خطبہ شقشقیہ کی صحت


اسلام علیکم

تحفہ یا علیؑ مدد۔۔

کچھ دنوں پہلے کی بات ہے کہ ظہیر صاحب نے شیعوں کو بالعموم اور بندہ احقر (خیر طلب) کو خصوصا چیلنج دیا کہ وہ نہج البلاغہ کے کسی ایک کلام کی بھی سند دیکھا دیں تو وہ شیعہ ہوجائینگے۔ (ادھر صحیح و ضعیف سند کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا)

بندہ احقر نے ایک گھنٹے کے اندر جواب دیا اور خطبہ شقشقیہ کی سند دیکھائی اور اس جلدی کی کاروائی کا یہ مقصد یہ تھا کہ واقعی اگر ظہیر صاحب اپنے چیلنج میں سنجیدہ ہیں تو وہ فی الفور شیعہ ہوجائیں، لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ ظہیر صاحب نے روایتی ہڈ دھرمی کو بروئے کار لاتے ہوئے شیعہ ہونے کے بجائے طاہر القادری صاحب کی ویڈیو لگا دی اور عنوان دیا :

خیر طلب یہ لے تیرے منہ پر زور کا تھپڑ۔۔



بہرحال ظرف ظرف کی بات ہے، ظہیر صاحب جن بزرگوں کو مانتے ہیں وہ رسولﷺ کی موجودگی میں گالیاں دے دیا کرتے تھے تو ایسی زبان کا استعمال ان سے بعید نہیں۔۔

بہرکیف پروفیسر طاہر القادری صاحب کی ویڈیو کا جواب دینے کا ہم نے تہیہ کیا تو ایک صاحب جو اپنے آپ کو Logical Opinion سے موسوم کرتے ہیں، انہوں نے بھی پروفیسر صاحب کی تقریر کو تحریری طور پر کرکے بندہ احقر (خاکسار) کو جواب دینے کی سعی کری ۔۔

بس یہ تحریر آنی تھی تو اس کا اثر یہ ہوا کہ سنی حضرات تو خوشیوں سے پھولے نہیں سما پارہے تھے۔ ظہیر صاحب تو سب سے زیادہ خوش تھے کیونکہ وہ سمجھے کہ اب اس کا جواب ممکن نہیں لیکن ہم کیا کریں ہم بھی باب علمؑ کے ماننے والے ہیں اور ایسی چیزوں کا جواب دینا کوئی ناممکن کام نہیں بلکہ انشاء اللہ آئندہ سطور میں قارئین حضرات اس کا فیصلہ خود کرلیں گے ۔۔

اس جواب میں اگر کہی غیر ایمانی کی وجہ سے کوئی سخت جملہ لگے تو اسکو درگذر فرمائیے گا۔۔


ہمارا جواب عمومی ہے


جی ہاں! اب ہم ایک ایسی چیز کی طر ف قارئین کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں جسکی طرف شاذ و نادر لوگوں نے ہی دیکھا ہو۔۔

یہ ویڈیو پروفیسر طاہر القادری صاحب کی ہے جو مسلک بریلوی سے تعلق رکھتے ہیں

اسکو upload کرنے والا ادارہ youtube پر HCY Global ہے جو سپاہ صحابہ یعنیٰ دیوبندی حضرات کا ہے۔

اس کو سب سے پہلے میرے جواب کے طور پر پیش کرنے والے ظہیر صاحب اہلحدیث ہے۔

جس channel پر یہ پروگرام نشر ہوتا ہے وہ Takbeer TV ہے جو طاہر القادری صاحب کو اتنی عزت کی نگاہوں سے نہیں دیکھتا، اسکی بین دلیل یہ ہے کہ اسکے channel کی زینت عرفان شاہ جیسے اوباش بندے ہیں جو پروفیسر صاحب کو بڑی اچھی اچھی گالیوں سے یاد کرتے ہیں جن کا تذکرہ بھی ہماری تحریر کے تقدس کو پامال کردے گا، لہذاء جسکو شوق ہو وہ youtube سے سن لے۔
لہذاء ادھر ہم نے دیکھا کہ وہی طاہر القادری جو سب سے بڑا مجرم تھا سب کیلئے شیعوں کے مقابلے میں ایک مضبوط ہتھیار ثابت ہوا ۔

یہی سے ہمیں (شیعوں) کو بھی سبق لینا چاہئے کہ اختلاف کو پس پشت رکھتے ہوئے حق کے دفاع میں ایک دوسرے کی کمر کو مضبوط کریں۔۔

بہرحال چونکہ logical Opinion صاحب نے طاہر القادری صاحب کی ویڈیو کو تحریر کیا لہذاء ہمارے جواب میں یہ دونوں حضرات مخاطب ہونگے۔

خطبہ شقشقیہ کی معتبر سند

شیخ صدوق نقل کرتے ہیں:

حدثنا محمد ابن علی ماجیلویہ، عن عمہ محمد ابن ابی قاسم، عن احمد ابن محمد ابن ابی عبداللہ البرقی، عن ابیہ، عن ابن ابی عمیر، عن ابان ابن عثمان ، عن ابان ابن تغلب عن عکرمہ عن ابن عباس۔۔۔الخ
حوالہ: علل الشرائع، جلد ۱، صفحہ ۱۵۰، باب ۲۲، ح ۱۲، طبع نجف، ۱۳۸۵ ہجری۔

اب ہم راویان حدیث پر بحث کرتے ہیں۔۔۔۔

۱، محمد ابن علی ماجیلویہ

طاہر القادری نے صرف اس راوی پر تنقید کری اس روایت کی ذیل میں اور اسے ضعیف (جب کہ یہ راوی ضعیف نہیں مجہول ہے آیت اللہ خوئی کے نزدیک) کہا بحوالہ معجم رجال الحدیث۔۔ چنانچہ ہمارا اس راوی پر ذرا طویل کلام ہوگا۔

اس کیلئے ہمارا جواب یہ ہے کہ علم جراح و تعدیل متاخرین کیلئے اجتہاد ہے اور متقدمین کیلئے حسی علم ہے ۔۔

آیت اللہ خوئی ؒ (متاخر) کا یہ اجتہاد قابل قدر اور نہایت احترام کا حامل ہے لیکن اکثر علماء ان سے اس مؤقف میں متفق نہیں ہے بلکہ بہت سارے علماء نے اس راوی کی تعدیل کری، اب ہم بالجملہ ان علماء اعلام کو نقل کرتے ہیں جنہوں نے اس راوی کی تعدیل کری جبکہ یہ علماء کسی طریقے سے بھی آیت اللہ خوئی ؒ سے کم نہیں تھا اس علم میں۔۔
شیخ صدوق (۱) نے ان کے ساتھ رضی اللہ عنہ جیسے الفاظ استعمال کیا۔

نمونے کے طور پر ہم چند مقامات کی نشاندہی شیخ صدوقؒ کی کتاب الخصال سے کردیتے ہیں:

۱، الخصال، جلد ۱، صفحہ ۱۰، باب خصلتہ من المروتہ، ح ۳۴۔
۲، الخصال، جلد ۱، صفحہ ۱۱، باب خصلتہ من احتملھا لم یشکر نعمتہ ،ح ۳۷۔


علامہ آردبیلیؒ (۲) نے اس راوی کے بارے میں لکھا:

محمد بن علی بن ماجیلویہ القمی روی عنہ محمد بن علی بن الحسین بن بابویہ (لم) و یفھم من العلامتہ توثیقہ اذ صح طریق الصدوق الی اسماعیل بن رباح و ھو فیہ و کذلک طریق الحسین بن زید و غیر ذلک

محمد ابن علی ابن ماجیلویہ القمی جن سے محمد بن علی بن الحسین بن بابویہ نے روایت کری، علامہ (حلی) کے قول سے پتا چلتا ہے کہ یہ ثقہ تھے جبکہ علامہ حلی نے شیخ صدوق سے لے کر اسماعیل تک کی سند کو صحیح کہا جس میں محمد ابن علی ابن ماجیلویہ القمی موجود تھے، اسی طرح حسین بن زید اور ان کے علاوہ تک کی سند کو صحیح کہا جس میں محمد ابن علی ابن ماجیلویہ القمی موجود تھے۔

حوالہ: جامع الرواتہ، جلد ۲، صفحہ ۱۵۷، باب المیم ، بعدہ الحاء، طبع قم ، ایران۔

علامہ مجلسیؒ (۳)نے اس راوی کے بارے میں لکھا:

محمد ابن علی ماجیلویہ القمی ، کثیرا ما یقول الصدوق رضی اللہ عنہ، و حکم العلامتہ بصحتہ حدیث ھو ا فیہ۔

محمد ابن علی ابن ماجیلویہ القمی جن کے بارے میں شیخ صدوقؒ نے کثرت سے لکھا ہے رضی اللہ عنہ، اور علامہ حلیؒ نے ایک روایت کو صحیح کہا جسمیں (سند) یہ موجود تھے۔

حوالہ: الوجیزتہ فی علم الرجال، صفحہ ۳۱، رقم ۱۷۴۰، مؤسستہ الاعلمی للمطبوعات، بیروت ، لبنان۔

نوٹ: ان دو علماء کی تصریحات سے پتا چلتا ہے کہ علامہ حلیؒ (۴) کی نزدیک بھی یہ راوی ثقہ ہے۔

شیخ علی النمازی الشاہرودی (۵) لکھتے ہیں اس کے بارے میں:

ثقہ علی الاقوی۔

زیادہ قوی قول کی بنا پر یہ ثقہ ہے۔

حوالہ: مستدرکات علم رجال الحدیث، جلد ۷، صفحہ ۱۴۶، رقم ۱۴۰۵۳، طبع حیدری، طہران، محرم الحرام ۱۴۱۵ ہجری، طبع اول۔

علامہ عبداللہ مقانی(۶) فرماتے ہیں:

محمد بن علی بن محمد بن ابی قاسم ماجیلویہ ثقتہ علی الاقرب

(تحقیق کے بعد ) زیادہ قریب یہی ہے کہ محمد بن علی بن محمد بن ابی قاسم ماجیلویہ ثقہ ہے۔
حوالہ: نتائج التنقیح، جلد ۱، صفحہ ۱۴۲، طبع حیدریہ۔

علامہ علی خاقانی (۷) لکھتے ہیں کہ اس راوی کی صریح تعدیل نہیں لیکن پھر ایک فیصلہ کن قول لکھتے ہیں:

وانما استفید توثیقہ من امارات آخر کاستظھار کونہ من مشائخ الصدوق رحمتہ اللہ علیہ لکثرتہ روایتہ عنہ مترضیا عنہ و مترحما علیہ الی غیر ذلک من الموارد التی یستفاد منھا حسن الحال ۔۔الخ

محمد ابن علی ماجیلویہ کی توثیق کا استنباط اس طرح سے بھی ہوسکتا ہے کہ آپ شیخ صدوقؒ کے استادوں میں سے تھے۔ شیخ صدوق ؒ نے بہت سارے مقامات پر روایت لینے میں آپ کے ساتھ رضی اللہ عنہ اور رحمتہ اللہ علیہ جیسے الفاظ استعمال کریں جو اس بات کی بین دلیل ہے کہ آپ کا حال اچھا تھا۔۔الخ

حوالہ: رجال خاقانی، صفحہ ۱۸۳۔

علامہ آسترابادی (۸) نے اس راوی کو ثقہ لکھا۔
حوالہ: الوسیط، صفحہ ۲۹۲، باب الکنی و لالقاب بعنوان ماجیلویہ بحوالہ نقد الرجال ، جلد ۵، صفحہ ۴۰۲، حاشیہ ۶، ناشر مؤسستہ ال بیت علیھم السلام لاحیاء التراث، شوال ۱۴۱۸ ہجری، قم، ایران۔

اس طرح ہم نے ۸ علماء کی تعدیل دکھائی جس کا مقصد یہ تھا کہ طاھر القادری صاحب اور Logical Opinion نے صرف اس راوی پر اعتراض کرا تھا، جہاں تک بات ہے آیت اللہ خوئی ؒ کے مجہول کہنے کا تو اس کا جواب ہم اوپر دے چکے ہیں۔۔۔(طاہر القادری صاحب نے کہا کہ آیت اللہ خوئیؒ نے اس راوی کو ضعیف کہا ، اس کا پول ہم انشاء اللہ آخر میں کھولیں گے)

اگر پھر بھی اطمینان نہ ہو تو الزامی طور پر ہم کہتے ہیں کہ علامہ ابومحمد بن حزم آپ کے صحاح ستہ کی ایک کتاب کے مؤلف کو مجہول کہتے ہیں یعنیٰ ابوعیسیٰ ترمذی کو تو کیا سنیوں میں اتنی جرأت ہے کہ ترمذی کو مجہول کہیں؛؛؛ جو جواب ادھر ہوگا وہی ہمارا سمجھیں (البدایہ و النھایہ جلد ۱۴، صفحہ ۶۴۷-۶۴۸، طبع ھجر، ۱۴۱۹ ہجری)


۲، محمد بن ابی قاسم

یہ راوی نہایت ہی ثقہ ہے جنکی توثیق مسلم ہے لیکن ہم علامہ حرعاملی ؒ کی توثیق کو نقل کردیتے ہیں:

محمد بن عبداللہ ماجیلویہ ھوا ابن ابی قاسم تقدم توثیقہ۔

محمد ابن ابی عبداللہ ابو قاسم ثقہ ہے جنکی ثقاہت کا تذکرہ ہم پہلے کرچکے ہیں۔

حوالہ: وسائل الشیعہ، جلد ۲۰، صفحہ ۲۳۶، راوی ۱۰۷۷، طبع مؤسستہ الاعلمی للمطبوعات۔


۳، احمد بن ابی عبداللہ البرقی

یہ بھی ثقہ ہے۔

حوالہ:جامع الرواتہ، جلد ۱، صفحہ ۶۳، باب الالف بعدہ الحاء، طبع قم۔

۴، محمد بن خالد البرقی

یہ بھی ثقہ ہے۔

حوالہ:جامع الرواتہ، جلد ۲، صفحہ ۱۰۸، باب المیم بعدہ الحاء، طبع قم

۵، محمد بن ابی عمیر

یہ نہایت ہی ثقہ تھے، اور تعریف سے غنی تھے۔

حوالہ: جامع رواتہ، جلد۲، صفحہ ۵۰، باب المیم بعدہ الحاء، طبع قم۔

۶، ابان بن عثمان

یہ بھی تعریف سے غنی ہے، انکی تعریف دیکھنی ہو تو علامہ آردبیلی کی کتاب دیکھیں ، المختصر یہ کہ یہ ثقہ تھے۔(عکرمہ کے ذیل میں انکی تعریف دیکھیں)

حوالہ: جامع رواتہ، جلد ۱، صفحہ ۱۲، باب الالف بعدہ الباء، طبع قم۔
۷، ابان بن تغلب:

انکی عظیم منزلت تھی اور نہایت ثقہ تھے۔

حوالہ: جامع رواتہ، جلد ۱، صفحہ ۹، باب الالف بعدہ الباء، طبع قم۔

۸، عکرمہ

اگرچہ ہمارے علماء نے اس راوی کی تضعیف کری ہے لیکن اس کی وجہ (مفسر) اس کا خارجی ہونا اور اپنے عقیدے کے موافق روایات کا وضع کرنا ہے جو ایک مذموم عمل تھا

لیکن یہ روایت (خطبہ شقشقیہ ) اس کے عقیدے کے عین خلاف ہے لہذاء اس کا خطبہ شقشقیہ کو وضع کرنا ایک بالکل غیر منطق بات ہے ۔

لہذاء یہ روایت قابل قبول ہے، البتہ ہر چیز دلیل کی محتاج ہے، چنانچہ اس بارے میں ہم ایک عبارت نقل کرینگے جس کے بعد یہ ابھام بھی رفع ہوجائے گا۔۔

چنانچہ شیخ الکشی فرماتے ہیں:

اجمت العصابتہ علی تصحیح ما یصح عن ھؤلاء و تصدیقھم لما یقولون و اقروا لھم بالفقہ من دون اولئک الستتہ الذین عددنا ہم و سمیناھم ستتہ نفر جمیل بن دراج، و عبداللہ بن مسکان ، و عبداللہ بن بکیر ، و حماد بن عثمان، و حماد بن عیسیٰ ، و ابان بن عثمان۔۔الخ

(عبارت کا مفہوم) اس بات پر اجماع ہے کہ ۶ نفر یعنی جمیل بن دراج، عبداللہ بن مسکان ، عبداللہ بن بکیر ، حماد بن عثمان، حماد ابن عیسیٰ اور ابان بن عثمان جس چیز کو صحیح کہ دیں وہ صحیح ہے۔۔۔(ادھر ہم نے صرف عبارت کا مفہوم لکھا ہے ترجمہ نہیں)۔

حوالہ: رجال الکشی، صفحہ ۳۲۲، طبع مؤسستہ الاعلمی للمطبوعات، کربلا، عراق۔

اگر اس روایت کے رجال پر نظر ڈالیں تو اس میں ابان بن عثمان بھی ہے یعنیٰ انکے نزدیک یہ روایت صحیح ہوگی جب انہوں نے اسے نقل کرا اور جب یہ انکے نزدیک تو صحیح ہے پس یہ رجال کشی کی عبارت کی روشنی میں بھی بالکل صحیح ہے۔
اسکے علاوہ قطب الدین راوندی نے شرح نہج البلاغہ، جلد ۱، صفحہ ۱۳۲ میں ایک سند نقل کری جسمیں عطاء بن ابی رباح نے ابن عباس سے نقل کرا۔

سید بن طاؤوس نے الطرائف صفحہ ۴۲۰ میں جو سند نقل کری اس میں سلیمان نے ابن عباس سے روایت کر رہے ہیں۔

شیخ طوسیؒ نے الامالی، صفحہ ۳۷۲ میں جو سند نقل کری ہے اس میں امام باقرؑ نے ابن عباس ؒ سے روایت کی ہے۔

چنانچہ ہم نے ۳ متابعت بھی دیکھا دی ابن عباس ؒ سے اور عکرمہ اس میں منفرد نہیں لہذاء عکرمہ کی تضعیف کا احتمال بھی رفع ہوجاتا ہے

۹، عبداللہ بن عباسؓ

انکی جلالت تو شیعوں پر مسلم ہے اور تمام شیعہ علمائے رجال نے انکی جلالت کا اعتراف کیا ہے، یہ تعریف سے غنی ہے لیکن ہم علامہ آردبیلیؒ کا ایک فیصلہ کن قول ضرور نقل کرینگے:

عبداللہ بن عباس کان محبا لعلی علیہ السلام ھو تلامیذہ و حالہ فی الجلالتہ و الاخلاص لامیرالمؤمنین اشھر من ان یخفی و قد ذکر الکشی احادیث تضمن قدحا فیہ و ھو اجل من ذلک ما ذکرہ الکشی من الطعن فیہ خمستہ احادیث کلھا ضعیف السند۔۔الخ

عبداللہ ابن عباس مولا علی علیہ السلام کے چاہنے والوں میں سے تھے، ابن عباس مولاؑ کے شاگرد تھے، انکے مشہور حالات جو چھپے ہوئے نہیں کو دیکھتے ہوئے انکی جلالت اور اخلاص کو دیکھا جاسکتا ہے، اور شیخ کشی نے کچھ روایات ان کی مذمت میں بیان کی ہیں لیکن ابن عباسؒ بلاشبہ اس سے بالاتر ہے، اور شیخ کشی نے جو ۵ روایات انکی مذمت میں بیان کی ہے وہ تمام کی تمام ضعیف سے سند کے اعتبار سے۔

حوالہ: جامع الرواتہ، جلد ۱، صفحہ ۴۹۴، باب العین بعدہ الباء، طبع قم۔


حرف آخر: لہذاء یہ سند الحمدللہ معتبر ثابت ہوئی اور دوسری اسناد کا خفیف سا ضعف اس صحیح خطبہ کو اور قوی کرے گا لہذاء ماشاء اللہ سے شیعوں کا مدعا ثابت ہوا۔

طاہر القادری صاحب کی علمی یتیمی پر ہمارا تبصرہ

طاہر القادری اور Logical Opinion صاحب بڑے خوش ہوئے یہ دیکھ کر کہ اس کے تواتر کا انکار کیا گیا، تو ان کو شاید یہ بھی نہیں معلوم کہ تواتر کا انکار اور ہے اور روایت کا انکار کچھ اور معنیٰ رکھتا ہے۔

اگرچہ بعض علماء نے فقط تواتر کا انکار کیا لیکن اس کے وقوع کا نہیں ، دونوں میں بہت فرق ہے۔

اگر اب بھی بات سمجھ نہ آئی تو ہم چیلنج دیتے ہیں کہ اہلسنت اپنی اصول اور عقائد کی کتب شیخین کی خلافت پر یہ دلیل دیتے ہیں:

اقتدو بالذین من بعدی ابوبکر و عمر

میرے بعد ان دو لوگوں کی اقتداء کرنا یعنیٰ ابوبکر اور عمر کی۔

ہم چیلنج کرتے ہیں کہ جس حدیث پر آپ اپنے عقیدے کی بنیاد رکھتے ہیں اس کو متواتر ثابت کریں۔۔چلے ایک ہاتھ اور بڑھتے ہیں، اسکی صحت ہی ثابت کردیں۔۔۔چیلنج

جیسا ہمیں شقشقیہ پر چیلنج دیا ہے ہم آپ کو اس حدیث کی صحت کا چیلنج دیتے ہیں۔

یاد رکھئے کہ کہ اس خطبہ کی توثیق خود علامہ بحرانی ؒ نے کری جب وہ لکھتے ہیں:

ان المنافستہ کانت ثابتہ بین علی علیہ السلام و بین من تولی امر الخلافتہ فی زمانہ و الشاکایتہ و التظلم الصادر عنہ فی ذلک امر معلوم بالتواتر المعنوی فانا نعلم بالضرورتہ ان الفاظ المنقولتہ عنہ المتضمنتہ للتظلم و الشکایتہ فی امر خلافتہ قد بلغت فی الکثرتہ و الشھیرتہ بحیث لایکون باسرھا کذبا

بے شک حضرت علی علیہ السلام اور خلافت کو پسند کرنے والے اشخاص (ثلاثہ) کے درمیان مخالفت تھی اس زمانے میں، اور مولا علیؑ کی شکایات اور خلفاء (ثلاثہ) کے ظلم کی داستانیں سنانا ایک ایسی بدیہی امر ہے جو معنوی لحاظ سے بالکل متواتر ہے ، اور مولا علیؑ سے ایسے شکایاتی اور مظلوموں والی داستانیں خلافت کے حوالے سے اتنی کثرت سے وارد ہوئی ہیں اور اتنی مشہور ہیں کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ یہ جھوٹ ہو۔

حوالہ: شرح نہج البلاغہ، جلد ۱، صفحہ ۲۵۲-۲۵۳۔

اس کے بعد علامہ ابن میثم بحرانی ؒ نے اتنے دلائل دئیے ہیں اس خطبے کے ذیل میں جسکو طاہر القادری اور Logical Opinion صاحب نے نقل ہی نہیں کرا

تبصرہ: طاھر القادری صاحب اور Logical Opinion صاحب نے یہ تو نقل کردیا کہ علامہ بحرانی ؒ اس کے تواتر لفظی کے منکر تھے لیکن یہ نقل نہیں کرا کہ وہ تواتر معنوی کے قائل تھے۔۔

امید ہے کہ لفظی اور معنوی کی منطق کو دونوں حضرات سمجھتے ہونگے۔


اسکے بعد طاھر القادری صاحب نے شرح نہج البلاغہ کا حوالہ نقل کرا جبکہ یہ ذہن میں رہے کہ اسکے مؤلف معتزلی ہے ۔

قاضی نور اللہ شوستریؒ اپنی مشہور کتاب میں لکھتے ہیں:

وکذلک من فریقتہ المعتزلہ منھم عبدالحمدید ابن ابی حدید۔۔۔الخ
اسی طرح معتزلی مسلک میں سے عبدالحمدید ابن ابی حدید ۔۔۔الخ

حوالہ: الصوارم المھرقتہ فی جواب صواعق المحرقتہ، صفحہ ۴۳، طبع چاپخانہ، نھضت، طہران
اسکے علاوہ ابن ابی حدید نے بذات خود اپنی شرح نہج البلاغہ میں بہت ساری جگہ شیعوں سے اپنے آپ کو لاتعلق ظاہر کیا ہے۔۔

ابن ابی حدید شیعہ نہیں ہے لہذاء یہ باتیں ہم پر حجت نہیں ہے ۔

البتہ ادھر بھی بات نقل کرنے میں جو تدلیس سے کام لیا گیا ہے وہ مخفی نہیں۔

ہم چاہیں گے کہ ابن ابی حدید کی شرح کے چند اقتباس کو حاضر خدمت کریں۔

(ہم لفظی ترجمہ نہیں کرینگے بلکہ اصل مضمون کو بتائینگے) ابن ابی حدید کے استاد ابوالخیر مصدق بن شیب الواسطی ۶۰۳ ہجری میں اپنے استاد ابن خشاب کے پاس یہ خطبہ پڑھتے ہیں تو جب پرھ لیتے ہیں تو مصدق سوال کرتے ہیں کہ اے ابن خشاب کیا یہ خطبہ حضرت علیؓ سے صحیح منسوب ہے؛ ابن خشاب جواب دیتے ہیں اللہ کی قسم جتنا مجھے یقین ہے کہ تم مصدق ہو اتنا ہی مجھے یقین ہے کہ یہ کلام حضرت علیؓ کا ہے۔ مصدق کہتے ہیں کہ بہت سارے لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ خطبہ سید رضی نے گڑھا۔ ابن خشاب جواب دیتے ہیں کہ سید رضی ہو یا کوئی اور انکے پاس ایسا اسلوب کہا جو اسمیں ہے۔ ابن خشاب فرماتے ہیں کہ میں نے سید رضی کی تالیفات اور رسائل دیکھیں ہیں ، انکی علمی بساعت اتنی نہیں کہ وہ ایسا خطبہ بھی بنا سکیں۔ ابن خشاب آگے فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم یہ خطبہ ایسی کتب میں ہیں جنکا وجود سید رضی کی پیدائش سے پہلے کا ہیں۔

ابن ابی حدید فرماتے ہیں: میں نے یہ خطبہ بہت ساری جگہ دیکھا ہیں اپنے استاد ابوالقاسم بلخی کی کتب میں جو بغداد میں معتزلیوں کے امام تھے، اور یہ اس زمانے کی بات ہے جب سید رضیؒ پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔۔۔الخ

حوالہ: شرح نہج البلاغہ، جلد ۱، صفحہ ۱۳۲، تحقیق محمد ابراہیم۔

تبصرہ: یہ رہی پوری عبارت جسکو طاہر القادری صاحب کھا گئے ۔


آخر کب تک جھوٹ سے کام لینگے۔۔
اہلسنت علماء جنہوں نے اس خطبہ کو نقل کرا

طاہر القادری صاحب نے (Part 171) کے 1:55 پر فرمایا:

اہلسنت تو سرے سے انکار کرتے ہیں کہ یہ مولا علی شیر خدا کا کلام ہی نہیں۔

شریف رضی جیسے جلیل بندوں پر اعتراض کرنے سے پہلے اگر اپنی کتابیں دیکھ لی ہوتی تو اتنی شرم نہیں اٹھانی پڑھتی۔۔

ذیل میں ہم چند علمائے اہلسنت کے نام پیش کر رہے ہیں جنہوں نے اس نقل کرا:

۱، فیروز آبادی نے القاموس المحیط، صفحہ ۸۹۸، مؤسستہ الرسالتہ، بیروت، لبنان۔

۲، ابن اثیر نے النھایہ فی غریب الحدیث والاثر، صفحہ ۸۸۱، دار المعرفتہ، بیروت، لبنان

۳، ابن منظور نے لسان العرب، صفحہ ۲۳۰۳، دار المعارف۔

۴، سبط بن جوزی نے تذکرہ الخواص، صفحہ ۱۷۲۔

۵، شیخ محمد عبدہ نے شرح نہج البلاغہ، جلد ۱، صفحہ ۲۰، دار المعرفتہ، بیروت، لبنان۔

امید ہے کچھ عقل میں بات آئی ہوگی۔۔

اسکے علاوہ اور بھی معتزلی اور اہلسنت علماء ہیں جنکے حوالے نقل کرے جاسکتے ہیں لیکن اختصار کے پیش نظر ہم نہیں کر رہے ہیں۔۔

مزید حوالے جات کیلئے علامہ آمینی کی الغدیر جلد ۷، صفحہ ۸۲-۸۵، دار الکتاب العربی ، بیروت، لبنان جنہوں نے ۲۸ حوالاجات دئیے ہیں علامہ مجلسیؒ کی بحار الانوار جلد ۲۹، اور مختلف کتب شیعہ اس موضوع پر پڑھی جاسکتی ہے


نہج البلاغہ کی عظمت

یہ آج کل کے مولوی حضرات کیا اس کتاب کی عظمت کو کم کرینگے۔ ایک دو کتابیں پڑھ لینے سے کوئی مناظر نہیں ہوجاتا طاہر القادری صاحب اور Logical Opinion صاحب آپ کیلئے تو ایک خاص نصحیت ہے کہ کچھ ہماری کتب کی ورق گردانی کرلیا کریں اور اسکے بعد پھر تحریر لکھا کریں۔۔

تفتازانی کی کتاب نہج البلاغہ کی عظمت کے بارے میں یوں کہتی ہے:

وایضا ہوا افصحم لسانا علی ما یشھد بہ کتاب نھج البلاغتہ

اور اسی طرح حضرت علیؓ کی زبان سب سے زیادہ فصیح تھی، جس پر نہج البلاغہ دال ہے۔

حوالہ: شرح مقاصد، جلد ۳، صفحہ ۵۲۶، دارالکتب العلمیہ ، بیروت، لبنان۔

مزے کی بات یہ ہے طاہر القادری صاحب نہج البلاغہ کی عظمت کے معترف تھے ماضی میں اور ہماری پاس یہ ویڈیو موجود ہے لیکن واہ رے منافقت اب شیعوں کے مقابلے میں نہج البلاغہ بھی جھوٹی ہوگئی۔۔(ذیل میں اس ویڈیو کا لنک ہے)

سارا مسئلہ یہ ہے ان کے بزرگ تو کبھی ایسا کلام نہیں کر پائے تو انہوں نے اپنے بزرگوں کے مکائد کو چھپانے کیلئے مولا علیؑ کے کلام میں شک پیدا کرنے لگ گئے۔۔ لیکن یہ شک تار عنکبوت سے زیادہ نہیں۔۔

Logical Opinion صاحب کے ۳ سوالات کے جوابات

سوال ا، خطبہ شقشقیہ کی صحیح سند دیکھائیں حضرت علیؓ سے رضی تک
(From Ali (r.a) to Razi) جسمیں انقطاع نہ ہو ۳۰۰ سال تک۔

جواب: یہ سوال Logical Opinion صاحب کی بدحواسی اور جھل کو بتا رہا ہے، سب سے پہلے تو سند شروع (from) رضیؒ سے ہوتی ہے اور اختتام (to) حضرت علیؑ پر ہوتی ہے لہذاء صحیح سوال یہ ہے (From Razi to Ali (r.a)) ۔ آئندہ سوال کرنے سے پہلے سوچئے گا کہ کیا سوال کرنا ہے۔

دوسری بات ہے کہ ہم نے علل شرائع سے ثابت کیا ہے کہ یہ خطبہ معتبر سند سے وارد ہوا ہے اور شیخ صدوق ؒ شریف رضیؒ سے پہلے کے عالم تھے لہذاء سید رضیؒ کو بلاشبہ یہ بھی ماخذ رہا ہو۔۔

سوال ۲: اگر یہ خطبہ معتبر ہے تو نہج البلاغہ ایسے خطبات سے مملو ہونی چاہئے تھی، لیکن اس خطبہ کے علاوہ کوئی ایسا خطبہ نہیں جس میں ثلاثہ کی برائی ہو۔

جواب: سوال کرنے کا ڈھنگ تو سیکھئے ، اگر بالفرض مان بھی لیا جائے کہ شقشقیہ معتبر السند نہیں تو کیا اس سے دوسرے خطبات جسمیں ثلاثہ کی قدح ہے وہ عدم ہوجاتے ہیں؛؛؛

دوسری بات یہ ہے کہ نہج البلاغہ میں ایسے خطبات ہیں لیکن آپ کی آنکھوں نے نہیں دیکھا تو اسمیں ہمارا کوئی قصور نہیں۔۔(نمونے کے طور پر نہج البلاغہ، خطبہ ۶۷ دیکھیں جسمیں خلافت کی غصب کا تذکرہ ہے)

چلیں آپ کے علم اسماء الرجال کے عالم ، ذہبی سے سن لیتے ہیں اس سوال کا جواب:

ففیہ السب الصراح و الحط علی سیدین ابی بکر و عمر رضی اللہ عنھما ۔۔الخ
اس (نہج البلاغہ) میں صریح گالیاں ہیں اور طعن ہیں سید ابوبکر اور سید عمر پر ۔ اللہ ان دونوں سے راضی رہے۔

حوالہ: میزان الاعتدال، جلد ۵، صفحہ ۱۵۲، دارالکتب العلمیہ، بیروت، لبنان۔

تبصرہ: کیا فرمائینگے اہلسنت؛؛ صاف لکھا ہوا کہ نہج البلاغہ (عمومی طور پر) شیخین کے خلاف کلام سے مملو ہے۔۔

اب تو گھر سے شہادت مل گئی تو کیا اب بھی جواب نہیں ملا؛؛؛


سوال ۳: اس طعن کا جواب دیں کہ نہج البلاغہ بے سند ہے۔

جواب: نہج البلاغہ کے اندر جتنے خطبات ہیں وہ تمام کے تمام ماخذ ہیں دوسری بنیادی کتب کے۔۔

ہم پورے وثوق کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہم نہج البلاغہ کے سارے کلام کے تمام ماخذ دیکھا سکتے ہیں۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے۔

نہج البلاغہ کے تمام خطبات دوسری بنیادی کتب سے اخذ ہیں لہذاء سند کا دیکھانا چہ معنیٰ دارد؛؛

یہ سائل کی جھل پر غمازی کرتا ہے۔۔


طاہر القادری صاحب اور Logical Opinion کے صریح جھوٹ

جھوٹ ۱

طاہر القادری صاحب فرماتے ہیں(Part 172) 3:40 اور 6:45 پر فرماتے ہیں

محمد بن علی بن ماجیلویہ پہلا راوی تھا، اس نے روایت کیا تھا حسن بن علی زعفرانی سے۔۔
یہ بہت ہی قبیح جھوٹ ہے، ہم چیلنج کرتے ہیں طاہر القادری اور ان کے محبین سے گذارش ہے کہ یہ ثابت کریں۔

جبکہ اصل حقیقت یہ ہے محمد بن علی بن ماجیلویہ نے اپنے چچا محمد بن ابی قاسم سے روایت کی ہے (علل شرائع، جلد ۱، صفحہ ۱۵۰)

جبکہ حسن بن علی زعفرانی راوی بالکل الگ سند میں ہے جسکو علامہ سید بن طاوؤس نے الطرائف، صفحہ ۴۲۰ میں نقل کرا جسمیں محمد بن علی بن ماجیلویہ کا وجود ہی نہیں

جھوٹ ۲

طاہر القادری صاحب 4:45(Part 172) پر فرماتے ہیں:

محمد بن علی جو پہلے راوی تھے، انکو شیخ صدوق جنکا حوالہ میں دے چکا ہوں، جو تیسری چوتھی صدی کے عالم ہے۔۔۔، انکی کتاب علل شرائع، جلد ۱، صفحہ ۱۵۰۔۔میں بیان کرتے ہیں لایوجد لہ توثیق وہ کہتے ہیں کہ میں نے کل کتابیں چھان کر دیکھلی ہے، ۔۔۔الخ

یہ ہے سنیوں کے شیخ الاسلام جنہوں نے اصلی کتاب بھی نہیں دیکھی بلکہ کچھ کرائے کے مولویوں کو لے کر ان سے تحقیق کراکر اپنی کرکے پیش کرتے ہیں۔۔ یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی بھی اصلی کتاب تو دیکھے گا نہیں تو جتنا جھوٹ بولنا ہے بول دو۔

میرا چیلنج ہے کہ اگر اس کتاب کے اس صفحے میں یہ عبارت دیکھا دیں یا شیخ صدوقؒ کا یہ قول پوری علل شرائع سے اس مفہوم کے ساتھ دیکھا دیں تو میں سنی ہوجاؤں گا۔ جھوٹ نہیں کہا کرو۔۔

جھوٹ ۳

طاہر القادری صاحب فرماتے (Part 172) کے 5:27 پر فرماتے ہیں:

مجھے محمد بن علی بن بابویہ کوئی ثقہ ہونے کی خبر کہی سے نہیں ہے۔

اللہ اکبر!! جھوٹ جھوٹ جھوٹ

محمد بن علی بن بابویہ شیخ صدوق بذات خود تھے۔
اب بھلا بتائیے کہ کوئی مؤلف کیسے لکھ سکتا ہے کہ اسکی توثیق نہیں۔۔

یہ عبارت دیکھانا ضروری ہے طاہر القادری اور انکے چاہنے والوں پر۔

جھوٹ ۴

طاہر القادری صاحب (Part 172) فرماتے ہیں:

شیعہ اسماء الرجال کی کتاب، شیخ صدوق کی، علل شرائع، جلد ۱ول، صفحہ ۱۵۰۔۔الخ

یہ ایک اور جھوٹ ہے ، طاہر القادری ثابت کریں کہ شیعوں کی یہ اسماء الرجال کی کتاب ہے۔۔ یہ انکی جہالت اور حماقت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

سنئے علل شرائع ہماری حدیث کی کتاب ہے، اسماء الرجال کی نہیں۔۔

ورنہ کم سے کم ۵ شیعہ علمائے رجال کی تصریح دیکھائیں ۔۔۔


جھوٹ ۵

طاہر القادری صاحب (Part 172) کے 6:00 میں فرماتے ہیں:

دوسرے بہت بڑے عالم الحاج میرزا ابراہیم الخوئی ، شیعہ اسماء الرجال کے عالم ہے، انکی کتاب ہے معجم رجال الحدیث۔۔۔الخ

یہ ایک اور اعجازی جھوٹ ہے اور مرزا قادیانی کے جھوٹ سے بہت بہت ملتا ہے ۔

صاحب معجم رجال الحدیث اپنے آپ کو ابوالقاسم سے موسوم کرتے تھے۔ شرم تم کو مگر نہیں آتی۔)ہم ایک خط کو نقل کرینگے جو معجم کے شروع میں ہے جسمیں انہوں نے اپنے آپ کو ابوالقاسم کہا)


جھوٹ ۶

طاہر القادری صاحب فرماتے (Part 172) کے 6:17 میں فرماتے ہیں:
میرزا ابراہیم الخوئی کہتے ہیں کہ یہ جو محمد بن علی نامی شخص ہے ضعیف تھا۔
یہ تو کھلا افتراء ہے، طاہر القادی اور ان کی چاہنے والوں پر واجب ہے کہ یہ مفروضہ ثابت کریں۔

آیت اللہ خوئی ؒ نے اس کے ترجمے میں کبھی ضعیف نہیں کہا ۔ جس کو پورا ترجمہ اس راوی کا پڑھنا ہو وہ معجم رجال الحدیث، جلد ۱۸، صفحہ ۵۸-۵۹، راوی ۱۱۴۲۹، طبع
۱۴۱۳ ہجری۔

ہمارا چیلنج ہے کہ طاہر القادری اینڈ پارٹی اس کو ثابت کرے

جھوٹ ۷

Logical Opinion اور طاہر القادری (Part 171) کے 0:35 فرماتے ہیں :

ٓAllama Ibn e Maisham alBahrani (wrote 40 Jilds in 7th century)

یہ اتنا بڑا جھوٹ ہے جسکی مثال نہیں، کیا آپ ثابت کرسکتے ہیں کہ علامہ بحرانی ؒ
نے ۴۰ جلدوں پر شرح لکھی؛؛؛ ثابت کریں۔
جھوٹ ۸

طاہر القادری (Part 173) کے 0:48 فرماتے ہیں:

کام انکا تھا سندیں پیش کریں مگر فریضہ ہم ادا کر رہے ہیں

پروفیسر صاحب آپ کیوں اتنا غلط فہمی میں رہتے ہیں، یہ آپ کا سفید جھوٹ ہے کہ سند آپ جمع کر رہے ہیں نہج البلاغہ کی ۔

اگر آپ نہج البلاغہ کی شرح ہی پڑھ لیں تو ایسا نہ کہتے۔

آپ مزعوم شیخ الاسلام ہوکر بھی نہیں جانتے، میں آپ کو کتاب کا نام بتاتا ہوں جسمیں نہج البلاغہ کے مصادر موجود ہیں۔

اس کتاب کا نام مصادر نھج البلاغتہ و اسانیدہ از سید عبدالزھرا ء الحسینی ہے۔


جھوٹ ۹

طاہر القادری (Part 173) کے 1:24 فرماتے ہیں:

الخوئی نے انکو ضعیف قرار دیا ہے، معجم رجال الحدیث ، جلد ۴، صفحہ ۷۲، ترجمہ ھلال الحفار کا، ترجمہ کا نمبر ہے ، ۱۳۹۶، تو علامہ الخوئی نے کہا یہ ضعیف بھی ہے۔

جھوٹ کے تمام ریکارڈ شاید توڑنے کا ارادہ ہے طاہر القادری صاحب کا۔

سب سے پہلے یہاں ترجمہ ھلال الحفار کا نہیں اسماعیل بن علی بن علی بن رزین کا ہے ۔

دوسری بات یہ ہے کہ آیت اللہ خوئیؒ نے ایک طریق کو ھلال حفار کی وجہ سے ضعیف کہا کیونکہ ھلال مجہول ہے نہ کہ ھلال کو ضعیف کہا۔

یاد رہے ضعیف اور مجہول میں فرق ہوتا ہے۔


جھوٹ۱۰
طاہر القادری (Part 173) کے 3:26 فرماتے ہیں:

حافظ یحیٰ بن عبدالحمید الحمانی ، ۲۲۸ میں وفات ہوئی ، انکی طرف سے ثابت ہوا، انہوں نے کہا۔۔۔انہوں نے روایت کردیا عبداللہ ابن عباس سے، بس ٹھوک کے اڑھائی سو سال کی چھلانگ لگائی اور عبداللہ ابن عباس سے پر پہنچادیا۔

یہ ایک اور جھوٹ ہے کیونکہ یحیٰ بن عبدالحمید نے یہ چھلانگ لگا کر روایت نہیں کری بلکہ ایک سند سے کری جو میں ادھر نقل کردیتا ہوں شیخ صدوق ؒ کی:

حدثنا محمد ابن ابراھیم بن اسحاق الطالقانی رضی اللہ عنہ، قال حدثنا عندالعزیز ابن یحیٰ الجلودی، قال حدثنا ابوعبداللہ احمد ابن عمار بن خالد، قال حدثنا یحیٰ ابن عبدالحمید الحمانی قال حدثنا عیسیٰ بن راشد، عن علی ابن خزیمہ، عن عکرمتہ عن ابن عباس

حوالہ: معانی الاخبار، صفحہ ۳۶۰، طبع قم، ۱۳۶۱ ہجری۔

حرف آخر

اللہ کا شکر ہے کہ ہمارا یہ مقالہ اختتام پذیر ہوا اور ہمیں قوی امید ہے کہ سائل کو اسکا جواب مل گیا ہوگیا اور خطبہ شقشقیہ کی سند میں کوئی کلام نہیں ہوگا۔


خاکپائے اہلبیت علیھم السلام
خیر طلب

تبصرے

نام

ابن ابی حدید,2,ابنِ تیمیہ,8,ابن جریر طبری شیعہ,1,ابن حجر مکی,2,ابن خلدون,1,ابن ملجم لعین,1,ابو یوسف,1,ابوسفیان,1,ابومخنف,1,اجماع,2,احمد بن محمد عبدربہ,1,اعلی حضرت احمد رضا خان بریلوی,7,افطاری کا وقت,1,اللہ,4,ام المومنین ام سلمہ سلام علیھا,2,امام ابن جوزی,1,امام ابو زید المروزی,1,امام ابوجعفر الوارق الطحاوی,2,امام ابوحنیفہ,17,امام احمد بن حنبل,1,امام الزھبی,2,امام بخاری,1,امام جعفر صادق علیہ السلام,3,امام حسن علیہ السلام,11,امام حسین علیہ السلام,21,امام شافعی,5,امام علی رضا علیہ السلام,1,امام غزالی,3,امام مالک,3,امام محمد,1,امام مہدی عج,5,امامت,4,امداد اللہ مکی,1,اہل بیت علیھم السلام,2,اہل حدیث,16,اہل قبلہ,1,آذان,2,آن لائن کتابوں کا مطالعہ,23,آیت تطہیر,1,بریلوی,29,بریلوی اور اولیاء اللہ کے حالات,2,بنو امیہ,2,تبرا,8,تحریف قرآن,6,تراویح,2,تقابل ادیان و مسالک,33,تقيہ,2,تکفیر,3,جنازہ رسول اللہ,1,جنگ جمل,4,جنگ صفین,1,حافظ مبشر حسین لاہوری,1,حدیث ثقلین,5,حدیث طیر,1,حدیث غدیر,7,حدیث قرطاس,1,حضرت ابن عباس رض,3,حضرت ابو طالب علیہ السلام,5,حضرت ابوبکر,20,حضرت ابوزر غفاری رض,1,حضرت ام اکلثوم سلام علیھا,2,حضرت خدیجہ سلام علھیا,1,حضرت عائشہ بنت ابوبکر,14,حضرت عثمان بن عفان,7,حضرت علی علیہ السلام,64,حضرت عمار بن یاسر رض,3,حضرت عمر بن خطاب,23,حضرت عیسیٰ علیہ السلام,4,حضرت فاطمہ سلام علیھا,16,حضرت مریم سلام علیھا,1,حضرت موسیٰ علیہ السلام,2,حفصہ بنت عمر,1,حلالہ,1,خارجی,2,خالد بن ولید,1,خلافت,10,دورود,1,دیوبند,55,رافضی,3,رجال,5,رشید احمد گنگوہی,1,روزہ,3,زبیر علی زئی,7,زنا,1,زیاد,1,زیارات قبور,1,زيارت,1,سب و شتم,2,سجدہ گاہ,3,سرور کونین حضرت محمد ﷺ,14,سلیمان بن خوجہ ابراہیم حنفی نقشبندی,1,سلیمان بن عبد الوہاب,1,سنی کتابوں سے سکین پیجز,284,سنی کتب,6,سولات / جوابات,7,سیرت معصومین علیھم السلام,2,شاعر مشرق محمد اقبال,2,شاعری کتب,2,شجرہ خبیثہ,1,شرک,8,شفاعت,1,شمر ابن ذی الجوشن لعین,2,شیخ احمد دیوبندی,3,شیخ عبدالقادرجیلانی,1,شیخ مفید رح,1,شیعہ,8,شیعہ تحریریں,8,شیعہ عقائد,1,شیعہ کتب,18,شیعہ مسلمان ہیں,5,صحابہ,18,صحابہ پر سب و شتم,1,صحیح بخاری,5,صحیح مسلم,1,ضعیف روایات,7,طلحہ,1,عبادات,3,عبدالحق محدث دہلوی,1,عبداللہ ابن سبا,1,عبدالوہاب نجدی,2,عرفان شاہ بریلوی,1,عزاداری,4,علامہ بدرالدین عینی حنفی,1,علمی تحریریں,76,علیہ السلام لگانا,1,عمامہ,1,عمر بن سعد بن ابی وقاص,1,عمران بن حطان خارجی,2,عمرو بن العاص,3,غزوہ احد,1,غم منانا,12,فتویٰ,4,فدک,3,فقہی مسائل,17,فیض عالم صدیقی ناصبی,1,قاتلان امام حسینؑ کا مذہب,6,قاتلان عثمان بن عفان,1,قادیانی,3,قادیانی مذہب کی حقیقت,32,قرآن,5,کالا علم,1,کتابوں میں تحریف,5,کلمہ,2,لفظ شیعہ,2,ماتم,3,مباہلہ,1,متعہ,4,مرزا بشیر احمد قادیانی,2,مرزا حیرت دہلوی,2,مرزا غلام احمد قادیانی,28,مرزا محمود احمد,2,مسئلہ تفضیل,3,معاویہ بن سفیان,25,مغیرہ,1,منافق,1,مولانا عامر عثمانی,1,مولانا وحید الزماں,3,ناصبی,22,ناصر الدین البانی,1,نبوت,1,نماز,5,نماز جنازہ,2,نواصب کے اعتراضات کے جواب,72,واقعہ حرا,1,وسلیہ و تبرک,2,وصی رسول اللہ,1,وضو,3,وہابی,2,یزید لعنتی,14,یوسف کنجی,1,Requests,1,
rtl
item
شیعہ اہل حق ہیں: خطبہ شقشقیہ کی صحت
خطبہ شقشقیہ کی صحت
خطبہ شقشقیہ کی صحت
شیعہ اہل حق ہیں
https://www.shiatiger.com/2014/04/blog-post_17.html
https://www.shiatiger.com/
https://www.shiatiger.com/
https://www.shiatiger.com/2014/04/blog-post_17.html
true
7953004830004174332
UTF-8
تمام تحریرں دیکھیں کسی تحریر میں موجود نہیں تمام دیکھیں مزید مطالعہ کریں تبصرہ لکھیں تبصرہ حذف کریں ڈیلیٹ By مرکزی صفحہ صفحات تحریریں تمام دیکھیں چند مزید تحریرں عنوان ARCHIVE تلاش کریں تمام تحریرں ایسی تحریر موجود نہیں ہے واپس مرکزی صفحہ پر جائیں Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS PREMIUM CONTENT IS LOCKED STEP 1: Share to a social network STEP 2: Click the link on your social network Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy Table of Content