن قیس، عمرو بن الحجاج زبیدی، محمد بن عمری تمیمی۔ ان واقعات کے لئے ملاحظہ ہو طبری، جلد 6، صفحہ 197 ۔
ذرا پہلے خطوط اور اس خط میں عنوان کی حیثیت سے موازنہ کریں کہ اُن خطوط میں سے ہر خط میں برابر اپنے تشیع و ایمان کا حوالہ ہے۔ معاویہ و آلِ معاویہ کے غصبِ خلافت کا تذکرہ ہے۔ حسین بن علی کے استحقاقِ امامت کا اعتراف ہے، لیکن اس خط میں یہ کچھ بھی نہیں بلکہ صرف دنیاوی لذتوں و فوائد کا ذکر ہے۔آخر حیسن ع کو لہلہاتی کھیتیوں سے کیا کام اور رسیدہ میوؤں سے کیا غرض اور لبریز تالابوں سے کیا
مطلب؟ یہ مفاد پرستوں کا ٹولہ وہ ہوتا ہے کہ جو جہاں کی ہوا دیکھتا ہے، وہیں ہو لیتا ہے۔ ان خطوط کے مضامین میں جو فرق تھا، وہی فرق میدانِ جنگ میں بھی ظاہر ہوا، جسکا ذکر ہم آگے کریں گے اور یہ بھی بیان کرینگے کہ ان خط بھیجنے والوں میں شبیث بن ربعی خلافتِ شیخین کو ماننے والا تھا اور اہل سنت کی حدیث کی کتابوں کا مشہور و مستند راوی بھی ہے۔
الشیعہ خاصہ کے نام سے خطوط لکھنے والوں کا کربلا میں شہید ہونا
الشیعہ خاصہ کی طرف سے جن لوگوں نے خطوط لکھے، اُن میں سے ایک شخص کی بھی موجودگی واقعہ کربلا میں امام حسین کے مقابلہ میں نہیں پائی جاتی ۔بلکہ ان میں سے:
1. حبیب ابن مظاہر )ع(نے کربلا میں امام حسین کے قدموں پر جانبازی کے ساتھ دم توڑ کر ہمیشہ کے لئے سرخروئی حاصل کی۔
2. اور ان اشخاص میں سے جو خطوط کے لے جانے والے تھے، سعید بن عبداللہ حنفی نے اس طرح جان نثار کی جس کی نظیر کسی شہید کے ہاں نہیں ملتی۔ ظہر کے بعد جب لڑائی نے زور پکڑا اور خونخوار دشمنوں کا لشکر امام حسین کے نزدیک پہنچ گیا
اس وقت یہ جان باز امام کے سامنے کھڑا ہو گیا اور جو تیر حسین کی طرف آتا تھا اس کو اپنے سینہ پر روکتا تھا۔ آخر اتنے تیر پڑے کہ وہ جان نثار مردہ ہو کر زمین پر گر پڑا طبری صفحہ 253
3. اور عبد الرحمن بن عبد اللہ روزِ عاشور امام حسین سے اجازت لے کر میدانِ قتال میں آئے اور رجز پڑھ کر جنگ بہادری سے جنگ کی یہاں تک کہ شہید ہوئے۔ابصار العین صفحہ 78
4. اور قیس بن مسہر نے اپنی زندگی کے آخری نفس تک جس صداقت اور استقلال کے ساتھ اپنے فرض کو ادا کیا اس کا تذکرہ صفحہ تاریخ پر زریں حرفوں میں ہمیشہ ثبت رہے گا۔
اس وقت کہ جب امام حسین نے بطن الرمہ سے اہل کوفہ کے نام خط دے کر ان کو روانہ کیا اور حسین بن تمیم کے ہاتھوں جو قادسیہ میں ناکہ بندی پر مقرر تھا یہ گرفتار ہو کر ابن زیاد کے پاس لائے گئے اور اس نے حکم دیا کہ قصرِ دارالامارہ پر جا کر حسین بن علی کے بارے میں کلماتِ نازیبا استعمال کریں۔ یہ موقع تھا جس کو قیس نے بہترین موقع تبلیغ کا سمجھا اور بالائے قصر جا کر بلند آواز سے کہا سب کو معلوم ہونا چاہئیے کہ حسین فرزندِ علی و فاطمہ اس وقت خلقِ خدا میں سب سے افضل و بہتر ہیں اور وہ مقام حاجر تک پہنچ چکے ہیں۔ میں انہی کا بھیجا ہوا ہوں۔ اب تم سب ان کی آواز پر لبیک کہو یہ الفاظ ختم ہوئے ہی تھے کہ ابنِ زیاد کے حکم سے انکو قصرِ دارالامرہ کی بالائی سطح سے نیچے گرا دیا گیا اور اس شہید راہِ خدا کی ہڈیاں سرما سا ہو گئیں (طبری
صفحہ 224 )
یہ کوفہ کے وہ الشیعہ خاصہ تھے، جنہوں نے امام حسین )ع( پر اپنا خون بہا دیا۔ برخلاف اس کے آخری خط جس پر سات آدمیوں کے دستخط تھے ان میں سے پانچ شخص شیث بن ربعی اور حجار بن الجبر اور غرہ بن قیس اور عمرو بن حجاج زبیدی اور یزید بن حارث مسلماً واقعہ کربلا میں موجود تھے اور قتلِ امام حسین میں شریک تھے اور بقیہ دو کے نام اگرچہ کسی موقع پر نظر نہیں آتے لیکن قرائن کی رو سے قرینِ قیاس ہے کہ انہوں نے بھی قتل حسین میں اپنے ساتھیوں کا ساتھ دیا تھا۔ یہ عامہ میں سے اُسی مفاد پرستوں کا گروہ ہے جنہوں نے ہوا کا رخ دیکھتے ہوئے دنیاوی لذتیں حاصل کرنے کے لیے امام حسین
(ع) کو خط لکھا تھا لیکن جب دیکھا کہ فوجِ ابن زیاد غالب آ رہی ہے تو یہی لوگ تلواریں اٹھا کے امام حسین (ع) کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔
الشیعہ خاصہ کی قتل حسین سے براءت
مکہ سے واپسی پر امام حسین )ع( کو اہل کوفہ کے خطوط موصول ہوئے ۔ اس پر امام
(ع) نے مسلم بن عقیل (ع) کو وہاں جانے اور وہاں کی درست صورتحال کا جائزہ لینے کا حکم دیا۔ جب مسلم بن عقیل کوفہ پہنچے تو کوفہ میں یزید کے خلاف نفرت کی آگ بھڑک رہی تھی، اور اقلیت میں موجود الشیعہ خاصہ کے ساتھ ساتھ اہل کوفہ کے اکثریتی عامہ نے بھی بڑھ چڑھ کر آپکا استقبال کیا اور جلد ہی دس ہزار کے قریب کوفیوں نے آپ کو اپنی امداد کا یقین دلایا۔ اُس وقت نعمان بن بشیر کوفہ کا حاکم تھا اور صلح جو قسم کا آدمی تھا۔ اس لیے نعمان بن بشیر نےمسلم بن عقیل سے زیادہ تعرض نہ کیا، سوائے ایک خطبہ دینے کے، جس میں اُس نے لوگوں کو فتنہ سے خبردار کیا اور یزید (لعین) کو دی گئی بیعت کا وفادار رہنے پر زور دیا۔ (البدایہ والنہایہ ، ج 8 ص 11122 ؛ نفیس اکیڈمی کراچی )
عین اسی موقع پر کوفہ سے ایک خط یزید کے پاس آتا ہے، جسکی عبارت یہ ہے:
اما بعد فان مسلم بن عقیل قد قدم الکوفۃ فبایعۃ الشیعۃ اللحسین بن علی فان کان لک بالکوفۃ حافۃ فابعث الیھا رجلا قو یاینفذ امرک و یعمل مثل عملک فی عدوک فان لانعمان بن بشیر رجل ضعیف او هو یتضعف”
مسلم بن عقیل کوفہ آئے ہیں اور شیعوں نے اُن کے ہاتھ پر حسین بن علی کی بیعت کی ہے۔ اگر آپ کو کوفہ میں اپنی سلطنت قائم رکھنا ہے تو ایک طاقتور شخص کو یہاں مقرر کیجئے۔ جو آپ کے حکم کو نافذ کرے اور دشمن کے ساتھ وہ سلوک کرے جو آپ خود اگر ہوتے تو کرتے۔ اس لئے کہ نعمان بن بشیر )جو کوفہ کا حاکم ہے ( وہ فطرتاً کمزور ہے۔ یا کسی وجہ سے کمزوری کر رہا ہے۔
اس مضمون کو لکھنے والے تین آدمی ہیں:
1. عبداللہ بن مسلم بن سعید حضرمی حلیف بنی امیہ
2. عمارہ بن عقبہ
3. عمر بن سعد بن ابی وقاص
محترم قارئین! کیا آپ نے ان خط لکھنے والوں میں عمر بن سعد بن ابی وقاص کے نام پر غور کیا؟ بے شک یہ وہی سپہ سالار ہے جو حسین بن علی )ع( کے قتل کے لئے بھیجا گیا تھا اور اسی نے سب سے پہلا تیر لشکرِ حسین کی طرف چلایا تھا (طبری جلد 6 صفحہ 245 ) اور پھر یہ اہل سنت کی حدیث کی کتابوں کا ثقہ راوی بھی ہے۔
اس کے یہ الفاظ کہ "فبایعۃ الشیعۃ للحسین بن علی" کہ شیعہ جماعت نے مسلم کے ہاتھ پر حسین کی بیعت کر لی ہے، صاف بتلاتے ہیں کہ اس عمر بن سعد بن ابی وقاص کو جماعتِ شیعہ (خاصہ) سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اسی طرح پھر یزید کی یہ تحریر کہ “کتب الی شیعی من اہل الکوفہ” مجھ کو میرے شیعوں نے کوفہ سے لکھا ہے” بتلا رہی ہے کہ یہ شخص یزید کا شیعہ اور اس کی خلافت کو تسلیم کرنے والی جماعت سے تھا۔ اب اس کا فیصلہ ہمارے مضمون کی گذشتہ قسط دیکھ چکنے والے ناظرین کے ہاتھ ہے کہ آیا وہ اب بھی ناصبی حضرات کی اس دعویٰ کو درست تسلیم کرتے ہیں کہ امام حسین
(ع) کو قتل کرنے والے الشیعہ خاصہ ہی تھے یا نہیں۔ یزید نے اس خط کو دیکھتے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ ایک فرمان عبید اللہ ابن زیاد کے نام لکھا۔ یہ عبید اللہ بیٹا تھا اُسی شقی القلب زیاد بن سمعیہ کا، جسنے معاویہ کے دورِ حکومت میں کوفہ کی شیعی آبادی کا قتل عام کیا تھا، اور معاویہ کے زمانے سے ہی دمشق سے سرکاری فوجیں آ کر کوفہ میں مقیم ہو گئی تھیں۔ اسکی فرمان کی عبارت قابلِ دید ہے:
ما بعد فانۃ کتب الی شیعی من اہل الکوفۃ بخیر وننی ان ابن عقیل بالکوفۃ تجمع الجموع لشق عصا المسلمین فرحین تفراء الخ
میرے پاس میرے شیعوں نے جو کوفہ کے رہنے والے ہیں یہ لکھا ہے کہ ابن عقیل کوفہ میں جتھے جمع کر کے مسلمانوں کی موجودہ بنی بنائی بات کو بگاڑنا چاہتے ہیں۔ لہذا تم فوراً وہاں جاؤ اور مسلم پر قابو حاصل کر کے سزا دو طبری، جلد 6 صفحہ 211 ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ناصبی حضرات کی نزدیک یہ ابن زیاد بھی شیعانِ علی ہے، جبکہ ہر انصاف پسند نگاہ دیکھ سکتی ہے کہ یہ عبید اللہ ابن زیاد خلافتِ شیخین کے ساتھ ساتھ خلافتِ عثمان کا بھی ماننے والا تھا اسی بنا پر اہل سنت کی کتابوں میں اس سے احادیث بھی روایت کی گئی ہیں۔
ناصبی حضرات کا دعویٰ کہ ابن زیاد شیعانِ معاویہ نہیں بلکہ الشیعہ خاصہ میں سے تھا
یہ ناصبی دعویٰ انتہائی مضحکہ خیز ہے اور ناصبی حضرات کو یہ پروپیگنڈا اس لیے کرنا پڑتا ہے تاکہ وہ اصل قاتلانِ حسین کے چہروں پر نقاب ڈال سکیں کیونکہ اگر وہ مکروہ چہرے ظاہر ہوگئے تو مذھب اہل سنت کے پیروکار اپنے ہی مذھب کے ان معتبر علماء کے متعلق سوالات کا انبار لگادیں گے جنہوں نے اس مذھب کی بنیادی کتابوں میں نہ صرف ان ملعون قاتلوں سے روایات نقل کیں بلکہ انہیں ثقہ اور دین دار
بھی قرار دیا۔ اور ابن زیاد کے متعلق یزید نے اپنے ان اشعار میں اظہارِ خیال کیا ہے:
اسقنی شرمیۃ تروی مشاشی ثم قم واسق مثلھا ابن زیاد
ہاں اے ساقیِ مہوش، مجھکو ایک ایسا ساغر پلا دے جو میرے جسم کے ہر جوڑ بند کو سیراب کر دے۔ پھر کھڑے ہو کر ایسا ہی ایک جام ابن زیاد کو پلا۔
صاحب لاردوالامن و التسد ید منی و مغنمی و جھادی
وہ کہ جو خالص دوست اور امانتدار اور میری تائید کرنے والا اور میرا سرمایہ زندگی اور جنگ میں میرا ہم دست ہے اس شخص کا کفر و الحاد اور احکامِ خدا اور رسول سے روگردانی طشت از بام تھی اور کوفہ کے عام افراد بھی اس سے خوب واقف تھے۔ چنانچہ اس م وق ع پر جب حضرت مسلم ، جنابِ ہانی بن عروہ کے گھر پر فروکش تھے اور شریک بن اعور کی عیادت کے لئے ابن زیاد کے آنے کی خبر ہوئی اور شریک نے حضرت مسلم سے کہا کہ یہ موقع ہے کہ اس کو قتل کر ڈالئے۔ لیکن ابن زیاد آیا بھی اور چلا بھی گیا مگر جناب مسلم نے کوئی اقدام اس کے قتل پر نہ کیا۔ اس پر شریک نے ابن زیاد کے جانے کے بعد مسلم سے اس کا سبب پوچھا تو جنابِ مسلم نے کہا:
خصلتان ام احد احمان کراحۃ هانی ان یقتل فی دارہ امام الاخریٰ فحدیث حڈثہ الناس عن النبی صلی الله علیہ وسلم ان الایمان قید القتل و لا یقتل مومن
یعنی )اس کے دو سبب تھے۔ پہلے تو یہ کہ ہانی کو یہ امر ناپسند تھا کہ ابن زیاد ان کے گھر میں قتل کیا جائے، دوسرے یہ کہ رسول الله (ص) کی حدیث ہے کہ ایمان قتل پر پابندی عائد کرنے والا ہے اور کوئی مسلمان قتل نہیں کیا جا سکتا۔” یہ سن کر ہانی
نے کہا:
امار الله لو قتلتۃ لقتلت فاسقا فافرا کافرا غادرا ولکن کرحت ان یقتل فی داری
خدا کی قسم، آپ یقین جانئے کہ اگر آپ اس کو قتل کر ڈالتے تو یہ کسی مسلمان کا قتل نہ ہوتا بلکہ ایک فاسق، فاجر ، کافر، غدار کا قتل ہوتا، بیشک مجھ کو یہ امر پسند نہ تھا کہ وہ میرے گھر میں قتل ہو۔ طبری جلد 6، صفحہ 4
اب ہم یہ بات قارئین کے انصاف پر چھوڑتے ہیں کہ وہ خود فیصلہ کریں کہ یہ عبید اللہ ابن زیاد، کہ جس کے باپ زیاد بن سمعیہ کو معاویہ نے اپنا بھائی بنا لیا تھا، اور جسے کوفہ کی حکومت دی، اور یہ پسرِ زیاد جس کو یزید نے پھر سے کوفہ کی حکومت دی اور جس پر یزید اتنا اعتبار کرتا تھا، کیا وہ عقیدتی امامی شیعہ تھا یا پھر شیعانِ معاویہ؟ عبید اللہ ابن زیاد کے اہل سنت سے تعلق پر یہی نہیں بلکہ باب نمبر 11 میں مزید
روشنی ڈالینگے اور اس کے اہل سنت ہونے پر بختہ ثبوت پیش کرینگے۔
ابن زیاد کی کوفہ آمد اور اہل کوفہ پر اس کی ھیبت
عبید اللہ ابن زیاد نے کوفہ میں اپنی آمد کو بالکل صیغہ راز میں رکھا تاکہ اس کی آمد اچانک ہو۔ اور پھر راستہ میں جبکہ کوفہ نزدیک رہ گیا، اس نے اپنی وضع میں تغیر پیدا کر کے ایک سیاہ عمامہ سر پر باندھا اور چہرہ پر اسی طریقہ سے جو عرب قوم کے بہادروں میں سخت موقعوں پر مرسوم ہے ایک ڈھانٹا باندھ لیا، جس کی بنا پر شناخت ناممکن ہو گئی۔ ایک مرتبہ شہر پناہ کوفہ کے اندر یہ نقشہ نظر آیا کہ آگے آگے
عربی گھوڑے پر ایک رئیسِ قوم سیاہ عمامہ سر پر باندھے جو اشرافِ عرب کا امتیازی نشان تھا اور اس کے پیچھے ایک شاندار قافلہ زین و لجام، ساز و سامان سے آراستہ، اس حشم و خدم کو دیکھ کر ان توقعات کی بنا پر جو قائم تھیں، وہی ہونا چاہئے تھا جو ہوا۔ یعنی ہر شخص یہی سمجھ کر کہ حسین ابن علی تشریف لائے ہیں اور اس قائم شدہ اثر کی بنا پر جو دلوں میں تھا، جس جماعت کی طرف سے عبید اللہ کا گزر ہوتا تھا، وہ بنظر تعظیم کھڑے ہو کر آداب بجا لاتی تھی اور “خوش آمدید” کے معنوں میں یہ الفاظ زبان پر جاری ہوتے تھے ”مرحبا بک یا ابن الرسول الله قدمت خیر مقدم”۔
ابنِ زیاد کسی کو کچھ جواب نہ دیتا تھا، بلکہ آوازوں کو سنتا، چہروں کو بغور دیکھتا، شکل و شمائل کو پہچانتا چلا جا رہا تھا۔ یہاں تک کہ مجمع زیادہ ہو گیا اور لوگ اشتیاق میں گھروں سے نکل آئے۔ اور ہر شخص بخیال فرزندِ رسول کی زیارت کی تمنا میں آگے بڑھنے لگا اور نوبت یہ پہنچی کہ راہ چلنے میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ اس وقت مسلم بن عمرو باہل ی نے جو ابنِ زیاد کے ساتھ تھا، پکار کر کہا:
راستہ چھوڑ دو یہ حسین نہیں امیر عبید الله ابن زیاد ہیں۔ نہ معلوم ان الفاظ میں کون سا اثر تھا کہ بڑھتے ہوئے قدم اور اٹھتے ہوئے ہاتھ اور مسرت آمیز ترانے سب موقوف ہو گئے اور سناٹا سا چھا گیا۔ مجمع بھی تتر بتر ہوا اور جس وقت ابنِ زیاد دارالامارہ پہنچا ہے تو دس آدمیوں سے زیادہ اس کے ساتھ نہ تھے۔(طبری، جلد 6، صفحہ 211 )
اب ذرا فطری رجحانات پر غور کرتے ہوئے اہل کوفہ کے موجودہ باطنی اضطرابات کا اندازہ کریں۔ ایک تو اچانک حادثہ جو غیر متوقع صورت سے ظہور پذیر ہوا، وہ خود سنسنی پیدا کر دیا کرتا ہے ۔ اس پر یہ صورتِ حال کہ انہوں نے اپنے ہاتھوں اپنے خلاف جاسوسی کے فرض کو ادا کیا یعنی اپنے باطنی خیالات و جذبات اور حیسن کے ساتھ خلوصِ عقیدت کو خود ابنِ زیاد کے سامنے پیش کر دیا۔ اور ابنِ زیاد نے صاف
ایک ایک کے چہرہ اور آواز کو پہچان رکھا ہے۔ اور ابنِ زیاد وہ ہے کہ جس کی اور جس کے باپ کی تلوار کے نیچے بیس برس تک اس تمام خلقت کی گردنیں اس طرح خم رہی ہیں کہ جس کو چاہا گرفتار کیا، سولی پر لٹکا دیا۔ جلاد کے ہاتھ سے اس کی رگ و گردن کو قطع کرا دیا۔ اور ایسے ھیبت ناک مناظر انہی ہاتھوں سے آنکھوں کے سامنے آچکے ہیں جس کو سوچ کر اب تک رونگٹے کھڑے ہو جاتے اور دل ہل جاتے
ہوں گے۔ اور اب وہی صورتیں اپنے اور اپنی اولاد اور اعزاء و اقارب کے لئے پیشِ نظر ہیں۔ کیا یہ وجوہات ایسی نہ تھیں کہ جن کی بنا پر دل و دماغ معطل، قوائے عمل سلب اور طاقتیں مضمحل اور ہمتیں پست ہو جائیں اور دلوں پر عظیم خوف و ہراس کا غلبہ ہو جاتا؟
کوفہ میں کرفیو کی سی صورتحال
عربستان کا ایک طریقہ ہے کہ بڑے شہروں میں ہر محلہ کا ایک مختارِ محلہ ہوتا ہے جو اس محلہ کی مردم شماری، وارد و صادر، زندہ و مردہ، شادی شدہ و غیر شادی شدہ وغیرہ امور کے تشریحات کا مقامی حکومت کی طرف سے ذمہ دار ہوتا ہے اور اگر کوئی شخص اس محلہ سے کسی جرم کا مرتکب ہو یا کہیں مفرور ہو، اس کی جواب دہی و سراغ رسانی کی ضمانت بھی اسی سے تعلق رکھتی ہے۔ ابنِ زیاد نے مسجدِ جامع میں ایک تہدیدی تقریر کے بعد سب سے پہلا جو کام کیا وہ یہ کہ تمام محلاتِ کوفہ کے ذمہ دار اشخاص کو جن سے عرافت یعنی مختاریِ محلہ کا منصب تعلق رکھتا تھا، بُلا کر یہ فرمان جاری کیا کہ جلد سے جلد ہر محلہ کی مردم شماری اور جو لوگ نئے آئے ہیں ان کی فہرست اور جن لوگوں سے حکومتِ شام کو خطرہ ہے اُن کے نام ادارہِ حکومتِ محلیہ میں پیش کر دیے جائیں۔ اور اگر وہ کسی وجہ سے ان ناموں کو تفصیل دار لکھنے سے معذور ہوں تو ضمانت داخل کریں کہ ان کے محلہ میں سے کوئی شخص بھی حاکمِ شام کی مخالفت پر آمادہ نہ ہو گا۔ اور اس  کے خلاف ظاہر ہوا تو اس مختارِ محلہ کو خود اس کے گھر کے دروازہ پر سولی دی جائے گی۔ اور اس کے خاندان سے ہمیشہ کے لئے اس منصب کو علیحدہ کر لیا جائے گا۔ (طبری، صفحہ 211 )
یہ مضبوط تدبیر ایسی نہ تھی جس کی کامیابی مشتبہ ہو۔ کوفہ کا چپہ چپہ حکومت کے مخبرین کی کثرت سے غیر محفوظ نظر آنے لگا اور مارشل لاء کے ایسے سخت قانون میں وہ تنبیہی طاقت نہیں جو اس صورت سے پیدا ہوئی، اس لئے کہ اب ہر شخص خاص اپنے محلہ میں ایک گھر سے دوسرے گھر جاتے ڈرتا، جھجکتا اور اپنی جان کے خطرہ کا احساس کرتا تھا۔ اور اس طرح دس آدمیوں یا پانچ آدمیوں کا بھی ایک جگہ جمع ہو کر کسی امر پر گفتگو کرنا اور کوئی قرارداد طے کرنا ناممکن ہو گیا۔ اس صورتِ حال کے بعد کوفہ کی رائے عام کا منقلب ہو جانا کوئی عجب امر نہ تھا، جبکہ اہل کوفہ کی اُس عامہ میں کہ جنہوں نے بیعت کی تھی، سب کے اندر کوئی مذہبی روح بھی کار فرما نہ تھی، جو ان کو سخت موقع کے لئے اپنی جان کو خطرات میں ڈالنے پر استقلال سے آمادہ رکھتی، بلکہ اس جمِ غفیر کے اتفاق و اجتماع کی نوعیت وہی تھی، جس کے اسباب کو پہلےہی ہدیہ قارئین کیا جا چکا ہے۔
کوفہ میں مقیم امیرمعاویہ کی سرکاری افواج
اہل کوفہ کے متعلق بات کرتے وقت لوگ جس چیز کو سب سے زیادہ نظر انداز کرتے ہیں، وہ امیر معاویہ کے زمانے سے ہی دمشق سے آئی ہوئی سرکاری فوج اور پولیس تھی، جو کہ کوفہ میں ہی مقیم ہو گئی تھی۔ اسی سرکاری افواج کے بل بوتے پر زیاد بن سمعیہ مسلسل کئی سالوں تک کوفہ میں قتل عام کرتا رہا، مگر کسی کو اُسکے خلاف آواز اٹھانے کی جرات نہ ہو سکی۔ یہ سرکاری فوجیں مکمل طور پر یزید کی حامی تھیں اور جب یزید نے ابن زیاد کو گورنر بنا کر بھیجا، تو یہ سرکاری فوجیں مکمل طور پر ابن زیاد کے کنٹرول میں چلی گئیں۔ اور اسی سرکاری فوجوں کے بل بوتے پر ابن زیاد نے تھوڑے ہی عرصے میں پورے کوفہ پر پھر قبضہ جما لیا۔
حضرت مسلم بن عقیل )ع( کی مدد کرنے والوں کی گرفتاریاں
ابنِ زیاد نے ایک تدبیر یہ بھی کی کہ شہر کی ناکہ بندی کرا دی، یعنی چوراہوں اور عام راستوں پر پہرے بٹھا دیئے کہ کوئی جناب مسلم کی مدد کو نہ آ سکے۔ چنانچہ جو کوئی بھی اب جنابِ مسلم کی امداد کو آنا چاہتا، وہ فوراً گرفتار ہو جاتا۔ چنانچہ عبد الاعلیٰ ابن یزید کلبی اپنے گھرانے کے کچھ نوجوانوں کو ساتھ لئے ہوئے آ رہا تھا جس کو کثیر بن شہاب نے گرفتار کیا اور محلہ بنی عمارہ کی طرف سے عمادہ بن صلخب نے ہتھیار جسم پر آراستہ کر کے چاہا تھا کہ مسلم کے پاس آئیں، لیکن محمد بن اشعث نے گرفتار کر لیا۔ یہ دونوں جانباز مسلم اور ہانی کی شہادت کے بعد پسرِ زیاد کے حکم سے قتل کر ڈالے گئے۔(طبری جلد 6، صفحہ 216 )
یہاں کچھ روشنی محمد بن اشعث پر بھی ڈال دی جائے۔ امام حسین کی دشمن فوج کا یہ کارندہ بھی 'عامہ' یعنی آ ج کی زبان میں 'سنیوں' میں سے تھا نہ کہ شیعہ الخاصہ )یعنی عقیدتی / امامی / رافضی شیعہ( میں سے۔ یہ دشمن حسین بھی مذہب اہل سنت کی بنیادی احادیث کی کتابوں کا ایک بھروسہ مند راوی ہے۔ اس کی بیان کردہ احادیث ان کتابوں میں موجود ہیں:
1۔ موطا، ج 2 ص 519
2۔ سنن ابی دائود، ج 2 ص 146
3۔ سنن النسائی، ج 7 ص 312
4۔ سنن الکبریِ البھقی، ج 5 ص 332
تھذیب الکمال، ج 24 ص 496 میں ہے کہ امام ابن حبان نے محمد بن اشعث کا شمار اپنی کتاب 'الثقات' میں کیا ہے جس میں امام ابن حبان نے صرف ثقہ راویوں کا شمار کیا ہے۔ امام ابن حجر عسقلانی نے اپنی کتاب 'تقریب التھذیب' ج 2 ص 57 ترجمہ نمبر
5761 میں محمد بن اشعث تابعی کہا ہے اور حدیث کے حوالے سے اس دشمن اہل بیت کو 'مقبول' کا درجہ دیا ہے۔ سنن ابو دائود میں موجود اس حدیث کو جس کو محمد بن اشعث نے بیان کیا ہے اسے سلفیوں / وہابیوں کے امام ناصر الدین البانی نے اپنی کتاب 'صیح سنن ابو دائود' ج 2 ص 671 حدیث نمبر 2997 میں 'صحیح' قرار دیا ہے۔
اہل سنت کا یہ پیشوا ان لوگوں میں شامل تھا جو کہ جناب امیرمختار کے ہاتھوں قاتلان امام حسین سے بدلہ لینے کے دوران قتل کئے گ ئے( تھذیب الکمال، ج 24 ص 496 ترجمہ نمبر 5174)
اور اس دشمن اہل بیت کا شجرہ نسب ایک مشہور صحابی کے گھرانے سے بھی ملتا ہے جس گھرانے کا مذہب اہل اسنت میں خاص مقام ہے۔ تھذیب الکمال، ج 24 ص 495
میں ہم اہل سنت کے اس ہیرو کا تعارف اس طرح پڑھتے ہیں:
محمد بن الاشعث بن قیس الکندی ابوالقاسم الکوفی، ان کی والدہ ام فروہ بنت ابی قحافہ، ابو بکر الصیق کی بہن تھیں۔ محمد بن الاشعث کے علاوہ ایک اور دشمن اہل بیت کا ذکر گزرا جس کا نام کثیر بن شہاب ہے۔ اسے بھی کسی سنی عالم دین نے شیعہ الخاصہ میں شمار نہیں کیا ہے بلکہ یہ موصوف بھی اہل سنت کی حدیث کی کتابوں کے راوی ہیں۔ اس پر ہم دوسرے باب میں روشنی ڈالینگے۔
دمشق سے مرکزی فوجیں آنے کی خبریں 
ایک اور کام جو ابن زیاد نے کیا وہ یہ کہ خبریں پھیلا دیں کہ دمشق سے مرکزی فوجیں کوفہ پہنچنے والی ہیں۔ دمشق سے فوجیں آنے کی خبر ایسی نہ تھی جو اضطراب پیدا نہ کرے۔ اس خبر سے ایک عام دہشت پیدا ہو گئی۔ حالت یہ تھی کہ:
عورتیں اپنے باپ، بھائی کے پاس آتیں اور کہتیں تھیں کہ چل ، واپس چل۔ دوسرے لوگ کافی ہیں اور باپ یا بھائی اپنے بیٹے یا بھائی کے پاس آ کر کہتا تھا کہ کل دمشق سے لشکر آئے گا۔ پھر تو کیا کرے گا؟ چل، لڑائی سے کنارہ کشی کر کے اور مجبور کر کے اُسے اپنے ساتھ واپس لے جاتا تھا۔ طبری، صفحہ 218
اب شہر میں خون و دہشت کی کامل عملداری اور رعب و ھیبت کا پورا دور دورہ تھا۔ لوگ گھروں سے نکلنا خطرہ سمجھتے تھے۔اور اس لئے چاروں طرف سناٹا اور ہُو کا عالم تھا اور ایک کو ایک کی خبر نہ تھی۔
ابن زیاد کے اقدامات کے نتیجہ میں کوفہ کے الشیعہ خاصہ کی صورتحال
الشیعہ الخاصہ اور حسین )ع( کے ہمدرد جو مٹھی بھر سے زیادہ نہ تھے اس وقت عجب عالم میں تھے۔ ان کو چھپنے کے لئے گوشوں کی تلاش تھی۔ جن کا ملنا بھی دشوار ہو رہا تھا۔ ابنِ زیاد کو معلوم تھا کہ عنقریب حسین
(ع) تشریف لانے والے ہیں اور اگرچہ ہمتیں پست ہو چکی ہیں، لیکن ان کے آنے سے کہیں پھر انقلاب پیدا نہ ہو جائے۔ لہذا اس نے تلاش کر کے جن جن اشخاص سے اندیشہ ہو سکتا تھا انہیں قید کرنا شروع کیا۔ چنانچہ مختار بن ابو عبیدہ ثقفی، جو جنابِ مسلم کے خروج کے موقع پر کوفہ میں موجود نہ تھے، اور اسی دن اطلاع پا کر آئے، لیکن ایسے وقت پہنچے کہ جنابِ مسلم شہید ہو چکے تھے اور عمرو بن حریث نے رایتِ امن بلند کیا تھا کہ جو شخص اس کے نیچے چلا آئے اس کا جان و مال محفوظ ہے، لیکن مختار کو امان نہ مل سکی اور پپابزنجیر کر دیئے گئے تھے اور اسی طرح عبداللہ بن حارث بن نوفل اور دیگر اشخاص۔ ادھر حاکمِ اعلیٰ یزید نے بھی جنابِ مسلم کی شہادت کے بعد ابنِ زیاد کو حسین (ع) کے قصدِ عراق پر مخصوص طور سے توجہ دلاتے ہوئے لکھا:
مجھ کو خبر معلوم ہوئی ہے کہ حسین عراق کی طرف متوجہ ہو چکے ہیں۔ اب تم ہوشیاری کے ساتھ جاسوس مقرر کرو اور وہم و گمان بھی خطرہ کا ہو تو اس سے تحفظ کرو اور بدگمانی جس پر ہو، اُسے فوراً گرفتار کر لو۔ طبری، جلد 6، صفحہ 215
اب کیا تھا، قید و بند کا سلسلہ جاری ہو گیا اور جیل خانے قیدیوں سے چھلکنے لگے۔ اس سیاست کی نوعیت کا اندازہ ابنِ زیاد کی اس تقریر میں جو یزید کی ہلاکت کے موقع پر اس نے کی ہے، اس فقرہ سے معلوم ہوتا ہے: کوئی ایسا شخص نہیں جس پر گمان بھی ہو سکتا تھا کہ وہ حکومت کی مخالفت کریگا، مگر یہ کہ وہ قید خانہ کے اندر ہے۔ طبری، جلد 7، صفحہ 18
نیز اس گفتگو سے جو اس موقع پر جبکہ ابن زیاد یزید کے مرنے کے بعد بصرہ سے فرار ہو کر دمشق جا رہا تھا، راستہ میں سیاف بن شریح سے کی ہے، جس میں اس نے کہا:
میں ابھی اپنے دل میں کہہ رہا تھا کہ کاش میں نے ان لوگوں کو جو قید خانہ میں بند تھے، نکال کر گردن زنی کا حکم دے دیا ہوتا طبری، جلد 7، صفحہ 71 (اس لیے کہ وہی لوگ بعد میں انقلاب کا سبب ہوئے جیسا کہ جنابِ مختار وغیرہ) اس صورت سے حکومت کی طرف سے شہر کے داخلی حالات پر پورا قابو حاصل کر لیا گیا۔ جس کے بعد کسی شخص میں اتنی طاقت نہ رہی کہ وہ مخالفت کا نام بھی زبان پر لائے۔ اب اس کی توجہ خارج کیطرف ہوئی کہ کہیں بصرہ و مدائن اور دیگر اطراف کے لوگ کہ جہاں شیعہ کافی تعداد میں ہیں، کوئی در اندازی نہ کریں۔ نیز حیسن کی، جن کا آنا قریبی زمانہ میں یقینی ہے، ان کے ساتھ کسی سازباز کے لئے کوئی جماعت باہر نہ جانے پائے۔
دوسرے شہروں سے آمدِ شیعہ روکنے کے لیےکوفہ و مضافات کی ناکہ بندی
اب یزید کے حکم سے کوفہ و آس پاس کے دیگر شہروں کی حدود کی ناکہ بندی ہوئی اور قادسیہ میں جو حجاز و عراق و شام کے خطوط زیر کا محلِ اجتماع تھا، کئی ہزار سواروں کے ساتھ حصین بن تمیم کو مقرر کیا گیا، جو اب تک کوتوالِ شہر کی حیثیت رکھتا تھا۔ اور واقصہ سے لے کر قطقطانہ، لعلع اور خفان اور اطراف و جوانب میں جو شام اور بصرہ کے راستے تھے، ان سب میں لشکر پھیلا دیا گیا۔ یہاں تک کہ نہ کوئی شخص آ سکتا تھا اور نہ باہر جا سکتا تھا۔ چنانچہ قیس بن مسہر صیدادی اور عبد اللہ بن یقطر، جو امام حسین کے فرستادہ اہل کوفہ کے نام خط لے جا رہے تھے، وہ اسی قادسیہ میں پہنچ کر حصین کے ہاتھوں گرفتار ہوئے اور خود سید الشہدا جب ان حدود میں پہنچے اور صحرائی عربوں سے حالات کو دریافت کیا تو انہوں نےکہا:
خدا کی قسم، ہمیں کچھ نہیں معلوم، لیکن اتنا ہے کہ ہم نہ اندر جا سکتے ہیں اور نہ باہر نکل سکتے ہیں۔
حُر بن یزید ریاحی، جو ایک ہزار کے لشکر سے امام حسین کا سدِ راہ ہوا تھا، وہ بھی اسی فوج میں سے تھا، جو قادسیہ میں حصین کی سرکردگی میں مقرر تھی۔ یہ سب اسی لئے تھا کہ کوئی امام حسین کی مدد کے لئے کوفہ سے نہ آ سکے۔ یہاں تک کہ طرماح بن عدی اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ جب کوفہ سے غیر معروف راستہ سے آ کر امام حسین کے ساتھ ملحق ہوئے، اس وقت حُر نے آ کر حضرت سے کہا کہ:
یہ لوگ جو اہل کوفہ میں سے ہیں، آپ کے ساتھ مکہ سے نہیں آئے ہیں۔ لہذا میں ان کو گرفتار کرتا ہوں۔ یا کوفہ واپس جانے پر مجبور۔”لیکن حضرت نے اس فرمان پر کہا “اب جبکہ یہ میرے پاس پہنچ گئے ہیں، تو میرے ہی اصحاب و انصار میں داخل ہیں اور اب ان کی حفاظت مجھ پر فرض ہے۔ لہذا ناممکن ہے کہ میں ان کو تمہارے سپرد کر دوں” اور اس پر حُر کو ساکت ہونا پڑا طبری، جلد 6، صفحہ 221
اس موقع پر کہ جب امام حسین کربلا میں پہنچ چکے تھے، خود ابنِ زیاد نے کوفہ سے نکل کر نخلیہ میں اپنا مرکز قرار دے لیا تھا اور وہیں افواج کا معائنہ ہوتا تھا اور انہیں ترتیب دے کر کربلا روانہ کیا جاتا تھا (تصدیق کے لئے دیکھئے طبری، جلد 7 صفحہ47 )
اہل کوفہ کی گرفتاری جو امام حسین سے جنگ نہیں چاہتے تھے
اب صورتحال یہ تھی کہ الشیعہ خاصہ تو قتل کر دیے گئے، یا پھر قید کر لیے گئے۔ اب کوفہ کے عامہ میں سے لوگوں کو ابن زیاد کے حکم سے زبردستی کربلا روانہ کیا جاتا۔ اہل کوفہ کے یہ عامہ کے لوگ بھی امام حسین
(ع) سے جنگ نہیں کرنا چاہتے تھے، لہذا موقع ملتے ہی وہ کوفہ واپس بھاگ جانے کی کوشش کرتے۔ اس کے لئے ابن زیاد نے سوید بن عبدالرحمن منقری کو کچھ سواروں کے ساتھ کوفہ روانہ کیا کہ جو ایسا شخص وہاں ملے، اس کو گرفتار کر کے روانہ کیا جائے۔ سوید نے ایک شخص کو اہل شام میں سے جو کوفہ کسی اپنے ذاتی معاملہ کے لئے آیا تھا گرفتار کر کے ابنِ زیاد کے پاس بھیجا اور اس نے ھیبت قائم کرنے کے لئے اس کو قتل کرا دیا، جس کے بعد وہ تمام لوگ جو ٹہر گئے تھے، نکل کر کربلا روانہ ہو گئے (الاخبار الطوال، صفحہ 252 )
ان اجتماعات سے صریحی طور پر چند نتائج مرتب ہوتے ہیں:
1. کوفہ کی جماعتِ الشیعہ خاصہ میں جو حیسن کی ہمدرد ہو سکتی تھی اور جن کی نصرت کا خیال ہو سکتا تھا، ایک کثیر تعداد قتل کر دی گئی اور باقی ماندہ لوگ پا بزنجیر کر لیے گئے۔ اور اس طرح نہ معلوم کتنے باہمت اور پُر جگر اشخاص ہوں گے جو اگر باہر ہوتے تو اپنی جان حسین پر سے نثار کرتے۔ لیکن اس موقع پر وہ تاریک زنداں میں مقید تھے۔
2. حدود کی ناکہ بندی نے کوفہ کے رہے سہے اشخاص کے لئے، جن میں جذبہ نصرتِ حسین ہو سکتا تھا، حضرت تک پہنچنے کو دشوار سے دشوار بنا دیا تھا۔ اور اگر وہ آنے کا قصد کرتے بھی تو یقیناً نخلیہ میں، کہ جو بالکل کوفہ کے نکڑ پر کربلا کے راستہ میں تھا، گرفتار کر لئے جاتے یا آگے بڑھ کر قادسیہ اور خفان اور قطقطانہ و لعلع کی منزل پر وہ پکڑے جاتے۔
3. ابنِ زیاد کی طرف سے یہ اہتمام تھا کہ کوئی جنگ آزما شخص کوفہ میں ایسا باقی نہ رہ جائے جو حسین
(ع) سے جنگ کے لئے نہ نکلے اور اس طرح ان افراد کے لئے جو حسین کے مقابلہ میں جانے سے نفرت کرتے تھے، اس جرم سے حفاظت بھی تلفِ جان و مال کی ضامن بن گئی تھی۔ یعنی جیسے ہی عامہ میں سے جنگ کے قابل کوئی شخص امام حسین (ع) کے خلاف جنگ کرنے سےانکار کرتا، اُسی وقت اُسکو شیعانِ علی جانتے ہوئے اُسکی جان و مال کو لوٹ لیا جاتا۔
باوجود سخت دشواریوں کے شیعانِ خاصہ کی نصرتِ حسین
لیکن باوجود ان دشواریوں کے ان ہمت شکن مشکلات کے ان طاقت ربا مصائب کے ہم دیکھتے ہیں کہ الشیعہ الخاصہ کے وہ افراد جو حسینی دعوت کے بانی و مبلغ اور اس تحریک کے داعی و مروج تھے، اور سب سے پہلے خط بھیجنے والوں میں سے تھے، اور جنہوں نے وفاداری کا اقرار اور جانبازی کا عہد کیا تھا، وہ کسی نہ کسی طرح کربلا میں حسین تک پہنچ گئے اور اپنی جانیں انکے قدموں پر نثار کیں۔
1. یاد کریں وہ وقت کہ جب مسلم بن عقیل )ع( نے امام حسین کا خط پڑھ کر سنایا تھا، تو کون لوگ تھے اس وقت تقریر کر کے عہدِ نصرت و فداکاری کرنے والے؟ بے شک وہ تین آدمی تھے، عابس بن ابی شبیب شاکری، حبیب ابنِ مظاہر اور عمر سعید بن عبداللہ حنفی۔
2. کون تھا مسلم بن عقیل کا وکیل و نائب اور رازداری کے ساتھ حسین کی بیعت لینے والا؟ یقیناً وہ مسلم بن عوسجہ اسدی تھے۔
3. کون تھا مسلم کے ادارہِ اسلحہ کا منتظم اور جمع اموال کا موتمن و معتمد؟ بلاشبہ وہ صرف ابو ثمامہ صیدادی تھے۔
4. پھر کیا یہ وہ لوگ نہیں ہیں جنہوں نے ثباتِ قدم و استقلال کے ساتھ آخر دم تک حسین کا ساتھ نہیں چھوڑا؟ اور آخر ان کی لاشیں حسین کے قدموں پر خاک و خون میں تڑپتی ہوئی نظر آئیں؟ ان کے علاوہ بھی حسینی جماعت میں زیادہ تر کوفہ کے شیعہ خاصہ تھے جیسے:
5. بریر بن خضیر حافظِ قران مجید، کہ جن کو دیکھ کر لشکرِ عمرِ سعد میں کہا گیا تھا: تو وہی بریر بن خضیر ہیں جو ہم کو مسجد میں بیٹھ کر قرآن کی تعلیم دیا کرتے تھے۔”ری جلد 6، صفحہ 247 (۔
6. اور انس بن حارث اسدی صحابیِ رسول )ص( جن کا تذکرہ ابنِ اثیر جزری نے اسد الغابہ میں اور حافظ ابن حجر عسقلانی نے اصابہ میں کیا ہے۔ ابنِ اثیر کا قول ہے کہ:
ان کا شمار اہل کوفہ میں ہے اور یہ امام حسین کی خدمت میں پہنچے تھے اس وقت جب آپ کربلا میں اُتر چکے تھے اور شب کے وقت حضرت کے پاس پہنچے۔ ان لوگوں کے ذیل میں جن کے بخت نے یاوری کی تھی۔
3. اور نافع بن ہلال جملی جو کوفہ کے قبیلہ مذحج سے تھے۔
0. اور حنظلہ بن اسد
9. اور مجمع بن عبداللہ عائذی
11 . اور عائذ بن مجمع
11 . اور عمر بن خالد صیدادی
12 . اور جنادہ بن حارث سلمانی
13 . اور موید بن عمرو
14 . اور موقع بن ثمامہ اسدی
15 . اور سیف بن حارث بن سریع ہمدانی
16 . اور مالک بن عبد اللہ بن سریع
13 . اور سوار بن منعم ہمدانی
10 . اور عمر قرظہ انصاری
19 . اور نسیم بن عجلان انصاری
21 . اور عبداللہ بن بشر خشعمی
21 . اور حارث بن امراء القیس کندی
22 . اور بشر بن عمر کندی
23 . اور عبداللہ بن عروہ و عبدالرحمن بن عروہ نامی دونوں بھائی
24 . اور عبد اللہ بن عمیر کلبی
25 . اور سالم بن عمرو کلبی
26 . اور مسلم بن کثیر ازدی
23 . اور دافع بن عبد اللہ ازدی
20 . اور قاسم بن حبیب ازدی
29 . اور زہیر بن مسلم ازدی
. اور نعمان بن عمرو
31 . اور مسعود بن حجاج تیمی
32 . اور جوین بن مالک تیمی
33 . اور عمر بن ضبیعہ تیمی
34 . اورر حباب بن عامر تیمی
35 . اور امیہ بن سعد طائی
36 . اور ضرضام بن مالک ثعلبی
33 . اور کنانہ بن عتیق ثعلبی
30 . اور قاسط بن زہیر کردوس بن زہیر ثعلبین
39 . اور جبلہ بن علی شیبانی
41 . اور یزید بن زیاد بن مہاجر ابو الشعثاء کندی وغیرہ۔
حیرت ہے کہ بغض اہل یبت کو دل میں چھپائے سپاہ صحابہ جیسے نجس نواصب کو ابھی تک یہ شیعانِ خاصہ نظر نہیں آئے اور نہ انکی شہادت نظر آئی۔ اسی طرح ناصبی حضرات کو توابون میں شامل شیعہ تو نظر آ جاتے ہیں، مگر یہ اوپر والے الشیعہ خاصہ نظر نہیں آتے جنہوں نے کربلا میں اپنی جانیں قربان کر کے نصرتِ امام حسین
(ع) کی اور نہ ہی ان بےغیرت ناصبیوں کو وہ کُھلے قاتلان حسین نظر آتے ہیں جو کہ خود ان (اہل سنت) کی معتبر کتابوں کے ثقہ راوی تسلیم کیئے جاتے ہیں ۔ اور کیوں نہ ہو! بے غیرتی اور بےشرمی سے نواصب کو بھلا کیا دشمنی!
مندرجہ بالا حضرات تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جان پر کھیل کر عہدِ وفا کو پورا کرنے کے لئے اپنے تئیں کسی نہ کسی طرح حسین
(ع) کے قدموں تک پہنچا دیا۔ لیکن جو لوگ الشیعہ خاصہ میں سے حسین کی نصرت کے لئے نہ پہنچے یا نہ پہنچ سکے، ان میں سے بھی کسی شخص کا حسین کے مقابلہ میں کربلا میں موجود ہونا پایا نہیں جاتا اور جن لوگوں کا کھلم کھلا امام حسین کے خلاف لڑنا ثابت ہے وہ اہل سنت حضرات کی معتبر کتابوں کے ثقہ راوی ہیں۔ ان اہل سنت ثقہ راویانِ حدیث کے متعلق تفصیل سے ہم آگے تذکرہ کریں گے۔ انشاء اللہ۔
امام ابن جریر طبری کا بیان ہے:
جب حسین قتل ہو گئے اور ابن زیاد اپنے لشکرگاہ سے، جو نخلیہ میں قرار دیا گیا تھا، واپس جا کر کوفہ میں داخل ہوا تو شیعوں نے ایک دوسرے سے ملاقات کر کے ایک دوسرے پر ملامت اور اپنی کمزوری پر ندامت کا اظہار شروع کیا اور وہ سمجھے کہ ہم سے بڑا جُرم ہوا کہ ہم نے حسین کو نصرت کے وعدہ پر دعوت دی۔ اور پھر جب وہ آئے تو ہم ان کی نصرت کو نہ گئے اور وہ ہمارے پڑوس میں قتل کر ڈالے گئے اور ہم نے کچھ ان کی مدد نہ کی اور انہوں نے دیکھا کہ یہ عار وننگ ہم سے دور نہیں ہو سکتا،مگر یہ کہ ہم اُن لوگوں کو جو اُن کے قتل میں شریک ہوئے ہیں، انہیں قتل کر یں یا خود اس سلسلہ میں اپنی جانیں نثار کر دیں طبری، جلد 7، صفحہ 27
یہ روایت بھی ناصبی پروپیگنڈہ کے خلاف یہ ثابت کر رہی ہے کہ شیعانِ کوفہ اگرچہ حسین
(ع) کی مدد کرنے سے قاصر رہے لیکن کربلا میں امام حسین (ع) کے خلاف نہیں لڑے۔ اس روایت میں دو گروہوں کا ذکر ہے۔
1. پہلا گروہ اُن شیعوں کا ہے جو نصرت کے لیے نہیں جا سکے۔
2. اور یہ پہلا گروہ ایک ایسے دوسرے گروہ کو قتل کرنے کی قسم کھا رہا ہے، کہ جو امام حسین
(ع) کے قتل میں شریک ہوا۔ پس یہ شیعوں کا پہلا گروہ قتل حسین میں شریک نہیں تھا، بلکہ انکی زیادہ سے زیادہ خطا یہ تھی کہ وہ وقت پڑنے پر امام ع کی امداد کو نہیں پہنچے اور وہ بھی ابن زیاد کی جانب سے اُن سخت اقدامات کی وجہ سے جن کو ہم نے تفصیل کے ساتھ بیان کردیا ہے۔ پھر سلیمان بن صرد خزاعی کے مکان پر اجتماع ہوا اور اس موقع پر مسیب بن نجبہ نے جو تقریر کی ہے وہ یہ ہے کہ:
ہم اپنی صداقت پر ناز کرتے تھے اور اپنی جماعتِ شیعہ کی مدح و ثنا کیا کرتے تھے۔ لیکن خدا نے ہمارا امتحان لیا۔ اس وقت معلوم ہوا کہ ہمارے دعوے غلط ہیں۔ ہم نے حسین کو دعوت دی، انکے پاس پیغام بھیجے کہ آئیے ہم مدد کریں گے۔ لیکن جب وہ آئے تو ہم نے اپنی جانوں کو چھپا لیا۔ یہاں تک کہ وہ ہمارے پڑوس میں قتل ہو گئے۔ نہ ہم نے اپنے ہاتھوں سے ان کی نصرت کی اور نہ اپنی زبان سے ان کی حمایت کی۔ اور نہ اموال سے ان کو تقویت پہنچائی اور نہ اپنے قبیلہ کو ان کی نصرت پر آمادہ کیا۔ اب خدا اور رسول (ص) کو کیا جواب دیں گے۔ جب کہ ہمارے ملک میں فرزندِ رسول قتل کر ڈالا گیا۔ بے شک ہمارا کوئی عذر سننے کے قابل نہیں۔ لیکن اب یہ موقع ہے کہ جن لوگوں نے ان کے قتل میں شرکت کی ہے، انہیں قتل کریں یا اسی سلسلہ میں اپنی جانیں نثار کر دیں۔
طبری، جلد 7،صفحہ 48
یہ روایت بھی ناصبی پروپیگنڈہ کو رد کر رہی ہے اور صریحی طور پر اس بات کی دلیل ہے کہ قاتلانِ حسین یا قتل حسین میں شرکت کرنے والی جماعت، جماعتِ شیعہ سے کوئی تعلق نہ رکھتی تھی۔ اس کے بعد جب کہ سلیمان بن صرد اس جماعت کے قائدِ اعظم کی حیثیت سے منتخب ہو گئے تو انہوں نے جو تقریر کی اور جس کو وہ برابر ہر جمعہ میں دہرایا کرتے تھے، اس کا ایک اقتباس یہ ہے کہ:
ہم لوگ گردنیں اٹھا اٹھا کراشتیاق کے ساتھ اہل بیت رسول کی تشریف آوری کے منتظر تھے اور ان کو نصرت کی امیدیں دلاتے تھے اور آنے پر آمادہ کرتے تھے۔ لیکن جب وہ آئے تو ہم نے کمزوری کی اور عاجز رہے اور سستی کو کام میں لائے اور منتظر رہے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے یہاں تک کہ ہمارے ملک میں اور ہمارے قریب ہی فرزندِ رسول (ص) قتل کر ڈالے گئے جبکہ وہ فریاد کر رہے تھے لیکن کوئی انصاف سے کام نہ لیتا تھا۔ فاسقین کی جماعت نے ان کو اپنے نیزوں کا نشانہ اور تیروں کا سرِ مشق بنا لیا یہاں تک کہ انہیں شہید کر ڈالا طبری، جلد 7، صفحہ 49
اس سے بھی صاف ظاہر ہے کہ یہ لوگ کوفہ ہی میں رہ گئے تھے اور قتل حسین میں شرکت کرنے والی جماعت فاسقین ان سے جداگانہ ہے اور یہ فاسقین کی جماعت کہ جنہوں نے امام حسین
(ع) اور ان کے ساتھیوں پر مظالم کی انتہا کردی نواصب ہی کے مذھب کے معتبر کتابوں کے راوی ہیں۔
قتل حسین کے ذمہ دار شیعہ نہیں، بلکہ عامہ کے شیوخ و اشرافِ قبائل تھے
پھر وہ موقع کہ جب یزید ہلاک ہوا اور سلیمان بن صرد کے پاس شیعی جماعت کے بہت سے افراد نے آ کر کہا کہ اسوقت حکومت کے ارکان میں تزلزل ہے اور یہی موقع ہے کہ ہم انتقام کے لئے اٹھ کھڑے ہوں اور ان کے قاتلوں کو چن چن کر قتل کریں۔ اس وقت سلیمان نے جو تقریر کی وہ یہ ہے:
میں نے اس معاملہ میں غور کیا تو یہ دیکھا کہ قاتلانِ حسین کوفہ کے سربرآور وہ اشخاص اور شیوخ و اشرافِ قبائل ہیں اور انہی کے اوپر حسین کے قتل کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اور جب انہیں تم لوگوں کے ارادے کی خبر ہو گی اور یہ معلوم ہو گا کہ اس کا اثر ان پر پڑے گا تو وہ سختی سے تمہاری مخالفت پر آمادہ ہو جائیں گے۔ اور میں نے اندازہ کیا اُن لوگوں کو جو میرا ساتھ دینے پر آمادہ ہیں، تو معلوم ہوا کہ وہ اتنی تعداد میں ہیں کہ ان کے خروج کرنے سے نہ تو انتقام لیا جا سکتا ہے اور نہ مقصد حاصل اور نہ دشمن کو کئی نقصان پہنچ سکتا ہے، بلکہ یہ لوگ گوسفندوں کی طرح کاٹ کر ڈال دیئے جائیں گے۔ لہذا مناسب یہ ہے کہ تم اپنے دعاۃ و مبلغین اطراف میں روانہ کر کے لوگوں کو اپنی موافقت پر آمادہ کرو۔ طبری، جلد 7، صفحہ 52
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قتل حسین کے ذمہ دار اشخاص ‘عامہ’ کے شیوخ و اشرافِ قبائل تھے، جن کی حقیقت مختصر طور پر ہم نے سابق میں واضح کر دی اور یہ کہ جماعت شیعہ کو ان سے کوئی تعلق نہ تھا، نیز اس شیعی جماعت کی جو کوفہ میں موجود تھی، تعداد بھی معلوم ہو جاتی ہے کہ وہ کوئی نمایاں حیثیت نہ رکھتی تھی یعنی یہ شیعہ جماعت اتنی قلیل تھی کہ عامہ کے ان شیوخ و اشراف قبائل کے مقابلے میں آتے تو گوسفندوں کے مانند مارے جاتے۔ پھر وہ تقریر جو عبید اللہ بن عبداللہ کی زبان سے تاریخ میں درج ہے، اس میں بھی ہے کہ :
فرزندِ رسول )ص( کے لئے دشمن قتل کرنے پر آمادہ ہو گئے اور دوستوں نے ان کی مدد نہ کی۔ پس عذاب کے مستحق ہیں ان کے قتل کرنے والے اور سرزنش کے لائق ہیں ان کو چھوڑ دینے والے، نہ ان کے قاتل کے لئے خدا کے یہاں کوئی حجت ہے اور نہ ان کے بے مددگار چھڑنے والوں کا کوئی عذر قابلِ سماعت ہے۔ مگر یہ کہ وہ اب سچے دل سے توبہ کر کے ان کے قاتلوں سے جہاد کریں اور ظالموں سے جنگ کریں۔ طبری، جلد 7،صفحہ 52
وہ وقت کہ جب یہ لوگ بعزمِ جہاد کوفہ سے کربلائے معلیٰ آئے ہیں، اس موقع پر مثنی بن مخبریہ نے جو تقریر کی تھی، اس میں یہ فقرا قابلِ توجہ ہیں:
حسین و انصارِ حسین کو ایک ایسی جماعت نے قتل کیا جن کے ہم دشمن اور جن سے ہم بیزار ہیں اور اب ہم اپنے اہل و عیال کو چھوڑ کر اپنے گھر سے اس لئے نکلے ہیں کہ ان کے قاتلوں کے رگ و ریشہ کو فنا کر دیں طبری، جلد 7،صفحہ 271
ان تاریخی نصوص و شواہد سے آفتاب کی طرح روشن ہو جاتا ہے کہ جماعتِ شیعہ میں سے کوئی شخص بھی قتل امام حسین
(ع) کے لئے کربلا میں موجود نہ تھا۔

تبصرے

BLOGGER: 1

نام

ابن ابی حدید,2,ابنِ تیمیہ,8,ابن جریر طبری شیعہ,1,ابن حجر مکی,2,ابن خلدون,1,ابن ملجم لعین,1,ابو یوسف,1,ابوسفیان,1,ابومخنف,1,اجماع,2,احمد بن محمد عبدربہ,1,اعلی حضرت احمد رضا خان بریلوی,7,افطاری کا وقت,1,اللہ,4,ام المومنین ام سلمہ سلام علیھا,2,امام ابن جوزی,1,امام ابو زید المروزی,1,امام ابوجعفر الوارق الطحاوی,2,امام ابوحنیفہ,17,امام احمد بن حنبل,1,امام الزھبی,2,امام بخاری,1,امام جعفر صادق علیہ السلام,3,امام حسن علیہ السلام,11,امام حسین علیہ السلام,21,امام شافعی,5,امام علی رضا علیہ السلام,1,امام غزالی,3,امام مالک,3,امام محمد,1,امام مہدی عج,5,امامت,4,امداد اللہ مکی,1,اہل بیت علیھم السلام,2,اہل حدیث,16,اہل قبلہ,1,آذان,2,آن لائن کتابوں کا مطالعہ,23,آیت تطہیر,1,بریلوی,29,بریلوی اور اولیاء اللہ کے حالات,2,بنو امیہ,2,تبرا,8,تحریف قرآن,6,تراویح,2,تقابل ادیان و مسالک,33,تقيہ,2,تکفیر,3,جنازہ رسول اللہ,1,جنگ جمل,4,جنگ صفین,1,حافظ مبشر حسین لاہوری,1,حدیث ثقلین,5,حدیث طیر,1,حدیث غدیر,7,حدیث قرطاس,1,حضرت ابن عباس رض,3,حضرت ابو طالب علیہ السلام,5,حضرت ابوبکر,20,حضرت ابوزر غفاری رض,1,حضرت ام اکلثوم سلام علیھا,2,حضرت خدیجہ سلام علھیا,1,حضرت عائشہ بنت ابوبکر,14,حضرت عثمان بن عفان,7,حضرت علی علیہ السلام,64,حضرت عمار بن یاسر رض,3,حضرت عمر بن خطاب,23,حضرت عیسیٰ علیہ السلام,4,حضرت فاطمہ سلام علیھا,16,حضرت مریم سلام علیھا,1,حضرت موسیٰ علیہ السلام,2,حفصہ بنت عمر,1,حلالہ,1,خارجی,2,خالد بن ولید,1,خلافت,10,دورود,1,دیوبند,55,رافضی,3,رجال,5,رشید احمد گنگوہی,1,روزہ,3,زبیر علی زئی,7,زنا,1,زیاد,1,زیارات قبور,1,زيارت,1,سب و شتم,2,سجدہ گاہ,3,سرور کونین حضرت محمد ﷺ,14,سلیمان بن خوجہ ابراہیم حنفی نقشبندی,1,سلیمان بن عبد الوہاب,1,سنی کتابوں سے سکین پیجز,284,سنی کتب,6,سولات / جوابات,7,سیرت معصومین علیھم السلام,2,شاعر مشرق محمد اقبال,2,شاعری کتب,2,شجرہ خبیثہ,1,شرک,8,شفاعت,1,شمر ابن ذی الجوشن لعین,2,شیخ احمد دیوبندی,3,شیخ عبدالقادرجیلانی,1,شیخ مفید رح,1,شیعہ,8,شیعہ تحریریں,8,شیعہ عقائد,1,شیعہ کتب,18,شیعہ مسلمان ہیں,5,صحابہ,18,صحابہ پر سب و شتم,1,صحیح بخاری,5,صحیح مسلم,1,ضعیف روایات,7,طلحہ,1,عبادات,3,عبدالحق محدث دہلوی,1,عبداللہ ابن سبا,1,عبدالوہاب نجدی,2,عرفان شاہ بریلوی,1,عزاداری,4,علامہ بدرالدین عینی حنفی,1,علمی تحریریں,76,علیہ السلام لگانا,1,عمامہ,1,عمر بن سعد بن ابی وقاص,1,عمران بن حطان خارجی,2,عمرو بن العاص,3,غزوہ احد,1,غم منانا,12,فتویٰ,4,فدک,3,فقہی مسائل,17,فیض عالم صدیقی ناصبی,1,قاتلان امام حسینؑ کا مذہب,6,قاتلان عثمان بن عفان,1,قادیانی,3,قادیانی مذہب کی حقیقت,32,قرآن,5,کالا علم,1,کتابوں میں تحریف,5,کلمہ,2,لفظ شیعہ,2,ماتم,3,مباہلہ,1,متعہ,4,مرزا بشیر احمد قادیانی,2,مرزا حیرت دہلوی,2,مرزا غلام احمد قادیانی,28,مرزا محمود احمد,2,مسئلہ تفضیل,3,معاویہ بن سفیان,25,مغیرہ,1,منافق,1,مولانا عامر عثمانی,1,مولانا وحید الزماں,3,ناصبی,22,ناصر الدین البانی,1,نبوت,1,نماز,5,نماز جنازہ,2,نواصب کے اعتراضات کے جواب,71,واقعہ حرا,1,وسلیہ و تبرک,2,وصی رسول اللہ,1,وضو,3,وہابی,2,یزید لعنتی,14,یوسف کنجی,1,Requests,1,
rtl
item
شیعہ اہل حق ہیں: خلافتِ شیخین تسلیم کرنےوالے کوفی شیعوں کے امام حسین کے نام خطوط
خلافتِ شیخین تسلیم کرنےوالے کوفی شیعوں کے امام حسین کے نام خطوط
خلافتِ شیخین تسلیم کرنےوالے کوفی شیعوں کے امام حسین کے نام خطوط
شیعہ اہل حق ہیں
https://www.shiatiger.com/2014/04/blog-post_24.html
https://www.shiatiger.com/
https://www.shiatiger.com/
https://www.shiatiger.com/2014/04/blog-post_24.html
true
7953004830004174332
UTF-8
تمام تحریرں دیکھیں کسی تحریر میں موجود نہیں تمام دیکھیں مزید مطالعہ کریں تبصرہ لکھیں تبصرہ حذف کریں ڈیلیٹ By مرکزی صفحہ صفحات تحریریں تمام دیکھیں چند مزید تحریرں عنوان ARCHIVE تلاش کریں تمام تحریرں ایسی تحریر موجود نہیں ہے واپس مرکزی صفحہ پر جائیں Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS PREMIUM CONTENT IS LOCKED STEP 1: Share to a social network STEP 2: Click the link on your social network Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy Table of Content