Nahjul Balagha Maktoob 6 sy jhooty istedaal ka jawab


نواصب ، نهج البلاغة کے خط نمبر  6 سے کبھی اپنے سست مسلک کے لئے استدلال کرتے ہیں
                                             
   ( ومن كتاب له عليه السلام إلى معاوية )

إنه بايعني القوم الذين بايعوا أبا بكر وعمر وعثمان على ما بايعوهم عليه ، فلم يكن للشاهد أن يختار ولا للغائب أن يرد ، وإنما الشورى للمهاجرين والانصار ، فإن اجتمعوا على رجل وسموه إماما كان ذلك لله رضى ، فإن خرج من أمرهم خارج بطعن أو بدعة ردوه إلى ما خرج منه ، فإن أبى قاتلوه على أتباعه غير سبيل المؤمنين وولاه الله ما تولى ولعمري يا معاوية لئن نظرت بعقلك دون هواك لتجدني أبرأ الناس من دم عثمان ، ولتعلمن أني كنت في عزلة عنه إلا ان تتجنى فتجن ما بدالك والسلام

                                         ترجمہ :{ امام علی علیہ السلام کا خط معاویہ کے نام }
مجھ سے ان لوگوں نے بیعت کی ہے جن لوگوں نے ابوبکر و عمر اور عثمان سے بیعت اور اسی بات پر بیعت کی جس پر ان تین پر بیعت کی تھی پس حاضرینِ  بیعت کو حق نہیں ہے کہ وہ کسی اور کو خلیفہ قرار دے {یاد رہے کہ جنگ جمل کے بعد کاخط ہے یعنی طلحہ و زبیر کی بغاوت کے بعد خط ارسال ہوا ہے  }] اور غیر حاضرین کو حق حاصل نہیں کہ وہ اس بات کو رد کردیں اور لوگوں کی بیعت کو رد کردے شوری مھاجرین و انصار کے لئے ہے پس اگر یہ دو گروہ کسی شخص پر اجماع کر لیں اور اسے امام قرار دیں اللہ کی خوشنودی بھی اس میں شامل حال ہے اگر کوئی ان دو گروہ کے عمل کو ناپسند کرے یا کوئی بدعت کو ایجاد کرے تو لازم ہے کہ اسے  اس قانون حکم  کی طرف لوٹا دیا جائے اور اگر انکار کرے تو  اس سے جنگ کی جائے اس لئے کہ وہ  اس نے مسلمین کے راستہ کے علاوہ دوسرا راستہ اختیار کیا ہے اور اللہ بھی اسے اس کے حال گمراہی پر چھوڑ دیتا ہے اے معاویہ اگر تم اپنی عقل سے کام لو نہ کہ اپنی ہوس سے تو تم مجھے تمام انسان میں سے سب سے زیادہ خون عثمان الگ بری اور الگ دیکھو گو ۔۔۔ والسلام

نهج البلاغة خط نمبر 6

جواب :
حضرت امير عليه السلام کا معاویہ کے نام خظ میں چند نکات قابل توجہ ہیں

1. امام علی کا استدلال معاویہ کے خلاف باب الزام سے تعلق رکھتا ہے

امام علی علیہ السلام نے اس خط میں قاعدہ کلی سے بات نہیں کی ہے بلکہ دشمن کے مقابلہ میں جو اس بات کا اعتقاد رکھتا ہے کہ خلافت ثلاثہ کی مشروعیت مھاجرین اور انصار کی بیعت کی وجہ سے ہے یعنی اس باب سے ہے کہ مد مقابل کو اسی کی دلیل سے مارا جائے جو اس طریقہ «وجادلهم بالتي هي أحسن» تعبير ہوتا ہے
یا دوسرے الفاظ میں امام علی علیہ السلام کا مخاطب معاویہ ایسا شخص ہے جو عمر اور عثمان کی طرف سے حاکم شام تھا اور اس سے فرما رہیں ہیں اگر خلافت کا معیار اجماع مہاجرین و انصار ہے تو وہ میری خلافت میں بھی موجود ہے

2. صاحب نھج البلاغہ نے جو ذکر کیا ہے وہ آپ [ع] کے بلیغ سخن کا ایک حصہ ہے اور اس بعض حصوں کو ذکر نہیں کیا ہے لیکن دوسرے افراد مثل نصر بن مزاحم ، ابن قتیبہ نے ذکر کیا ہے جو حقیقت کو اور زیادہ اشکار کرتا ہے

3. خط کے آغاز میں ہے جس طرح بیعت ابوبکر و عمر مدینہ میں ہوئی اور تم شام میں اسے قبول کیا تو میری بھی بیعت مدینہ میں ہوئی ہے پس میری بیعت کو دل و جان سے قبول کرو

فإنّ بيعتي بالمدينة لزمتك و أنت بالشام.

المنقري، نصر بن مزاحم بن سيار (متوفاي212هـ) وقعة صفين، ج 1، ص 29؛ تحقيق عبدالسلام محمد هارون، ناشر: مؤسسة العربيّة الحديثة ـ بيروت؛
الدينوري، أبو محمد عبد الله بن مسلم ابن قتيبة (متوفاي276هـ)، الإمامة والسياسة، ج 1، ص 80، تحقيق: خليل المنصور، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت - 1418هـ - 1997م؛
الأندلسي، احمد بن محمد بن عبد ربه (متوفاي: 328هـ)، العقد الفريد، ج 4، ص 309، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت / لبنان، الطبعة: الثالثة، 1420هـ - 1999م؛
إبن أبي الحديد المدائني المعتزلي، أبو حامد عز الدين بن هبة الله بن محمد بن محمد (متوفاي655 هـ)، شرح نهج البلاغة، ج 3، ص 47، تحقيق محمد عبد الكريم النمري، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولى، 1418هـ - 1998م؛
الكوفي، أبي محمد احمد بن أعثم (متوفاي 314هـ) كتاب الفتوح، ج 2 ص 494، تحقيق: علي شيري ( ماجستر في التاريخ الإسلامي )، ناشر: دار الأضواء للطباعة والنشر والتوزيع، الطبعة: الأولى، 1411 هـ؛
ابن سعد الخير، علي بن إبراهيم (متوفاى571هـ)، القرط على الكامل، ج 1، ص 112؛
ابن عساكر الشافعي، أبي القاسم علي بن الحسن إبن هبة الله بن عبد الله (متوفاي571هـ)،‌ تاريخ مدينة دمشق وذكر فضلها وتسمية من حلها من الأماثل، ج 59، ص 128، تحقيق محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمري، ناشر: دار الفكر - بيروت – 1995 م.

امام علی علیہ السلام کا یہ فرمان معاویہ کے اس پست استدلال کے جواب میں ہے جو اس نے کہا کہ: اس کی دلیل یہ ہے میں اس لئے آپ کے حکم کو نہیں مانتا ہوں کہ شام کے لوگ آپ کی خلافت کو تسلیم نہیں کرتے ہیں

وأما قولك أنّ بيعتي لم تصحّ لأنّ أهل الشام لم يدخلوا فيها كيف وإنّما هي بيعة واحدة، تلزم الحاضر والغائب، لا يثنى فيها النظر، ولا يستانف فيها.

اور تمہارا یہ کہنا کہ میری بیعت صحیح نہیں ہے اس لئے کہ اہل شام اس بیعت میں شامل نہیں ہوئے ہیں کلام بیھودہ ہے اس لئے کہ جب مرکز حکومت میں خلیفہ مسلمین کی بیعت انجام پوئی ہو اس کی اس پیروی تمام حاضرین اور غائبین پر لازم ہے اور اس بیعت پر کسی کو نظر ثانی کا حق نہیں ہے
إبن أبي الحديد المدائني المعتزلي، أبو حامد عز الدين بن هبة الله بن محمد بن محمد (متوفاي655 هـ)، شرح نهج البلاغة، ج 14، ص 24، تحقيق محمد عبد الكريم النمري، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولى، 1418هـ - 1998م.


4. امام عليه السلام اس خط کے اتمام میں طلحہ و زبیر کی بیعت شکنی کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں

وإن طلحة والزبير بايعانى ثم نقضا بيعتى، وكان نقضهما كردّهما، فجاهدتهما. على ذلك حتى جاء الحق وظهر أمر اللّه وهم كارهون. فادخل فيما دخل فيه المسلمون، فإن أحب الأمور إلى فيك العافية، إلا أن تتعرض للبلاء. فإن تعرضت له قاتلتك واستعنت اللّه عليك.

طلحه و زبير میری بیعت کی اور پھر بیعت توڑ دی تب ان سے جنگ کی یہاں تک کہ حق آگیا اور حکم خدا آشکار ہو گیا جبکہ وہ لوگ ناپسند کرتے تھے معاویہ تم بھی اس امر میں داخل ہوجاو جس میں مسلمین داخل ہو گئے ہیں اس لئے مجھے پسند ہے کہ تم [جنگ] سے دور رہو لیکن اگر فتنہ اور آشوب پرپا کیا تو اللہ کی مدد سے تم سے جنگ کرونگا

اگرعلي عليه السلام بيعت ثلاثہ کو مشروعیت جانتے ہیں تو خود کیوں انکے بیعت سے انکار کرتے رہے ؟
یہ بات کہ حضرت امیر نے انکی بیعت نہیں ہے مسلمات تاریخ میں سے ہے جیسا صحیح بخاری میں

محمد بن اسماعيل بخارى لکھتے ہیں:
وَعَاشَتْ بَعْدَ النبي (ص) سِتَّةَ أَشْهُرٍ فلما تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيٌّ لَيْلًا ولم يُؤْذِنْ بها أَبَا بَكْرٍ وَصَلَّى عليها وكان لِعَلِيٍّ من الناس وَجْهٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ فلما تُوُفِّيَتْ اسْتَنْكَرَ عَلِيٌّ وُجُوهَ الناس فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أبي بَكْرٍ وَمُبَايَعَتَهُ ولم يَكُنْ يُبَايِعُ تِلْكَ الْأَشْهُرَ....
فاطمه زهرا [ سلام الله عليها ] پيامبر صلى الله عليه و آله و سلم کے بعد 6 ماہ تک زندہ رہیں جب وفات کی تو انکے شوہرعلی [ع] نے انھیں کفن و دفن کیا اور ابوبکر کو اطلاع نہیں دی اور خود ہی نماز پڑھی جناب فاطمہ کی زندگی میں لوگوں میں علی [ع] کا احترام تھا لیکن جب فوت کر گئیں تو لوگوں کا اچھا رویہ نہیں دیکھا یہاں پر حضرت نے دیکھا ابوبکر سے مصالحت اور بیعت کریں ان 6 ماہ میں علی[ع] نے ابو بکر کی بیعت نہیں کی تھی

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 4، ص 1549، ح3998، كتاب المغازي، باب غزوة خيبر،تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987.

البته اس بات کو مد نظر رکھا جائے کہ حضرت امیر کی بیعت اختیار اورمیل باطنی سے نہیں تھی
بلکہ اجبار و جبر سے ہوئی جیسا کہ حضرت فرماتے ہیں خط 28 میں ہے کہ

إنّي كنت أقاد كما يقاد الجمل المخشوش حتى أبايع.
مجھے اس طرح بیعت کے لئے کھینچ کر لے کئے جس طرح جس طرح اونٹ کو مھار لگائی جس کی نتیجہ میں کوئی اختیار اور مجال باقی نہ رہے
تفصیل کے لئے کتاب امامہ و سیاسہ اور الوصیہ مسعودی کی طرف رجوع کیا جائے

امام عليه السلام، سيرت شيخين کو مشروع نہیں جانتے ہیں.
شوری کے شروط میں سے ایک شرط سیرت شیخین پر عمل کرنا تھا جسے امام علی [ع] نے رد کردیا شوری کا یہ قصہ شیعہ سنی کتب میں درج ہے

ويلك لو أن أبا بكر وعمر عملا بغير كتاب الله وسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يكونا على شئ من الحق فبايعه....
تم پر وائے ہو اگر ابوبکر و عمر نے کتاب و سنت رسول اکرم ص کے خلاف عمل کیا ہو تو انکے عمل کی کیا اہمیت ہے ؟
الطبري، أبي جعفر محمد بن جرير (متوفاي310هـ)، تاريخ الطبري، ج 3، ص 116، ناشر: دار الكتب العلمية – بيروت؛
الشيباني، أبو الحسن علي بن أبي الكرم محمد بن محمد بن عبد الكريم (متوفاي630هـ)، الكامل في التاريخ، ج 3، ص 215، تحقيق عبد الله القاضي، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة الثانية، 1415هـ.

آيا علي عليه السلام خلافت شوراي کو صحیح جانتے ہیں؟
علي عليه السلام کے خط کا یہ حصہ :
وَ إِنَّمَا الشُّورَى لِلْمُهَاجِرِينَ وَ الْأَنْصَارِ فَإِنِ اجْتَمَعُوا عَلَى رَجُلٍ وَ سَمَّوْهُ إِمَاماً كَانَ ذَلِكَ لِلَّهِ رِضًا.
یاروں نے اس جملہ سےخلافت شوری کی مشروعیت کا صحیح قرار دیا ہے لیکن یہ بالکل نا درست ہے اس لئے مخاطب امام کا معاویہ اور دوسرے طلقاء [آزادرکردہ ]ہیں جو اپنی شرکت نا کرنے کی بناء پر کو امام علی کی خلافت رد کر رہے ہیں حضرت اس جملے سے انکے استدلال کو جھوٹ لا رہے ہیں

وَ إِنَّمَا الشُّورَى لِلْمُهَاجِرِينَ وَ الْأَنْصَارِ.

کہ اگر فرض ہے شوری مہاجرین اور انصار کی بیعت پرخلافت کی مشروعیت ہے تو یہ حق مہاجرین اور انصار کا ہے تم نہ انصار میں سے ہو اور نا مہاجرین میں سے بلکہ فتح مکہ میں اسلام کی تلوار کے سایہ میں مسلمان ہوئے ہو

علي عليه السلام نے جنگ صفين معاویہ اور اسکے حامیوں کے بارے میں فرمایا:
فَوَ الَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَ بَرَأَ النَّسَمَةَ مَا أَسْلَمُوا وَ لَكِنِ اسْتَسْلَمُوا وَ أَسَرُّوا الْكُفْرَ فَلَمَّا وَجَدُوا أَعْوَاناً عَلَيْهِ أَظْهَرُوهُ.
قسم اس خدا کی ، یہ لوگ اسلام نہیں لائے ہیں بلکہ اسلام کو ظاہر کیا ہے اور کفر کو اپنے اندر چھپا رکھا ہے اب ان لوگوں نے حامیوں کو حاصل کر لیا ہے اس لئے کفر کا آشکار کر رہے ہیں۔
نهج البلاغه، خطبه 16.
عمار ياسر، نے بھی اسی طرح کہا ہے :
واللّه ما أسلموا، ولكن استسلموا وأَسَرُّوا الْكُفْرَ فَلَمَّا رأوا عليه أَعْوَاناً عَلَيْهِ أَظْهَرُوهُ.
الهيثمي، علي بن أبي بكر (متوفاي807 هـ)، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، ج 1، ص 113، ناشر: دار الريان للتراث /‏ دار الكتاب العربي - القاهرة، بيروت – 1407هـ.

اور دوسری طرف سے فتح مکہ کے بعد سے ہجرت و مہاجرین کا معاملے کسی بھی طرح صحیح نہیں ہے اس لئے بخاری نے قول رسول اکرم ص کیا ہے کہ
فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے
لاَ هِجْرَةَ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ.
البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 3، ص 1120، ح2913، كتاب الجهاد والسير، ب 194، باب لاَ هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 – 1987.
اسے طرح قول عائشه نقل کیا ہے
انْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ مُنْذُ فَتَحَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ.
ہجرت اس دن سے تمام ہو گئی ہے جس دن اللہ نے اپنے رسول کو مکہ پر فاتح قرار دیا ۔
البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 3، ص 1120، ح2914، كتاب الجهاد والسير، ب 194، باب لاَ هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 – 1987.

----------------


على عليه السلام کا عثمان کے منتخب ہونے پر شدید رد عمل  :عمر کی طے شدہ سیاست کی وجہ سے امام علی علیہ اسلام خلافت سے محروم رہتے ہیں لیکن اس عمل پر امام علی السلام کا اتنا شدید موقف تھا کہ آپ کو قتل کی دھمکیاں دی جانے لگی ۔

قال عبد الرحمن بن عوف: فلا تجعل يا علي سبيلاً إلى نفسك، فإنّه السيف لا غير .عبد الرحمن بن عوف نے کہا: اے علي! اپنے قتل کے موقع فراہم مت کرو اس لئے ہمارے اور تمہارے درمیان صرف تلوار فیصلہ کرنے والی ہے.الدينوري، أبو محمد عبد الله بن مسلم ابن قتيبة (متوفاي276هـ ) ، الإمامة والسياسة، ج 1، ص 27، تحقيق: خليل المنصور، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت - 1418هـ - 1997م

اسی 6 نفر کی شوری پر حضرت نالے تھے

فَيَا لَلَّهِ وَ لِلشُّورَى مَتَى اعْتَرَضَ الرَّيْبُ فِيَّ مَعَ الْأَوَّلِ مِنْهُمْ حَتَّى صِرْتُ أُقْرَنُ إِلَى هَذِهِ النَّظَائِرِ لَكِنِّي أَسْفَفْتُ إِذْ أَسَفُّوا وَ طِرْتُ إِذْ طَارُوا فَصَغَا رَجُلٌ مِنْهُمْ لِضِغْنِهِ وَ مَالَ الآخَرُ لِصِهْرِهِ مَعَ هَنٍ وَ هَنٍ إِلَى أَنْ قَامَ ثَالِثُ الْقَوْمِ نَافِجاً حِضْنَيْهِ بَيْنَ نَثِيلِهِ وَ مُعْتَلَفِهِ وَ قَامَ مَعَهُ بَنُو أَبِيهِ يَخْضَمُونَ مَالَ اللَّهِ خِضْمَةَ الْإِبِلِ نِبْتَةَ الرَّبِيعِ إِلَى أَنِ انْتَكَثَ عَلَيْهِ فَتْلُهُ وَ أَجْهَزَ عَلَيْهِ عَمَلُهُ وَ كَبَتْ بِهِ بِطْنَتُهُ

اس شوری سے خدا کی پناہ میں کب انکے اول کے مثل تھا جو ان شوری کے افراد کے مثل قرار دے دیا گیا میں نے بھی یہ طے لر لیا ہے کہ ناچار انکے کی طیران پر اپنی پرواز کو ہماھنگ کروں تو ان[شوری] میں سے ایک شخص مجھ سے عناد اوربغض کی وجہ سے میرے مقابل آگیا اور دوسرا دامادی اور سسرالی رشتہ کی وجہ سے اور دوسرے مقاصد کی وجہ سے یہاں تک کہ تیسرا [عثمان] خلافت کو پہونچا جس نے کھا کھا کر اپنے پیٹ پھلایا {اور اپنا وقت} کچن اور بیت الخلاء میں چکر لگاکر گزارا اس کے ساتھ اور اس کا خاندان [بنی امیہ ۔۔۔ ] آگے بڑے اور بیت المال پر ٹوٹ پڑے جیسے کہ بھوکا اونٹ ہو جو بہار کے پتوں پر ٹوٹا ہو ۔ اور تیسرے [عثمان] نے اس قدر حدیں پار کیں کہ اسکی بٹی رسی کے بند کھول گئے اور اسکے اعمال نے اس کا کام تمام کردیا[اور لوگوں کو قیام پر مجبور کردیا] اور اسکی پور خوری نے اسے منہ کے بل گرا دیا

نهج البلاغه، خطبه 3. عمر کی على عليه السلام اور عباس کے ساتھ گفتگو 
عمر بن خطاب امام علی علیہ السلام کے حکومت کے خلاف موقف سے اچھی طرح آگاہ تھے اور جانتے تھے کہ میری اور ابو بکر کی خلافت علی [ع] کی نظر میں غصبی ہے

مسلم نیشاپوری نے عمر کی اس گفتگو کو اس طرح نقل کیا ہے:
فلمّا توفّي رسول اللّه صلى اللّه عليه وآله، قال أبو بكر: أنا ولي رسول اللّه... فرأيتماه كاذباً آثماً غادراً خائناً... ثمّ توفّي أبو بكر فقلت: أنا وليّ رسول اللّه صلى اللّه عليه وآله، ولي أبي بكر، فرأيتماني كاذباً آثماً غادراً خائناً! واللّه يعلم أنّي لصادق، بارّ، تابع للحقّ!.
عمر نے کہا: رحلت پيامبر (ص)، کے بعد ابوبكر نے کہا : میں رسول اللہ کا جانشین ہوں ۔۔۔ جبکہ تم دونوں[عباس و علی ] ابوبکر کو کذاب گناہ کار غدار اور خیانت کار سمجھتے تھے اور ابوبکر کے بعد میں رسو ل اللہ اور ابو بکر کا جانشین ہوں اور تم دونوں مجھے کذاب گناہگار غدار اور خیانتکار سمجھتے ہو لیکن اللہ جانتا ہے کی میں سچا ہوں نیک آدمی ہوں اور حق کی پیروی کرتا ہوں !.
النيسابوري، مسلم بن الحجاج أبو الحسين القشيري (متوفاي261هـ ) ، صحيح مسلم، ج 3، ص 1378، ح 1757، كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ، بَاب حُكْمِ الْفَيْءِ، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.
على عليه السلام خلفا ء کی حکومت کو غصبی جانتے ہیں :علي عليه السلام خلفاء کی حکومت کی مشروعیت کے منکر اور انھیں غاصب سمجھتے ہیں اسی لئے حضرت عقیل کے نام لیٹر میں فرماتے ہیں

فَجَزَتْ قُرَيْشاً عَنِّي الْجَوَازِي فَقَدْ قَطَعُوا رَحِمِي وَ سَلَبُونِي سُلْطَانَ ابْنِ أُمِّي .
اللہ قریش کو اس کے اعمال کی سزا دے ، ان لوگوں نے مجھ سے قطع رحم کیا اور میری والدہ کے بیٹے کی حکومت مجھ سے لے اڑے .نهج البلاغة، مکتوب نمبر 36.ابن ابى الحديد نے جو نقل کیا ہے اس میں حضرت اس طرح فرماتے ہیں وغصبوني حقي، وأجمعوا على منازعتي أمرا كنت أولى به.قريش نے میرے حق کو غصب کیا اور خلافت کے معاملے میں مجھے سے جبکہ میں سب سے زیادہ حقدار تھا، نزاع اور جھگڑا کیا

إبن أبي الحديد المدائني المعتزلي، أبو حامد عز الدين بن هبة الله بن محمد بن محمد (متوفي655 هـ)،شرح نهج البلاغة، ج 4، ص 62، تحقيق محمد عبد الكريم النمري، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولى، 1418هـ - 1998م

.ابن قتیبہ کے بقول جب قنفذ کو ابوبکر نے امام علی کے پاس بھیجا اور قنفذ نے کہا:
يدعوكم خليفة رسول الله (ص)خلیفہ رسول اللہ تم کو حاضر ہونے کا کہتے ہیں.علي عليه السلام نے جواب میں کہا::لسريع ما كذبتم على رسول الله (ص)حضرت [ع] نے جواب دیا کتنی جلدی تم لوگوں نے رسول اللہ پر جھوٹ باندھنا شروع کردیا ہے [اور ابوبکر کو رسول اللہ کا جانشین قرار دے دیا ہے] ثمّ قال أبو بكر: عد إليه فقل: أمير المؤمنين يدعوكم، فرفع علي صوته فقال: سبحان الله لقد ادعى ما ليس له.ابو بكر دوسری بار قنفذ کو بھیجا اسکے ہا تھ پیغام بھیجا کہ امیر المومنین نے آپ کو حاضر ہونے کا حکم دیا ہے علی [ع] اس کلام کو سن کے فرمایا: سبحان اللہ ایسی چیز کا ابوبکر نے ادعا کیا ہے جس کے وہ اہل نہیں ہیں۔الدينوري، أبو محمد عبد الله بن مسلم ابن قتيبة (متوفي276هـ)، الإمامة والسياسة، ج 1، ص 16، تحقيق: خليل المنصور، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت - 1418هـ - 1997م.

آيا إجماع صحابه اللہ کی کی مرضی پر دلالت کرتا ہے ؟
جہاں تک امام علی السلام کے اس سخن کا تعلق ہے :
فَإِنِ اجْتَمَعُوا عَلَى رَجُلٍ وَ سَمَّوْهُ إِمَاماً كَانَ ذَلِكَ لِلَّهِ رِضًا.
پس اگر مهاجرين و انصار کسی کی امامت پر اجماع کرلیں اور اسے پیشوا قرار دے تو خشنودی خدا بھی اس میں شامل ہیںاهل سنت اس قطعہ سے استدلال نہیں کر سکتے ہیں اس لئے تا کہ حقانیت خلفاء ثلاثہ کو ثابت کر سکیں اس لئے کہ :

أوّلاً: بعض نھج البلاغہ کے نسخوں میں جمله «كَانَ ذَلِكَ لِلَّهِ رِضًا»؛ کی جگہ عبارت «كَانَ ذَلِكَ رِضًا» ہے یعنی كلمه «لِلَّهِ» کے بغیر آیا ہے ‏.(نهج البلاغة چھاپ: مصر، قاهره کی طرف رجوع کیا جائے).

ثانياً: اس فرض کے ساتھ کہ "اللہ " کا لفظ بھی ہو تب اس کا معنی یہ ہے تمام کے تمام انصار و مھاجرین کی نے شرکت کی ہو جس میں امام علی ،جناب سیدہ ، جناب حسنین عليهم السلام بھی شامل ہیں جس کے نتیجہ میں اللہ کی رضایت کی سند حاصل ہوجاتی ہے لیکن ہم خلفاء ثلاثہ میں معاملہ برعکس دیکھتے ہیں کہ تاریخ اور اسناد یہ گواہی دیتی ہے کہ کسی بھی انتخاب اور انتصاب میں خاندان پیامبر [ع] اور انکے پیرکاران شامل نہیں تھے

آيا فاطمه زهرا (سلام الله عليها) نے ابوبكر کی بيعت کی تھی ؟اگر آپ ادعا کرتے ہیں کہ كه انتخاب خلفاء اجماع و رضايت تمام کے تمام اصحاب کی وجہ سے ہے تو ناراضگی ِ جناب سیدہ فاطمہ جو روایات صحیحہ کی روشنی میں انکی رضا رسول اللہ کی رضا اور انکا کا غضب رسول اللہ کا غضب ہے کیا کرینگے حاكم نيشابورى نے قول رسول خدا (ص) جو جنا فاطمه زهرا (س) کے لئے فرمایا ہے لکھا ہے:إنّ اللّه يغضب لغضبك، ويرضى لرضاك.اللہ آپ کے غضب کی وجہ سے غضبناک اور آپ کی رضایت پر راضی ہوتا ہے هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه.یہ روايت صحيح ہے لیکن مسلم و بخاری نے نقل نہیں کی ہے
النيسابوري، محمد بن عبدالله أبو عبدالله الحاكم (متوفاي405 هـ)، المستدرك على الصحيحين، ج 3، ص 167، تحقيق مصطفى عبد القادر عطا، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1411هـ - 1990مهيثمى نے بھی اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد لکھا:رواه الطبراني وإسناده حسن.الهيثمي، علي بن أبي بكر (متوفاي807 هـ)، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، ج 9، ص 203، ناشر: دار الريان للتراث /‏ دار الكتاب العربي - القاهرة، بيروت – 1407هـ.بخارى کے بقول حضرت رسول اکرم [ص] نے فرمایا::فاطمة بَضْعَة منّى فمن أغضبها أغضبني.فاطمہ میرا حصہ ہیں جس نے انھیں غضبناک کیا اس نے مجھے غضبناک کیا ہےالبخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 3، ص 1374، ح 3556، بَاب مَنَاقِبِ فَاطِمَةَ عليها السَّلَام، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 


مسلم نيشابوري، کے نقل کے اعتبار سے حضرت رسول اکرم [ص] نے فرمایا:

إِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي يُؤْذِينِي مَا آذَاهَا.فاطمہ میرا حصہ ہیں جس نے انھیں اذیت پہونچائی اس نے گویا مجھے اذیت کی النيسابوري، مسلم بن الحجاج أبو الحسين القشيري (متوفاي261هـ)، صحيح مسلم، ج 4، ص 1903، ح2449، كتاب فضائل الصحابة رضى الله تعالى عنهم، ب 15، باب فَضَائِلِ فَاطِمَةَ بِنْتِ النَّبِيِّ عَلَيْهَا الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت


اور اس بات میں شک نہیں ہے جناب سیدہ فاطمہ [س] نے نا فقط ابو بکر کی بیعت نہیں کی بلکہ ان سے ناراض رہیںاور اسی حال میں دنیا سے چلی گئیں

بخارى لکھتے ہیں:فَغَضِبَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَهَجَرَتْ أَبَا بَكْرٍ فلم تَزَلْ مُهَاجِرَتَهُ حتى تُوُفِّيَتْ


فاطمه دختر رسول خدا[ص] ابوبكر پر غضبناک ہوئیں اور ان سے قطع تعلق کردیا اور اسی حالت میں وفات تک رہیں 

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 3،* ص 1126، ح2926، باب فَرْضِ الْخُمُسِ، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - .
وصيت جناب سیدہ [ع] کے مطابق حضرت، علي عليه السلام نے شب میں ان پر نماز پڑھی اور دفن کیا اور ابوبکر کو اس کی اطلاع نہیں دی

فلما تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيٌّ لَيْلًا ولم يُؤْذِنْ بها أَبَا بَكْرٍ وَصَلَّى عليها

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 4، ص 1549، ح3998، كتاب المغازي، باب غزوة خيبر، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 


آيا على عليه السلام انصار مھاجرین میں موجود تھے؟
 
کیا اس بات کا کوئی انکار کرسکتا ہے کہ علی علیہ السلام نے بقول بخاری اور مسلم 6ماہ تک ابوبکر کی بیعت نہیں سے انکار کرتے رہے
:وعاشت بعد النبي صلى الله عليه وسلم، ستة أشهر... ولم يكن يبايع تلك الأشهر

حضرت فاطمه رحلت پيامبر [صلی اللہ علیہ و آلہ ] کے بعد 6 ماہ تک زندہ رہیں ۔۔ اور اس عرصہ میں علی نے ابوبکر کی بیعت نہیں کی تھی البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 4، ص 1549، ح3998، كتاب المغازي، باب غزوة خيبر، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 .بنی ھاشم نے امام علی پیروی کرتے ہوئے ابوبکر کی بیعت نہیں کی 

عبد الرزاق، استاد بخارى،کے بقول امير المؤمنین عليه السلام نے 6 ماہ تک بیعت نہیں کی اور نا بنی ھاشم میں سے کسی ایک نے بیعت کی



فقال رجل للزهري: فلم يبايعه عليّ ستة أشهر؟ قال: لا، ولا أحد من بني هاشم.ایک شخص نے زھری سے کہا: کیا یہ بات صحیح ہے کہ علی[ع] نے ابوبکر کی 6 ماہ تک بیعت نہیں کی ؟ زھری نے جواب دیا بالکل صحیح بات ہے علی{ع} اور بنی ھاشم میں کسی ایک نے بھی ابوبکرکی بیعت نہیں کی ۔الصنعاني، أبو بكر عبد الرزاق بن همام (متوفاي211هـ)، المصنف، ج 5، ص 472، تحقيق حبيب الرحمن الأعظمي، ناشر: المكتب الإسلامي - بيروت، الطبعة: الثانية، 1403هـ؛الطبري، أبي جعفر محمد بن جرير (متوفاي310هـ)، تاريخ الطبري، ج 2، ص 236، ناشر: دار الكتب العلمية – بيروت؛الاسفرائني، الإمام أبي عوانة يعقوب بن إسحاق (متوفاي: 316هـ)، مسند أبي عوانة، ج 4، ص 251، : ناشر: دار المعرفة – بيروت.ابن حزم بزرگ اهل سنت عالم کہتے ہیں:وَلَعْنَةُ اللَّهِ على كل إجْمَاعٍ يَخْرُجُ عنه عَلِيُّ بن أبي طَالِبٍ وَمَنْ بِحَضْرَتِهِ من الصَّحَابَةِلعنت خداوند ہو ہر اس اجماع پر جس کے باہر علی بن ابیطالب ہوں اور انکے ساتھی اصحاب رسول اللہ ہوں إبن حزم الظاهري، علي بن أحمد بن سعيد أبو محمد (متوفاي456هـ)، المحلى، ج 9، ص 345، تحقيق: لجنة إحياء التراث العربي، ناشر: دار الآفاق الجديدة - بيروت

Download Topic 

تبصرے

نام

ابن ابی حدید,2,ابنِ تیمیہ,8,ابن جریر طبری شیعہ,1,ابن حجر مکی,2,ابن خلدون,1,ابن ملجم لعین,1,ابو یوسف,1,ابوسفیان,1,ابومخنف,1,اجماع,2,احمد بن محمد عبدربہ,1,اعلی حضرت احمد رضا خان بریلوی,7,افطاری کا وقت,1,اللہ,4,ام المومنین ام سلمہ سلام علیھا,2,امام ابن جوزی,1,امام ابو زید المروزی,1,امام ابوجعفر الوارق الطحاوی,2,امام ابوحنیفہ,17,امام احمد بن حنبل,1,امام الزھبی,2,امام بخاری,1,امام جعفر صادق علیہ السلام,3,امام حسن علیہ السلام,11,امام حسین علیہ السلام,21,امام شافعی,5,امام علی رضا علیہ السلام,1,امام غزالی,3,امام مالک,3,امام محمد,1,امام مہدی عج,5,امامت,4,امداد اللہ مکی,1,اہل بیت علیھم السلام,2,اہل حدیث,16,اہل قبلہ,1,آذان,2,آن لائن کتابوں کا مطالعہ,23,آیت تطہیر,1,بریلوی,29,بریلوی اور اولیاء اللہ کے حالات,2,بنو امیہ,2,تبرا,8,تحریف قرآن,6,تراویح,2,تقابل ادیان و مسالک,33,تقيہ,2,تکفیر,3,جنازہ رسول اللہ,1,جنگ جمل,4,جنگ صفین,1,حافظ مبشر حسین لاہوری,1,حدیث ثقلین,5,حدیث طیر,1,حدیث غدیر,7,حدیث قرطاس,1,حضرت ابن عباس رض,3,حضرت ابو طالب علیہ السلام,5,حضرت ابوبکر,20,حضرت ابوزر غفاری رض,1,حضرت ام اکلثوم سلام علیھا,2,حضرت خدیجہ سلام علھیا,1,حضرت عائشہ بنت ابوبکر,14,حضرت عثمان بن عفان,7,حضرت علی علیہ السلام,64,حضرت عمار بن یاسر رض,3,حضرت عمر بن خطاب,23,حضرت عیسیٰ علیہ السلام,4,حضرت فاطمہ سلام علیھا,16,حضرت مریم سلام علیھا,1,حضرت موسیٰ علیہ السلام,2,حفصہ بنت عمر,1,حلالہ,1,خارجی,2,خالد بن ولید,1,خلافت,10,دورود,1,دیوبند,55,رافضی,3,رجال,5,رشید احمد گنگوہی,1,روزہ,3,زبیر علی زئی,7,زنا,1,زیاد,1,زیارات قبور,1,زيارت,1,سب و شتم,2,سجدہ گاہ,3,سرور کونین حضرت محمد ﷺ,14,سلیمان بن خوجہ ابراہیم حنفی نقشبندی,1,سلیمان بن عبد الوہاب,1,سنی کتابوں سے سکین پیجز,284,سنی کتب,6,سولات / جوابات,7,سیرت معصومین علیھم السلام,2,شاعر مشرق محمد اقبال,2,شاعری کتب,2,شجرہ خبیثہ,1,شرک,8,شفاعت,1,شمر ابن ذی الجوشن لعین,2,شیخ احمد دیوبندی,3,شیخ عبدالقادرجیلانی,1,شیخ مفید رح,1,شیعہ,8,شیعہ تحریریں,8,شیعہ عقائد,1,شیعہ کتب,18,شیعہ مسلمان ہیں,5,صحابہ,18,صحابہ پر سب و شتم,1,صحیح بخاری,5,صحیح مسلم,1,ضعیف روایات,7,طلحہ,1,عبادات,3,عبدالحق محدث دہلوی,1,عبداللہ ابن سبا,1,عبدالوہاب نجدی,2,عرفان شاہ بریلوی,1,عزاداری,4,علامہ بدرالدین عینی حنفی,1,علمی تحریریں,76,علیہ السلام لگانا,1,عمامہ,1,عمر بن سعد بن ابی وقاص,1,عمران بن حطان خارجی,2,عمرو بن العاص,3,غزوہ احد,1,غم منانا,12,فتویٰ,4,فدک,3,فقہی مسائل,17,فیض عالم صدیقی ناصبی,1,قاتلان امام حسینؑ کا مذہب,6,قاتلان عثمان بن عفان,1,قادیانی,3,قادیانی مذہب کی حقیقت,32,قرآن,5,کالا علم,1,کتابوں میں تحریف,5,کلمہ,2,لفظ شیعہ,2,ماتم,3,مباہلہ,1,متعہ,4,مرزا بشیر احمد قادیانی,2,مرزا حیرت دہلوی,2,مرزا غلام احمد قادیانی,28,مرزا محمود احمد,2,مسئلہ تفضیل,3,معاویہ بن سفیان,25,مغیرہ,1,منافق,1,مولانا عامر عثمانی,1,مولانا وحید الزماں,3,ناصبی,22,ناصر الدین البانی,1,نبوت,1,نماز,5,نماز جنازہ,2,نواصب کے اعتراضات کے جواب,72,واقعہ حرا,1,وسلیہ و تبرک,2,وصی رسول اللہ,1,وضو,3,وہابی,2,یزید لعنتی,14,یوسف کنجی,1,Requests,1,
rtl
item
شیعہ اہل حق ہیں: Nahjul Balagha Maktoob 6 sy jhooty istedaal ka jawab
Nahjul Balagha Maktoob 6 sy jhooty istedaal ka jawab
nasbio ko jawab , nasbio ki chitrol , nahjul balagha maktoob 6 ka jawab , nahjul balagha pr aetraaz ka jawab , kafir kafir shia kafir, kafir kon?,
شیعہ اہل حق ہیں
https://www.shiatiger.com/2014/03/nahjul-balagha-maktoob-6-sy-jhooty.html
https://www.shiatiger.com/
https://www.shiatiger.com/
https://www.shiatiger.com/2014/03/nahjul-balagha-maktoob-6-sy-jhooty.html
true
7953004830004174332
UTF-8
تمام تحریرں دیکھیں کسی تحریر میں موجود نہیں تمام دیکھیں مزید مطالعہ کریں تبصرہ لکھیں تبصرہ حذف کریں ڈیلیٹ By مرکزی صفحہ صفحات تحریریں تمام دیکھیں چند مزید تحریرں عنوان ARCHIVE تلاش کریں تمام تحریرں ایسی تحریر موجود نہیں ہے واپس مرکزی صفحہ پر جائیں Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS PREMIUM CONTENT IS LOCKED STEP 1: Share to a social network STEP 2: Click the link on your social network Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy Table of Content